ملک میں جعلی بی ٹی کاٹن کی کاشت کو روکنے کیلئے موثر قانون کی کمی

ملک میں جعلی بی ٹی کاٹن کی کاشت کو روکنے کیلئے موثر قانون کی کمی

  

فیصل آباد (آن لائن) ملک میں جعلی بی ٹی کاٹن کی کاشت کو روکنے کیلئے موثر قانون نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر علاقوں میں اس کی کاشت جاری ہے یہی وجہ ہے کہ ماضی کے مقابلہ میں 40فیصد پیداوار کم ہونے سے معیشت کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ، بھارت نے ہائی بریڈ کاٹن میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کرکے پیداوار کو 36ملین گانٹھوں تک پہنچا دیا ہے جبکہ پاکستان کی پیداوار گزشتہ دو عشروں سے جمود کا شکار ہے ،ملک میں آئل سیڈ کراپس کی کاشت کو رواج دے کر خودرنی تیل کی درآمد پر اُٹھنے والے 300ارب روپے کی سالانہ بچت ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ ایک کلو گرام چاول کی کاشت پر 4ہزار لٹرپانی آبپاشی کی صورت میں لگادینا کسی صورت بھی قومی مفاد میں نہیں ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ کئی ارب ڈالر مالیت کے پانی سے 200ارب روپے مالیت کے برآمدی چاول کی کاشت کوروکتے ہوئے ایسے علاقوں میں کاشتکاروں کی توجہ کینولہ‘ مکئی‘ تربوز اور دوسری اجناس کی جانب مبذول کروائی جائے۔ یہ باتیں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقراراحمد خاں نے طارق نجمی کی قیادت میں نیشنل مینجمنٹ کالج لاہور کے 21ویں سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء کے دورہ یونیورسٹی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ ڈاکٹر اقرار احمد خا ں نے کہاکہ ملک میں پانچ لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر 25سے زائد بیجوں کا حامل کینو کاشت کیا جا رہا ہے تاہم باغات پرانے ہونے کی وجہ سے پودے بھی بیماری یا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں لہٰذا انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی طرف سے صوبے میں زراعت کی ترقی کے میگا پروگرام میں کینو کاشت کے علاقوں میں پرانے باغات کے تمام پودوں کو کاٹ کر ان پر سیڈلیس کینوکی پیوند کاری کی سفارش کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ نئے باغات میں پودوں پر تین سال تک پھل نہ آنے کی وجہ سے کاشتکاروں کو سبسڈی فراہم کی جائے۔

انہوں نے کہاکہ اگر مزید بارش نہ ہوئی تو حکومتی اہداف کے مقابلہ میں 2ملین ٹن زائد گندم پیدا ہونے کی توقع ہے۔۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایگریکلچرل سائنسز میں دنیا کی نمبرون یونیورسٹی کیلی فورنیا ڈیوس زرعی تحقیق پر سالانہ 400ارب روپے خرچ کر رہی ہے جبکہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں تحقیقاتی منصوبوں کا مجموعی بجٹ 2ارب روپے سے زائد نہ ہے۔ انہوں نے الیکٹرانک میڈیا پر زور دیا کہ کارپوریٹ سوشل ذمہ داریوں کے ضمن میں قومی معیشت کے بنیادی شعبہ زراعت کو ٹائم دیا جانا چاہئے تاکہ اس زرعی ترقی سے ملکی معیشت میں بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ماہ یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے میلہ مویشیاں و اسپاں کے دوران ملکی سطح پر جانوروں میں دودھ کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں اور ایک گائے نے 60لٹر‘ بھینس نے 30جبکہ ایک بکری نے 09لیٹر دودھ دے کر قومی ریکارڈ قائم کئے ہیں تاہم ملک میں فی جانور دودھ کی اوسط پیداوار3لٹر سے زائد نہ ہے اور یونیورسٹی جانوروں میں ایسے مقابلہ منعقد کروا کر ٹیکنالوجی کو دوسرے جانور پالنے والوں تک پہنچا رہی ہے۔ بعد ازاں پرنسپل آفیسر تعلقات عامہ ڈاکٹر محمد جلال عارف نے سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکاء کو یونیورسٹی کی مختلف تجربہ گاہوں‘ فیلڈز اور جاری تحقیقی منصوبوں کا دورہ بھی کروایا۔

مزید :

کامرس -