پانامہ لیکس نے تہلکہ مچا دیا

پانامہ لیکس نے تہلکہ مچا دیا
پانامہ لیکس نے تہلکہ مچا دیا

  


ایسی رپورٹس (پانامہ لیکس) سامنے آئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ وزیراعظم اور اُن کے فیملی ممبران کے پاس بہت سا کالا دھن ہے اور انہوں نے یہ کالا دھن دنیا کے مختلف بینکوں میں رکھا ہوا ہے اور باہر ہی انتہائی قیمتی جائیدادیں بھی خرید رکھی ہیں۔ کالا دھن بنانے والوں کی فہرست میں اگرچہ دنیا کے بیشتر ممالک کے اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز کئی معروف شخصیات بھی شامل ہیں ،لیکن ہمیں اُن سے کیا لینا دینا۔ ہمیں تو اپنے اکابرین سے سروکار ہے۔ الزام چھوٹا نہیں ہے ،اس سے پہلے بھی بیرونی بینکوں میں اربوں کی رقوم رکھنے کے الزامات چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے آصف علی زرداری اور نواز شریف پر لگائے جاتے رہے ہیں جن کا نواز شریف یا اُن کے کسی ترجمان کی جانب سے کبھی کوئی مثبت، ٹھوس اور واضح جواب سامنے نہیں آیا، البتہ بعض حکومتی شخصیات کی جانب سے بیان بازی ضرور ہوئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید بھی حکومت کے سپوک پرسن کی حیثیت سے تردیدی بیان دیتے رہے ہیں۔نواز شریف کے بڑے فرزند حسین نواز نے بھی ایک ٹی وی چینل کے ’’ٹاک شو‘‘ میں اس موضوع پر ہوسٹ کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے شریف فیملی کا مؤقف پیش کیا۔ شاید کچھ لوگوں کو اُن کی باتوں پر یقین آیا ہو اور کچھ کو نہیں، لیکن عام روایت اور پریکٹس یہی ہے کہ دوسرے کے مؤقف کو غلط اور اپنے مؤقف کو درست اور صحیح ثابت کرنے کے لئے ہمیشہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے، جہاں ’’ٹرائل‘‘ کے بعد فیصلہ ہو جاتا ہے کہ کون اپنے مؤقف یا الزام میں صحیح ہے اور کون نہیں؟

قوم کے لئے حیران کن امر یہی ہے کہ نواز شریف یا اُن کے فیملی ممبران پر ’’کالا دھن‘‘ ملک سے باہر رکھنے کا الزام غلط ہے تو وہ ایسے لوگوں کے خلاف عدالتی کارروائی کیوں نہیں کرتے۔ ایسا کرنے سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکتا ہے۔مسئلہ اتنا آسان نہیں کہ چھوڑ دیا جائے۔ ملک سے باہر اثاثے بنانا یا رکھنا جرم نہیں، لیکن اگر الزام یہ ہو کہ تمام اثاثے کالے دھن سے بنائے گئے ہیں اور اگر اثاثے آئینی ہیں تو انہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان یا انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں گوشوارے جمع کراتے وقت ظاہر کیوں نہیں کیا گیا۔ مَیں ہمیشہ ہی سے نواز شریف کا خیر خواہ رہا ہوں۔ وہ اس وقت ملک کے منتخب وزیراعظم ہیں۔ لوگوں نے انہیں بھاری مینڈیٹ دیا ہے۔ وہ تیسری بار وزیراعظم کے اعلیٰ عہدے پر براجمان ہوئے ہیں، لیکن اگر میاں صاحب یا اُن کی فیملی نے اپنے اوپر لگنے والے ان الزامات کی ٹھوس طریقے سے وضاحت نہ کی اور صفائی کے لئے کوئی آئینی پوزیشن نہ لی تو وثوق سے کہتا ہوں کہ اُن کی سیاسی حیثیت نہ صرف متاثر ہو گی، بلکہ 2018ء کے جنرل الیکشن اُن کی سیاسی موت کا پروانہ لے کر آئیں گے۔

میٹرو اور اورنج لائن منصوبوں پر پہلے ہی تنقید ہورہی ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے اربوں روپے کی کرپشن کا الزام پنجاب حکومت پر لگایا جا رہا ہے۔ دیگر کئی میگا پراجیکٹس پر بھی اپوزیشن جماعتوں کا یہی مؤقف ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اربوں کی کرپشن کی گئی ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہو جاتا ہے کہ الزام لگانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے۔ حکومت خود بھی اس میں کھڑی ہو جائے اور خود کو ہر طرح کے احتساب کے لئے پیش کرے۔ 2018ء کے الیکشن سے پہلے انتہائی ضروری ہوگیا ہے کہ حکومت کرپشن کے تمام الزامات سے بری ہو جائے۔ بری ہونے کے لئے صحیح آئینی فورم استعمال کرے۔ صرف تردیدی بیانات یا سپوک پرسن کی وضاحتوں سے کچھ نہیں ہو گا۔پانامہ لیکس اسکینڈل کے حوالے سے بالآخر وزیراعظم نواز شریف کو میڈیا پر آنا اور قوم سے خطاب کرنا پڑا۔ اگرچہ اُن کا خطاب بہت مختصر تھا۔ انہوں نے اپنی بیٹی اور بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کی آف شور کمپنیوں میں شراکت اور ملکیت کے پس منظر میں گفتگو کی اور ساتھ ہی یہ کہا کہ وہ تمام معاملے کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک جوڈیشل کمیشن کے قیام کا بھی اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگانے والوں کو دعوت دی کہ وہ اس کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنے الزامات پیش کریں اور ثابت بھی کریں، تاہم پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے نہ صرف وزیراعظم کے اس خطاب کو مسترد کیا، بلکہ جوڈیشل کمیشن کی بھی مخالفت کر دی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے کسی سرونگ جج کی سربراہی میں معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

قومی اسمبلی میں بھی اس موضوع پر بحث شروع ہو چکی ہے۔ پنجاب اسمبلی میں بھی شور مچایا جا رہا ہے۔ شیخ رشید کے ہاتھ بات لگ جائے تو معاف نہیں کرتے، وہ بھی شور مچانے والوں میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ نواز شریف کے لئے بہتر راستہ یہی ہے کہ اگر وہ معاملے کو سلجھانے میں سنجیدہ ہیں تو اپوزیشن جماعتوں کی آراء کو سامنے رکھیں۔ غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لئے ایسا قدم اٹھائیں کہ جس پر نہ صرف تمام اپوزیشن جماعتوں ،بلکہ پوری قوم کو اعتماد ہو، وہ سب مطمئن ہو سکیں۔ ایسا نہ ہوا تو حالات خراب ہو سکتے ہیں۔ یقیناًنواز شریف کی سیاست کے لئے یہ ایک بُرا وقت ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ لوگ چند دنوں، چند ہفتوں یا چند مہینو ں میں سب کچھ بھول جائیں گے، شاید اور بہت کچھ بھول جائیں، لیکن اپوزیشن والے قوم کو کبھی یہ نہیں بھولنے دیں گے۔ جب جب مناسب مواقع آئیں گے، وہ قوم کو یاد دلائیں گے کہ نواز شریف اور اُن کے فیملی ممبران نے قوم کے ساتھ کیا ہاتھ کیا ہے۔ بڑے دکھ اور کرب کے ساتھ یہ کالم تحریر کر رہا ہوں، لیکن اپنی یہ امید بھی نہیں توڑنا چاہتا کہ نواز شریف اس سلسلے میں ضرور کچھ کریں گے۔ ورنہ اُن کے کروڑوں عقیدت مندوں اور چاہنے والوں کو شکایت ہو گی۔ اتنی تکلیف جس کا وہ اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔

مزید : کالم