چین نے امریکہ اور اس کے حامیوں کو ایک اور جھٹکا دے دیا، ایسی جگہ اپنے جنگی طیارے پہنچادئیے کہ بہت سے ممالک کی نیندیں اُڑادیں

چین نے امریکہ اور اس کے حامیوں کو ایک اور جھٹکا دے دیا، ایسی جگہ اپنے جنگی ...
چین نے امریکہ اور اس کے حامیوں کو ایک اور جھٹکا دے دیا، ایسی جگہ اپنے جنگی طیارے پہنچادئیے کہ بہت سے ممالک کی نیندیں اُڑادیں

  


بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) بحیرہ جنوبی چین کے متنازع جزیروں پر چین کی طرف سے مزید جنگی طیارے پہنچائے جانے کے بعد ان جزیروں کی ملکیت کے دعوے دار تائیوان، ویت نام اور ان کے ہمنوا امریکہ کے لئے صورتحال بہت پریشان کن ہو گئی ہے۔ فوکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق چین نے اس جزیرے پر مزید جنگی طیارے پہنچا دیئے ہیں اور وہاں نصب کیے گئے اپنے زمین سے فضاءمیں مار کرنے والے میزائل سسٹم کو بھی مضبوط کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ کے ذریعے7اپریل کو لی گئی تصویروں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چین کے 2شین ینگ جے 11لڑاکا طیارے اس متنازع جزیرے پر اتر رہے ہیں۔ بحیرہ جنوبی چین میں کئی جزیرے ہیں جن کی ملکیت متنازعہ ہے لیکن ان میں سب سے بڑا یہ جزیرہ ہے جس پر چین اپنی فوجی تنصیبات قائم کر چکا ہے اور امریکہ و دیگر ممالک کی مخالفت کے باوجود روز بروز انہیں مضبوط بنا رہا ہے۔

وہ مسلمان خاتون جس نے یورپ کو بڑی تباہی سے بچالیا، عین وقت پر ایسا کام کردیا کہ مغربی میڈیا بھی تعریف کرنے پر مجبور ہوگیا

رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ سے حاصل کی گئی تصاویر سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چین اس جزیرے پر ایک فائر کنٹرول ریڈار سسٹم بھی نصب کر چکا ہے۔ رواں سال فروری میں چین نے یہاں زمین سے فضاءمیں مار کرنے والا میزائل سسٹم نصب کیا تھا جو اس ریڈار سسٹم کی تنصیب کے بعد مکمل آپریشنل ہو جائے گا۔ چین 1950ءسے ان جزیروں کی ملکیت کا دعویٰ کر رہا ہے لیکن دوسری طرف تائیوان اور ویت نام بھی ان جزیروں کی ملکیت کے دعوے دار ہیں۔ امریکہ کو اس جزیرے پر چینی فوجی تنصیبات پر شدید تحفظات لاحق ہیں۔ امریکہ کا خیال ہے کہ اگر یہاں بنائی گئی چینی فوجی تنصیبات کی نگرانی نہ کی گئی تو آخرکار چین بحرجنوبی چین کا مکمل کنٹرول حاصل کر لے گا۔ سمندر کا یہ حصہ خاصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ سالانہ 5ہزار ارب ڈالر(تقریباً5ہزار کھرب روپے) کے تجارتی سامان اور پٹرولیم مصنوعات وغیرہ کی تجارت اسی راستے سے ہوتی ہے۔

مزید : بین الاقوامی