اسمگلنگ دیمک کی طرح ہماری معیشیت کو چاٹ رہی ہے: صدر راولپنڈی چیمبر

اسمگلنگ دیمک کی طرح ہماری معیشیت کو چاٹ رہی ہے: صدر راولپنڈی چیمبر

راولپنڈی( کامرس ڈیسک)ایوان صنعت و تجارت راولپنڈی کے صدر میاں ہمایوں پرویز نے کہا ہے کہ اسمگلنگ دیمک کی طرح ہماری معیشیت کو چاٹ رہی ہے پڑوسی ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں اسمگل اشیاء کی بہتات ہے حکومت کو چایئے کہ وہ سرحدوں پر نگرانی کے نظام کو موثر بنائے پاکستان میں ہر سال تقریبا اڑھائی ارب ڈالر کی اسمگلنگ ہو تی ہے جس نہ صرف قومی خزانے پر محصولات کی مد میں برا اثر پڑتا ہے بلکہ یہ مقامی صنعت کو پستی کی طرف دھکیل دیتی ہے صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو تا ہے موبائل فونز، گاڑیوں کے ٹائر، ڈیزل، چائے، آٹو پارٹس، الیکٹرانکس، پلاسٹک، اسٹیل کی شیٹس اور کپڑے کی اسمگلنگ سر فہرست ہے زیادہ تر اسمگلنگ سمندر کے راستے یا افغان سرحد سے ہوتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سرحدوں پر نگرانی کا جدید اور موثرنظام لائے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسمگلنگ ختم ہو جائے تو ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں چار سے آٹھ فیصد کی بہتری لائی جاسکتی ہے

مزید : کامرس