چینی امپورٹر اومیسم عضو کے 200 کنٹینر پاکستان سے خریدینگے: شاہ فیصل آفریدی

چینی امپورٹر اومیسم عضو کے 200 کنٹینر پاکستان سے خریدینگے: شاہ فیصل آفریدی

لاہور( کامرس رپورٹر) پاک چین جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شاہ فیصل آفریدی نے بتایا ہے کہ گائے اور بھینسوں کے معدہ کے ساتھ جڑ ے اومیسم نامی ایک عضو کی چین میں اس قدر ڈیمانڈ ہے کہ ایک چینی امپورٹر نے مذکورہ عضو کے ماہانہ 200 کنٹینر پاکستان سے خریدنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ بات انہوں نے چین کی کمپنی جنان انٹرنیشنل ٹریڈنگ کمپنی کے چیئرمین مسٹر جارج سن سے ملاقات کے بعد اپنے ایک بیان میں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ اومیسم کی ایک بڑی مقدار اس وقت بھی پاکستان سے برآمد کی جارہی ہے لیکن بین الاقوامی معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث اس کی قیمت بے حد کم لگتی ہے کیونکہ اس وقت اومیسم چین کو خام حالت میں برآمد کیا جا رہا ہے لیکن اگر اسے مخصوص پروسیسنگ یونٹس کے تحت ویلیوایڈیشن کے بعد برآمد کیااجائے تو یہی اومیسم پاکستانی معیشت میں سونے کی حیثیت لے سکتا ہے۔شاہ فیصل آفریدی نے بتا یا کہ جارج سن اس وقت پاکستان سے اومیسم چین برآمد کر رہے ہیں اور اس سال اُن کا ارادہ پاکستان سے ماہانہ 200 کنٹینرز برآمد کرنے کا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اومیسم ضائع کر دیا جاتا ہے مگر چین میں اس کی بے انتہاء غضائی اور طبی اہمیت ہے۔اُنہوں نے کہا کہ چین میں اومیسم کو ادویات بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے ۔جارج سن کے مطابق چین میں خوراک کے طور پر گوشت کے استعمال میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ چینی عوام سبزی اور چاولوں سے ہٹ کر گوشت سے بنے کھانے کو پسند کرنے لگے ہیں لیکن محض 14فیصد زمین قابل کاشت ہونے کے باعث اور پانی اور چارے کی قلت کی وجعہ سے چین اپنی اس ضرورت کو پورا نہیں کر پارہا ۔

اور بیرونی ممالک سے کثیر مقدار میں گوشت برآمدکررہا ہے۔او ر اس ضمن میں پاکستان کو خاص اہمیت دے رہا ہے۔ اس وقت چین برازیل،ویت نام اور آسٹریلیاء سے گوشت برآمد کر رہا ہے جن کو اس مانگ کو پورا کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔اُنوں نے کہا کہ اس مسابقتی کاروباری ماحول میں پاکستان کے لئے گوشت کی صنعت کو وسیع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں اور اس وقت چین بھی پاکستان سے گوشت درآمد کرنے کیلئے خواہشمند ہے۔ فیصل آفریدی نے کہا ہے کہ چینی عوام کا خوراک میں گوشت کی جانب رجحان پاکستان کیلئے نہائت حوصلہ افزاء ہے۔اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں گوشت کی صنعت میں بھی دن بہ دن بہتری آرہی ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ 2010-2011کے دوران پاکستان نے108.54ملین امریکی ڈالر مالیت کا گوشت برآمد کیا جو کہ 2013-14 کے دوراں 123.14 ملین امریک ڈالرکی مالیت تک تجاوز کر گیا۔فیصل آفریدی نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں فوڈ انڈسٹری کو بھی ترقی دی جائے اور مویشیوں کی دیکھ بھال اور خوراک کے نظام کو تسلی بخش بنایا جائے ۔فیصل آفریدی نے بتایا کہ پاکستان مویشیوں کی آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دسواں بڑا ملک ہے جہاں ہر سال 180ملین مویشی پیدا ہو رہے ہیں ۔۔اس کے علاوہ بھیڑ بکریوں کی چار درجن سے زائد کی موجودگی پاکستان کو بکرے کے گوشت کی پیداوار کے لحاظ تیسرے بڑے ،لک میں شمار کرتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ محدود وسائل اور ٹیکنالوجی کی عدم موجودگی کے باعث گوشت کی برآمدات ابھی تسلی بخش نہیں۔

مزید : کامرس