زمانہ قدیم کے انسانوں نے شادی کرنے کا رواج کیوں اپنایا؟ سائنسدانوں نے پیچھے چھپی ایسی وجہ بیان کردی کہ کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا

زمانہ قدیم کے انسانوں نے شادی کرنے کا رواج کیوں اپنایا؟ سائنسدانوں نے پیچھے ...
زمانہ قدیم کے انسانوں نے شادی کرنے کا رواج کیوں اپنایا؟ سائنسدانوں نے پیچھے چھپی ایسی وجہ بیان کردی کہ کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا

  


اوٹاوا(مانیٹرنگ ڈیسک) آج کا جدید انسان ایک ارتقائی عمل سے گزر کر اس دور تک پہنچا ہے۔ آج کی اقدار و روایات انسان کے آغاز سے ہی اس کے ساتھ نہیں ہیں بلکہ اس نے مختلف اوقات میں مختلف چیزوں سے سیکھ کر اپنے روئیے اور طرز زندگی میں بتدریج تبدیلیاں کیں۔ ان میں ایک رواج مردوخواتین کے شادی کرنے کا بھی ہے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر مردوخواتین کو شادی کے بندھن میں بندھ کر تمام عمر ایک ساتھ گزارنے کی تحریک کہاں سے ملی؟ اب سائنسدانوں نے اس سوال کا جواب دے دیا ہے اور اس جواب میں شادی کے بے بہا فوائد بھی پنہاں ہیں۔برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”ممکنہ طور پر انسانوں میں شادی کا رواج جنسی بے راہروی سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچنے کے لیے پڑا۔“ یک زوجیت کی عادت صرف 3فیصد دودھ پلانے والے جانوروں میں پائی جاتی ہے جن میں انسان بھی شامل ہے، اور سائنسدان اس پر تحقیق کر رہے تھے کہ انسان میں یہ عادت کب اور کیسے آئی۔

’پانی نہیں ہے تو دلہن بھی نہیں ملے گی‘

کینیڈا کے صوبے اونٹیریو کی یونیورسٹی آف واٹر لوکے سائنسدانوں نے اپنی اس تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ”زمانہ قدیم میں انسان شکاری گروپوں کی شکل میں رہتے تھے اور جنسی عمل کی کوئی قید و بندش نہیں تھی، یہی وجہ ہے کہ وہ سوزاک و دیگر جنسی امراض میں اکثر مبتلا ہوجاتے تھے۔ممکنہ طور پر ان بیماریوں سے بچنے کے لیے ان میں شادی کرنے اور خود کو ایک ہی شریک حیات تک محدود رکھنے کا رجحان پیدا ہوا۔“رپورٹ میں سائنسدانوں نے مزید لکھا ہے کہ ”ہمارے آباﺅاجداد نے 12ہزار سال قبل تک فصلیں اگانی شروع نہیں کی تھیں اور وہ شکار پر ہی گزارہ کرتے تھے۔ جب انہوں نے فصلیں اگانی شروع کیں اور ایک جگہ قیام کی عادت اپنائی تو وہ ایک ساتھ ہی سوتے تھے جس سے ان میں یہ بیماریاں پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ تھا۔ یہیں سے ان میں شادیاں کرنے کے رواج کی ابتداءہوئی۔“

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر کرس باﺅچ کا کہنا تھا کہ ”انسان کے کھیتی باڑی کی طرف راغب ہونے پر ان میں زیادہ تعداد میں ایک جگہ پرمستقل رہنے کا رجحان پیدا ہوا۔ اس دوران مردو خواتین میں شریک حیات کی تمیز نہ ہونے کے باعث بیماریاں پھیلنے لگیں اور خواتین کی افزائش نسل کی صلاحیت متاثر ہونے لگی اور مرد بھی طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے۔ لہٰذا انہوں نے ماضی کے ایک سے زائد شریک حیات رکھنے کے رواج کو ترک کرکے یک ازواجی روئیے کی طرف بتدریج سفر شروع کیا اورمردوعورت کے ایک دوسرے سے وفاشعار رہنے اور عمر بھر کے اس تعلق کو پائیدار بنانے کے لیے شادی جیسا بندھن معرض وجود میں آیا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس