این ٹی ڈی سی سربراہ کی نوازشیں، ڈیلی ویجز ملازمین گریڈ 17کے افسر بن گئے

این ٹی ڈی سی سربراہ کی نوازشیں، ڈیلی ویجز ملازمین گریڈ 17کے افسر بن گئے
این ٹی ڈی سی سربراہ کی نوازشیں، ڈیلی ویجز ملازمین گریڈ 17کے افسر بن گئے

  

لاہور (ویب ڈیسک) نیشنل ٹرانسمیشن اور ڈسپیچ کمپنی کے ہیومن ریسورس شعبے کے سربراہ نے بغیر میرٹ کے ڈیلی ویجز پر کام کرنے والوں کو گریڈ 17 میں افسر بناڈالا، خود بھی بغیر اخبار میں اشتہار دئیے اعلیٰ عہدے پر براجمان ہوئے لیکن وزارت پانی و بجلی نے جلد ہی ان کو ان کی اصل جگہ پر رہنے کے احکامات جاری کئے۔ اسی شعبے نے ریٹائرڈ افسروں کو ڈرائیور اور دوسری سہولیات بھی دے رکھی ہیں جس سے حقداروں کی حق تلفی ہورہی ہے۔ محکمہ کی انکوائری کمیتی نے بھی اتنا عرصہ گزرجانے کے باوجود کوئی رپورٹ مرتب کی نہ ہی شکایت کرنے والے ملازم کو جواب دینا گوارا کیا۔ این ٹی ڈی سی کے سینئر کلرک ٹیکنیکل سروسز گروپ محمود احمدنے اپنے تحقیقات پر مبنی ایک درخواست این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین کو ارسال کی جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ محکمہ کے سربراہ شیخ گلزار نے اپنے تئیں جی ایم کے عہدے پر بورڈ آف ڈائریکٹرز سے ترقی دلوائی جسے وزارت پانی و بجلی نے بروقت مداخلت کرکے کامیاب نہ ہونے دیا، شیخ گلزار نے اپنی بیٹی کو بھرتی کرنے کے لئے 9 اکتوبر 2015ءکو مطلوبہ پوسٹ کے ساتھ کچھ پوسٹیں ایم ڈی سے منظور کرواکے اپنی بیٹی کو بھرتی کرلیا۔ اس لاقانونیت پر پردہ ڈالنے کے لئے گریڈ 17 میں ہی پبلک ریلیشنز میں شوکت علی اور ام ارباب، پیپکو میں امتیاز احمد، این ٹی ڈی سی لیٹیگیشن میں سدرہ خالد، لیگل ایڈوائزر آفس میں صدف زہرہ کاظمی اور ای ایچ وی آئی این ٹی ڈی سی میں بلال بن اصغر ملازمتیں اور تعیناتیاں دیں، وزارت پانی و بجلی میں کچھ افسران کو غیر قانونی طور پر سرکاری افرادی قوت سے نوازا ہوا ہے۔ جن میں ایک جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر ظفر نصراللہ جن کا محکمہ پانی و بجلی سے بھی تعلق نہی ں کو تین سرکاری ڈرائیور، انیل مسیح، امید علی شاہ اور ذوالفقار، سابق ایم ڈی این ٹی ڈی سی رسول خاند محسود کو دوسرکاری ڈرائیور خالد حسین اور زاہد خان اور ایک عدد سکیورٹی گارڈ عزیز اللہ خان، اوبی اوڈی ممبر اسجد امتیاز کی بہن کو بھی سرکاری ڈرائیور آصف دیا ہوا ہے، یہی وجہ تھی کہ شیخ گلزار کو چند ماہ قبل وزارت پانی و بجلی نے ان کے عہدے سے ہٹاکر اچھی شہرت کے حامل سلیم شہزاد کو ان کی جگہ تعینات کیا تھا جس پر شیخ گلزار نے تقریباً پورا ایک ہفتہ اسلام آباد ڈیرے ڈال لئے تھے اور اثر و رسوخ کے بل بوتے پر بی او ڈی سے ایم ڈی کے لئے مبلغ چار لاکھ کیش اور ایک عدد مہنگا موبائل فون جس کی مالیت تقریباً نوے ہزار تھی اپنے اور کمپنی سیکرٹری کے لئے مبلغ تین لاکھ کیش اور ایک ایک مہنگا ترین موبائل فون بھی منظور کرایا۔ اس ضمن میں جب تعلقات عامہ کے افسر سے موقف کے لئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میرٹ سے ہٹ کر بھرتی کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

مزید :

لاہور -