میاں رضا ربانی اور ’’ہمالہ روئے ‘‘کا فقرہ!

میاں رضا ربانی اور ’’ہمالہ روئے ‘‘کا فقرہ!
میاں رضا ربانی اور ’’ہمالہ روئے ‘‘کا فقرہ!

  

پانامہ لیکس نے ملک میں اتنی ’’کھپ‘‘ ڈال دی ہے کہ اس دوران کسی سنجیدہ فکر شخصیت کی کوئی مستقبل بینی والی بات ہی نہیں سنتا۔ میاں رضا ربانی ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس کا تحریک پاکستان اور تعمیر پاکستان میں ایک نمایاں نام ہے، وہ خود ایک فہم و فکر والے ترقی پسند دانشور ہیں جو محترمہ بے نظیر بھٹو کے سامنے بھی اختلاف کا حوصلہ رکھتے تھے اور آصف علی زرداری سے بھی بھڑجاتے ہیں۔ ان کی وفاداری کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ پارٹی سربراہوں کی پالیسیوں سے عدم اتفاق اور اعتراض کرنے کے باوجود وہ کسی دھونس یا لالچ میں نہیں آئے اور پارٹی سے وابستہ رہے۔دوسری طرف پارٹی نے بھی ان کی چبھن والی باتوں کے باوجود ان کو سینٹ میں رکھا ،پھر سینٹ کے چیئرمین کا حق دار بھی ٹھہرایا، چنانچہ وہ 2018ء تک چیئرمین ہیں، تاوقتیکہ نئے انتخابات کے ذریعے پھر سے سینٹ کے آدھے اراکین کا انتخاب یا چناؤ عمل میں نہیں آتا۔میاں رضا ربانی نے 18ویں ترمیم کے لئے محنت کرکے بڑا نام کمایا تھا، ان کو عزت سے دیکھا جاتا ہے اور وہ اس کے اہل بھی ہیں، یہ بات انہوں نے سینٹ کی سربراہی کرتے ہوئے ثابت کی ہے۔

اس دور سربراہی میں وہ آئین کے مطابق صدر مملکت کی چھٹی یا ملک سے غیر حاضری پر از خود قائم مقام صدر بن جاتے ہیں، یوں انہوں نے یہ مزہ بھی لے لیا اور لے رہے ہیں، تاہم ان کے مزاج اور خیالات میں کوئی فرق نہیں آیا۔ وہ آج بھی اپنے نظریات پر قائم ہیں، صاف ستھرے تو پہلے ہی تھے، آج کل نک سک سے تیار ہوکر آتے ہیں۔ میاں رضا ربانی بہت دنوں ،بلکہ کئی ماہ سے 18ویں ترمیم پر مکمل عمل درآمدکے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کے خیال میں تاحال اس ترمیم کے مطابق صوبوں کو اختیارات منتقل نہیں کئے گئے۔ وہ اس پر بات کرتے رہتے ہیں، تاہم ادھر ملک میں محاذ آرائی کی کیفیت پیدا ہوئی اور یہاں امپائر کی انگلی کی بات ہونے لگی تو میاں رضا ربانی تشویش میں مبتلا ہوگئے۔ اب انہوں نے 1973ء کے آئین کے ساتھ ’’زیادتی‘‘ کی دہائی دینا شروع کر دی ہے۔

ہمیں ان کی یاد یوں آئی کہ ان کی تازہ ترین تقریر میں ایک ایسا استعارہ استعمال کیا گیا ہے، جس نے ہمیں دہلا دیا اور ہم نے ان کی خیر کے لئے دعا کی ہے۔ چیئرمین سینٹ فرماتے ہیں: 1973ء کے آئین کو کچھ ہوا (اگر ختم کیا گیا) تو ہمالہ روئے گا۔ اس سے پہلے وہ تحقیقی نوعیت کی بات کرتے تھے کہ 1973ء کے آئین کو چھیڑا گیا تو پھر یہاں آئین نہیں بن سکے گا، ان کی اس دلیل سے بہت سے حضرات متفق ہیں اور اس کی تائید بھی کرتے رہتے ہیں، لیکن اب جو فقرہ انہوں نے استعمال کیا یہ تو ان کے لیڈر پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کا ہے، جنہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں کہا تھا: ’’اگر مجھے قتل کیا گیا تو ہمالہ روئے گا‘‘۔۔۔ یہ فقرہ انہی سے منسوب چلا آ رہا ہے، جسے اپنے فن تقریر کے حوالے سے میاں رضا ربانی نے 1973ء کے آئین کی مثال دیتے ہوئے کسی اور طرف اشارہ کیا ہے۔ بات تو وہ پہلے بھی آئین کی معطلی کے خدشات ہی کی کرتے تھے، اب انداز بدلا تو ہمالہ کے رونے کا ذکر کرکے ہمیں دہلا دیا ہے، اللہ خیر کرے،ہماری ان سے یاد اللہ ہے اور رشتہ بھی احترام باہم کا ہے ،اسی لئے ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، اب اگر وہ اپنے لیڈر کا قول یہاں دہرا رہے ہیں تو یقیناًان کو کچھ خدشات ہوں گے اور یہ بے جا نہیں کہ سیاست دان اپنی روش سے ٹل نہیں رہے۔ حکمرانوں کے بھی وہی لچھن ہیں تو ان کے مخالفین بھی کم نہیں ، وہ بھی ماورائے اخلاق چلے جاتے ہیں۔ یوں ایک میدان کارزار گرم ہے، تاہم اسے اللہ کی اس سرزمین پر اللہ کی طرف سے مقرر ہمارے لئے امپائر نے انگلی اٹھا ہی دی ہے لیکن یہ ہمارے عمران خان کی خواہشات کے برعکس ہے اور شاید میاں رضا ربانی کو بھی ایک حد تک سکون مل گیا ہو، ویسے جو بات وہ کہتے ہیں ،جب بھٹو نے کہی تو استعارہ تھا اور پھر ان کے ساتھ وہی ہوا جس کا ان کو خدشہ تھا۔

یہاں ہم درد مندی کے ساتھ عسکری خانوادے کے بہادر سپوت چودھری نثار سے گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی لڑائی اور بزعم خود سچ بیانی کا ہدف کوئی ایک مقرر کریں، ہر طرف کی گولہ باری سے وہی خدشہ پیدا ہوتا ہے جو میاں رضا ربانی کے ذہن میں ہے۔ چودھری صاحب نے عمران خان، پھر چودھری اعتزاز احسن سے سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا تو ان سے سید خورشید شاہ بھی محفوظ نہ رہے، اب شاہ صاحب نے ان کو چیلنج کر دیا ہے جو وہ پہلے بھی کر چکے تھے کہ پارلیمنٹ میں آؤ اور ان سب کے سامنے الزام دہراؤ اور انہیں، ثابت کرو، کر لیا تو سیاست چھوڑ دوں گا اور کیا چاہیے۔ چودھری صاحب! آگے بڑھیں اور اب آپ یہ چیلنج قبول کرلیں۔ہماری استدعا تو یہ ہے کہ ایسی فضا پیدا نہ کریں کہ ’’امپائر‘‘ کی مداخلت ناگزیر ہو جائے جس کے لئے فضا سازگار نہیں اور کہہ بھی دیا گیا کہ یہ سب ختم کرو۔

مزید :

کالم -