حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پیسے قرض لیکر دے رہی ہے: سینٹ کمیٹی میں انکشاف

حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پیسے قرض لیکر دے رہی ہے: سینٹ کمیٹی میں ...
حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پیسے قرض لیکر دے رہی ہے: سینٹ کمیٹی میں انکشاف

  

اسلام آباد (آئی این پی) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹیکس ماہرین سے مشاورت کے بعد ٹیکس سسٹم میں اصلاحات کے لائحہ عمل تیار کیا جائیگا، کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ٹیکس ماہرین نے کہا کہ ٹیکس سسٹم کی اصلاحات کی جائیں اور اس حوالے سے پارلیمنٹ کی نگرانی میں قومی حکمت عملی بنا کر اس پر عملدرآمد کرایا جائے، ملک کا ٹیکس سسٹم تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، حکومت پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے، انسانی ترقی میں پاکستان کا 172 واں نمبر ہے، شفاف اور مساو یانہ ٹیکس پالیسی بنانے کی ضرورت ہے اور ٹیکس انتظامیہ اور عملدرآمد میں شفافیت ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق مشیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ، ماہر اقتصادیات ثاقب شیرانی و دیگر نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں ماہرین کی جانب سے کمیٹی کو ملک کے ٹیکس سسٹم کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ سابق مشیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ ملک میں ٹیکس سسٹم کو بہتر کرنے کیلئے تمام سیاسی پارٹیوں اور اداروں سمیت پارلیمنٹ کو اس کو قومی مسئلہ کے طور پر حل کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ماہر اقتصادیات ثاقب شیرانی نے بریفنگ دیتے ہوئے کمیٹی کو آگاہ کیا ملک کو درپیش ضرورت کا ایک حصہ محصولات جمع کررہے ہیں۔ 0.24 فیصد پاکستانی ٹیکس فائلز کر رے ہیں، ایک ٹیکس فائلر 375 شہریوں کو سپورٹ کرتا ہے، ٹیکس انتظامیہ اور ٹیکس جمع کرنے کے حوالے سے اصلاحات کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ماہرین سے مشاورت کے بعد ٹیکس سسٹم کے حوالے سے سفارشات تیار کریں گے۔ ایف بی آر نے کہا کہ 9 ماہ میں 2105 ارب کا ہدف مکمل کر لیا ہے۔ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ادارہ شماریات کے سربراہ آصف باجوہ نے آگاہ کیا کہ مردم شماری کے حوالے سے 14.4 ارب کا فنڈز رکھا گیا تھا جس میں سے 1.9ارب خرچ کیا جا چکا ہے، مردم شماری کے حوالے سے ابھی تک کوئی نیا شیڈول طے نہیں ہوا۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پروگرام کا بجٹ 102ارب تھا جس میں سے 86 ارب حکومت کی فنڈنگ ہے۔ کمیٹی میں انکشاف کیا گیا کہ حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت دیئے جانے والے پیسے امداد دینے والے اداروں سے قرض لے کر تقسیم کر رہی ہے اور حکومت اس قرض کی رقم پر سود بھی ادا کر رہی ہے، پاکستان میں صرف 2.4فیصد لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں، پاکستان میں ٹیکس دہندگان کی تعداد دنیا میں بہت کم ہے، اوسطاً پاکستان میں ٹیکس دہندہ 18 ہزار روپے ٹیکس دیتا ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بینظیر انکم سورٹ پروگرام کے تحت مقامی فنانسنگ کے تحت حاصل کردہ فنڈز مستحقین میں تقسیم کئے جا رہے ہیں۔

مزید :

اسلام آباد -