’امیر لوگ اس ایک قسم کے لوگوں سے ہمیشہ ہر قیمت پر دور رہتے ہیں‘ دنیا کے امیر ترین لوگوں پر 5 سال تک تحقیق کرنے والے آدمی نے ایسی بات بتادی جو آپ کو بھی سوچنے پر مجبور کردے

’امیر لوگ اس ایک قسم کے لوگوں سے ہمیشہ ہر قیمت پر دور رہتے ہیں‘ دنیا کے امیر ...
’امیر لوگ اس ایک قسم کے لوگوں سے ہمیشہ ہر قیمت پر دور رہتے ہیں‘ دنیا کے امیر ترین لوگوں پر 5 سال تک تحقیق کرنے والے آدمی نے ایسی بات بتادی جو آپ کو بھی سوچنے پر مجبور کردے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے امیر ترین لوگوں کی عادات پر 5سال تک تحقیق کرنے والے مصنف نے ان امراءکی ایک ایسی قدرمشترک بتا دی ہے کہ جس کے بارے میں جان کر ہر کوئی اپنے رویے اور حالات میں تبدیلی لا سکتا ہے۔اس مصنف کا نام تھامس سی کورلے ہے۔ اس نے اپنی اس تحقیق پر مبنی کتاب میں لکھا ہے کہ ”تمام امیر افراد میں یہ ایک بات مشترک ہے کہ وہ قنوطیت پسند(مایوس رہنے والے) افراد سے حتی الامکان دور رہتے ہیں اور کسی بھی قیمت پر انہیں اپنے قریب نہیں آنے دیتے۔“یاہو ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق تھامس کورلے نے اپنی کتاب ”اپنی عادات بدلو، اپنی زندگی بدلو“(Change Your Habits, Change Your Life) میں لکھا ہے کہ ”تم اتنا ہی کامیاب ہو سکتے ہو جتنا وہ لوگ ہیں جن سے تم بکثرت ملتے ہو۔ امیر افراد ہمیشہ ایسے لوگوں کو اپنے اردگرد رکھنا پسند کرتے ہیں جو امید پرست، پرجوش اور مثبت سوچ کے حامل ہوں اور ان کی توجہ ہمیشہ اپنی منزل کے حصول پر رہتی ہو۔“

نابینا نوجوان جسے زندگی بھر لوگ دھتکارتے رہے، 50 کروڑ روپے کی کمپنی کا ملک بن گیا، ہمت اور حوصلے کی زندہ مثال بن گیا

رپورٹ کے مطابق تھامس کارلے مزید لکھتا ہے کہ ”میں نے جن امیر لوگوں پر تحقیق کی ان میں سے 86فیصد ایسے لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں جو خود کامیاب ہوں اور منفی ذہنیت کے لوگوں سے ہمیشہ دور رہتے ہیں۔میں نے اپنی تحقیق میں یہ دریافت کیا ہے کہ مثبت سوچ امیر افراد کا طرہ¿ امتیاز ہوتی ہے۔دیرپا کامیابی صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ مثبت ذہنیت کے مالک ہوں۔“ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ تھامس کارلے وہ پہلا مصنف نہیں ہے جس نے یہ انکشاف کیا ہے۔ آج سے ایک صدی قبل صحافی نپولین ہل نے بھی 500سیلف میڈ ارب پتی افراد پر ایک تحقیق کی تھی اور اس نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ان 500افراد میں سے واضح اکثریت مثبت سوچ کی حامل تھی اور اپنے دوستوں کے حلقے میں بھی مثبت سوچ والے افراد ہی کو شامل کرتی تھی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -