میرا لاہور نکھر گیا!

میرا لاہور نکھر گیا!

مکرمی!گزشتہ دنوں یہ صدا سنائی دی کہ لاہور اورنج لائن میٹروٹرین منصوبہ شہر کا حسن تباہ کررہا ہے اورلاہور جو باغوں کا شہر مانا جاتا تھا اب کھنڈر میں تبدیل کیا جارہا ہے جبکہ میرے نزدیک صورتحال قدرے مختلف ہے۔ میٹروٹرین کے آغاز کی بدولت لاہور ایک طرف دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں اپنا نام بنانے جارہا ہے جبکہ دوسری جانب شہر کو جدت اور خوبصورتی کے اعتبار سے بھی نکھارا جارہا ہے۔ لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی تکمیل کے لئے 620 درختوں کو کاٹا گیا ہے لیکن وہیں6200 پودے لگا کر لاہور کو پہلے کی نسبت کہیں زیاد سرسبزوشاداب بنایا جائے گا۔شہر کی خوبصورتی اور ہریالی کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تین نئے فارسٹ پارک بنائے جارہے ہیں جو زندہ دلان لاہور کے لئے مسرت وتفریح کا سامان کریں گے۔آج کا لاہور ماضی کے لاہور سے کئی درجے بہتر ہے۔پنجاب حکومت کی محنت اور پنجاب ہارٹی کلچر اتھارٹی کی کوششوں سے لاہور پھولوں کی سیج بن چکا ہے۔مال روڈ،ارفع سافٹ وئیر ٹیکنالوجی پارک،لبرٹی اور مین بلیووارڈ پر ہونے والی پھولوں کی سجاوٹ جنت نظیر منظر پیش کرتی ہے۔

پنجاب حکومت نہ صرف موجودہ مقامات کو سرسبزبنانے کے لئے اقدامات کررہی ہے بلکہ جلو پارک میں بٹر فلائی پارک اور عالمی معیار کا ٹوپاریز پارک تعمیر کیا جارہا ہے جہاں شہری سیروتفریح کے لئے رخ کریں گے۔اس ضمن میں اٹھایا جانے ایک اور اہم اقدام سڑک کے کنارے16,979 درختوں کی شجرکاری مہم ہے جس میں کھیرا پل تا ٹھوکر نیاز بیگ فی ایکڑ44 درخت لگائے جائیں گے۔لہذا یہ کہنا کہ لاہور کھنڈر بن رہا ہے ، درست نہیں۔ہمارا پیارا لاہور ہر اعتبار سے خوشحالی کی طرف بڑھ رہا ہے۔حکومت پنجاب کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی بدولت لاہوراب حقیقی معنوں میں باغات کا شہر بننے جارہا ہے۔لاہور میں پھل دار اور روایتی درختوں کی شجر کاری سے نہ صرف قدرتی حسن میں اضافہ ہو گا بلکہ گمشدہ خوبصورت پرندے ایک بار پھر ان درختوں پر آ بیٹھیں گے۔( حنا ریاض ،لاہور)

مزید : اداریہ