عجب پریم کی غضب کہانی، گوری خاتون ہزاروں میل دور بیٹھے نوجوان کے پیار میں دوڑی چلی آئی، ایک دوسرے کی زبان بھی نہیں آتی تو یہ ممکن کیسے ہوا؟ جان کر آپ بھی سوچتے رہ جائیں گے

عجب پریم کی غضب کہانی، گوری خاتون ہزاروں میل دور بیٹھے نوجوان کے پیار میں ...
عجب پریم کی غضب کہانی، گوری خاتون ہزاروں میل دور بیٹھے نوجوان کے پیار میں دوڑی چلی آئی، ایک دوسرے کی زبان بھی نہیں آتی تو یہ ممکن کیسے ہوا؟ جان کر آپ بھی سوچتے رہ جائیں گے

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)فیس بک کے ذریعے عجب پریم کی ایک اور غضب کہانی رقم ہو گئی۔ امریکہ سے ایک گوری بھارتی شہراحمد آباد کی ایک کچی آبادی کے رہائشی ہتیش چاوڈا سے ملنے ہزاروں میل کا سفر کرکے بھارت پہنچ گئی۔ باعث حیرت امر یہ ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کی زبان بھی نہیں آتی تھی، لیکن بھلا ہو ”گوگل ٹرانسلیٹر“ کا کہ اس نے دونوں کو فیس بک پر چیٹنگ کرنے اور ایک دوسرے کی بات سمجھنے میں مدد دی۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق 41سالی ایملی امریکی ریاست مونٹانا میں ہیلتھ کوارڈینیٹر کے طور پر کام کرتی رہی ہے۔ جب اس کی فیس بک پر 23سالہ ہتیش سے ملاقات ہوئی اور بات محبت تک جا پہنچی تو اس نے بھارت کا سفر کرنے کا فیصلہ کر لیا اور احمد آباد آ پہنچی۔

قیامت کی نشانی! سگے ماں اور بیٹے نے ایسا اعلان کر دیا کہ جان کر کوئی بھی توبہ پر مجبور ہو جائے

رپورٹ کے مطابق ہتیش کا کہنا ہے کہ ”ہم دونوں ایک دوسرے کی زبان نہیں سمجھتے تھے۔ لہٰذا میں ایملی کا پیغام کاپی کرکے گوگل ٹرانسلیٹر میں ڈالتا اور اسے ہندی میں ترجمہ کرکے پڑھتا، پھر اپنا جوابی پیغام ہندی میں لکھ کر ٹرانسلیٹر کے ذریعے انگریزی میں ترجمہ کرتا اور ایملی کو بھیج دیتا۔ ایملی بھی اسی طرح مجھے سے بات کرتی تھی۔بھارتی اخبار کے مطابق ایملی کے بھارت آنے پر دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مگر دیگر بھارتی والدین کی طرح پہلے ہتیش کے والدین بھی ایملی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے رہے لیکن جب انہوں نے دونوں کے پیار کو دیکھا تو انہیں شادی کی اجازت دے دی اور ایک مندر میں ہندوانہ رسم و رواج کے مطابق دونوں کی شادی کر دی گئی۔ ایملی کا کہنا ہے کہ ”مجھے ہتیش کی سادگی اور معصومیت سے پیار ہوا۔ اس نے کبھی مجھ سے کوئی چیز نہیں چھپائی، یہی وجہ ہے کہ میں نے اس سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔رپورٹ کے مطابق دونوں نے ہنی مون کے لیے امریکہ جانے کا پروگرام بنا رکھا ہے، لیکن اس کے بعد واپس بھارت آئیں گے اور یہیں مستقل طور پر رہیں گے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -