دارالا مان گوجرانوالہ میں خواتین کا سالانہ ’’ میلہ‘‘

دارالا مان گوجرانوالہ میں خواتین کا سالانہ ’’ میلہ‘‘
دارالا مان گوجرانوالہ میں خواتین کا سالانہ ’’ میلہ‘‘

  

مملکت خداداد میں 52فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ اس بات پر سبھی کا اتفاق ہے کہ اگر خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ ملکی ترقی میں حصہ نہ ڈالا تو وطن عزیز کو ایشین ٹائیگر بنانے کا خواب کبھی شرمندۂِ تعبیر نہ ہو پائے گا۔ خواتین کو بھی وہ تمام مواقع مہیا کر نے ازحد ضروری ہیں جومردوں کو میسر ہیں تا کہ وہ بھی ایک کارآمد شہری کی طرح مُلک کی تعمیرو ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے فرمودات کی روشنی میں ہمیں وہ تمام اقداما ت اُٹھانا ہوں گے،جو خواتین کو مردوں کے برابر کھڑا کر کے کام کر نے کے مواقع میسر کر سکیں، با لخصوص نبی آخرالزماںﷺ کی تعلیمات کو بھی مد نظررکھاجائے تو ہمیں خواتین کو وہ تمام حقوق دینا ہوں گے جو ہم صرف مردوں کا استحقاق سمجھتے چلے آرہے ہیں۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میڈیا کی آزادی کے بعد خواتین کے حقوق پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ اگر چہ ہم خواتین کی آزادی اور ان کے حقوق کی پاسداری کے علم بردار ہیں، مگراس مادر پدر آزادی کے حق میں نہیں جو اسلامی روایات اور معاشرتی اقدارکے منافی ہو۔اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ خواتین کے کردار کے بغیر کوئی بھی معاشرہ تعمیر و ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا ۔یہ الگ بات کہ خواتین کا کردار صرف مثبت اور تعمیری ہی ہونا چاہئے۔اسلام نے خواتین کے جو حقوق مقرر کر دئیے ہیں، ان میں اگر کسی قسم کی کمی کرنا جرم ہے تو کوئی بیشی کرنا بھی بذات خود ایک مجرمانہ فعل ہے،۔ لہٰذا اسلام نے خواتین کو حقوق دینے کے لئے جو زاویے مقرر کئے ہیں ،انہی پر عمل درآمد کر لیا جائے تو کافی ہے، ان کی موجودگی میں کسی قسم کا بھی ’’ حقوق نسواں بل‘‘ در حقیقت اسلامی تعلیمات کے ہی نہیں، بلکہ خواتین کے حقوق کے ساتھ بھی ایک مذاق ہے ۔خیر اس ساری تمہید کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ گزشتہ دِنوں گوجرانوالہ کے ’’دارالامان‘‘ میں خواتین کے سالانہ ’’ میلے ‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد گھر اور سماج سے کٹی ہوئی خواتین کے لئے تفریح کے ساتھ ساتھ ان کی تر بیت کا اہتمام کرنا بھی ہوتا ہے ، لہٰذا اس مقصد کے حصول کے لئے ’’ دارالامان‘‘ گوجرانوالہ کی منتظمہ محترمہ حنا بخاری نے رنگا رنگ پروگراموں کا انعقاد کر رکھا تھا ۔ ’’ دارالامان‘‘ میں موجود خواتین کی تعمیر سیرت کے لئے لیکچرز کے علاوہ ایک خصوصی کھیل کا بھی انعقاد کیا گیا تھا۔

’’ روشنی ‘‘ کے نام سے پیش کیا جانے والا یہ خصوصی کھیل اس حوالے سے ایک منفرد کھیل تھا کہ نہایت مختصر وقت میں کھیل کے فنکاروں نے نہایت عمدہ انداز میں خواتین کے مسائل کو نہ صرف اُجاگر کیا اور ان معاشرتی ظلموں اور زیادتیوں کی نشاندہی کی جن کی وجہ سے معاشرہ ناہمواریوں کا شکار ہو کر زبوں حالی کا شکار ہو جاتا ہے، بلکہ اپنے اپنے انداز میں ان تمام برائیوں کے تدارک کے لئے حل بھی پیش کئے۔اس خصوصی کھیل کے مرکزی کرداروں ڈاکٹر اعجاز بیگ اور زبیر حسین مغل نے نہ صرف اپنی عمدہ اداکاری کے کھل کر جوہر دکھائے، بلکہ اپنے فن کے ذریعے حاظرین کو اس انداز سے پیغام دیا کہ ہال میں مو جود تمام لوگ ان کی بے ساختہ اداکاری سے محظوظ ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے ان دو بڑے فنکاروں نے اپنی جاندار اداکاری کے ذریعے جب چاہا حاظرین کو ہنسایا اور جب چاہا رلایا ۔اس خصوصی کھیل کے اختتام پر تو شاید ہی کوئی آنکھ ایسی ہوگی جو ان دو فنکاروں کی اداکاری کی وجہ سے اشکبار نہ ہوئی ہوگی۔اس کھیل کے دیگر فنکاروں شہباز کنول ،رینا خان،ساغر کاشمیری ،رضوان مغل، علی رضا، افضاء وکی اور سامعیہ نے بھی اپنے کرداروں کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا ۔ہال میں موجود حاظرین فنکاروں کی بے ساختہ اور عمدہ اداکاری پر کھل کر داد دیتے رہے۔

’’دارالامان‘‘ کی ایڈوائزری کمیٹی گوجرانوالہ کے ممتاز صنعتکاروں پر مشتمل ہے، ان میں حاجی محمد انور، حاجی یونس ڈار، میر محمد جمیل ، خواجہ شجاع اللہ ،بیگم رشد ہ امان اللہ، حاجی نذیر احمد، ڈاکٹر افتخار احمد نوراور ڈاکٹر سائرہ منظور شامل ہیں۔ ان افراد کو شہر کی اہم سماجی اور صنعتی شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔حاظرین میں ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفیئرڈیپارٹمنٹ رانا محبوب احمد ، محترمہ رینا سرور ،شکیل احمد باجوہ اور اس تقریب کے روح رواں احسان خان چیئرمین ’’پرورش‘‘ فاؤنڈیشن شامل تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض گوجرانوالہ کی ہونہار طالبہ فاخرہ انجم نے طریقِ بہ احسن سر انجام دیے ۔ اگرچہ یہ تقریب ’’ دارالامان‘‘ گوجرانوالہ کی چار دیواری کے اندر تک محدود تھی ، مگر اس کا شمار شہر کی بڑی تقریبات میں کیا جا سکتا ہے ۔ سپرنٹنڈنٹ ’’دارالامان‘‘ گوجرانوالہ محترمہ حنا بخاری اور ان کی پور ی ٹیم مس روبینہ یاسمین، مس انیلا شہزادی ، مس طیبہ رانی ، مس رسول بی بی ،رشید احمد ، رانا مطیع اللہ اور محمد بشیر احمد اس پروقار اور موثر تقریب کے انعقاد پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ مَیں نے اس تقریب سے جو بات سیکھی، وہ یہ ہے کہ اگر ہم اپنی خواتین کو ان کے حقوق نبی آخرالزمانﷺ کے ارشادات کے مطابق گھر کی دہلیز پر ہی دے دیں تو پھر مُلک میں ان کے لئے الگ سے ’’دارالا مان ‘‘ جیسے مراکز قائم کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

مزید :

کالم -