کماد کی فصل سے بروقت جڑی بوٹیوں کا خا تمہ پیداوار میں اضافے کا باعث ہے،زرعی ماہرین

کماد کی فصل سے بروقت جڑی بوٹیوں کا خا تمہ پیداوار میں اضافے کا باعث ہے،زرعی ...

  

لاہور(اے پی پی )کاشتکار کماد کی فصل سے بروقت جڑی بوٹیوں کو ختم کرکے پیداوار میں اوسطاً 10سے35 فیصد تک اضافہ کرسکتے ہیں ۔زرعی ماہرین کے مطابق جڑی بوٹیاں بہت سے ضرر رساں کیڑوں اور بیماریوں کے میزبان پودوں کے طور پر بھی کام کر تی ہیں۔ جڑی بوٹیوں کے پودوں کی جڑوں سے مختلف کیمیائی اجزاء بھی نکلتے ہیں جو کماد کے پودوں کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اٹ سٹ، باتھو، کرنڈ، لہلی، بھکڑا، جنگلی پالک، چولائی، چبھڑ، مینا، ہزاردانی، ماکڑو، گندل بوٹی، گاجر بوٹی، درانک، دریائی بوٹی، بکن بوٹی، لیدھڑا، برو، مکو اور پارتھینیم وغیرہ چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیاں جبکہ کھبل، مدھانہ، سوانکی، بانسی گھاس، کلر گھاس،لومڑ گھاس اور موٹی کھبل وغیرہ گھاس خاندان کی جڑی بوٹیاں اور ڈیلا یا مورک ، گھوئیں اور بھوئیں وغیرہ ڈیلا خاندان کی جڑی بوٹیا ں ہیں۔

ان جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے فصل میں جڑی بوٹی مار زہروں کے دو سپرے کیے جائیں اور جب فصل 100تا 110دن کی ہوجائے تو اس وقت مٹی چڑھا دی جائے تو بیشتر جڑی بوٹیوں کی تلفی کا عمل مکمل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہمارچ میں کاشتہ کماد کی فصل میں پہلے سپرے کیلئے ایمازین + ایٹرازین زہروں کا 800ملی لٹر فی ایکڑ استعمال کریں۔ ڈیلا جیسی سخت جان جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے ہالو سلفیوران زہر بحساب 20 گرام فی ایکڑ 100لٹر اور اٹ سٹ کی تلفی کیلئے ایٹرازین38 فیصد بحساب ایک لٹر 100لٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔ انہوں نے کہاکہ ترقی پسند کاشتکار جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے نہ صرف جڑی بوٹی مار زہروں کا استعمال کریں بلکہ گوڈی کا سہارا بھی لیں۔انہوں نے کہاکہ آخری گوڈی کے بعد رجر کے ذریعے کماد کے پودوں کے ساتھ مٹی چڑھا دی جائے ۔

مزید :

کامرس -