پنجاب کے پانیوں میں ’’سنکھیا‘‘ کی مقدار!

پنجاب کے پانیوں میں ’’سنکھیا‘‘ کی مقدار!
پنجاب کے پانیوں میں ’’سنکھیا‘‘ کی مقدار!

  


کئی برس ہو چکے،مگر مَیں نہیں بھول سکا۔ کالم نگار تو لکھ ہی سکتا ہے، آگے اہل دانش، ادیب، سیاست دان، علمائے کرام، عوام سب کے سب بھول جائیں تو کالم نگار کیا کر سکتا ہے؟ وہ ایک دل دہلانے والا کالم تھا،جس کی جزئیات مَیں نہیں بھولا۔ خدا کرے اب کچھ ہو سکے، ورنہ تو پنجاب کے کئی شہر خصوصاً لاہور، ملتان، قصور اور مظفر گڑھ کے عوام لاشے گرا چکے، سوچتا ہوں، کئی برسوں میں جو بچے پیدا ہو چکے ہیں،ان کا آگے چل کر کیا بنے گا۔ میرے خدا کسی کو بھی احساس تک نہ ہوا، ورنہ تو حکمران وہ نہ ہوتے جو ہو چکے۔اپنے منو بھائی نے پٹاری کھولی تھی، مگر بس ایک کالم لکھ کر رہ گئے اور مڑ کر یہ نہیں دیکھ سکے کہ ایسے دل دہلانے والے مسئلے پر کہیں کچھ ردعمل بھی دیکھنے میں آیا یا نہیں؟ آدمی کے گھر کی چار اینٹیں نکل جائیں۔ ہر لمحہ ذہن ادھر اٹکا رہتا ہے۔یہاں پنجاب کے کئی شہروں میں اور درون خانہ رفتہ رفتہ موت پھیل چکی اور بس کالم لکھا اور چپکے رہ گئے۔!

میڈیا کا ذکر بے کار، اسے بھی طالبان، ایان علی اورعمران خان کے دھرنے ہی بھلے لگتے ہیں، ایک بات ہو، بس وہ چل پڑتے ہیں، بات کو لمبا کرنا مقصود نہیں،مختصر کرتا ہوں اور حکمرانوں سے نہیں عامتہ الناس سے امید کرتا ہوں، کیونکہ وہی کھڑے ہوں گے۔ اپنی ذات اور بچوں کو اس موت پھیلاتے پانی سے محفوظ کرنے کے لئے کچھ جتن کریں گے، کچھ تو کریں گے!بات بہت پرانی ہے۔ 2003ء، عالمی ادارۂ صحت کی ایک ٹیم نے پنجاب کا دورہ کیا تھا اور شہر شہر دیکھتے اور زمین میں رواں دواں پانی کو کٹوروں میں بھرتے، جب انہیں لیبارٹریوں میں جانچا تو ان کی گویا چیخیں نکل پڑیں۔ بالآخر پورے صوبہ پنجاب کے حوالے سے انہوں نے ایک رپورٹ مرتب کر دی۔یہی نہیں ما بعد پاکستان بھرکے پانیوں کا جائزہ لیا گیا۔ خدا کی پناہ پھر کیا ہوا۔ اس قدر خوفناک نتائج دیتی رپورٹ، مگر کاغذوں میں دبا دی گئی۔

عالمی ادارۂ صحت ساری دُنیا میں سرگرم رہتا ہے اور صحت سے متعلق جس قدر امور ہوتے ہیں، انہیں دیکھتا اور جانچتا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں یہ دیکھا۔ یہاں کے عوام جو پانی پیتے ہیں وہ پانی جو ہوا کے بعد زندگی کا سب سے اہم عنصر ہے، جس کے بغیر، زندگی نہیں ہو سکتی، مگر ظاہر ہے۔ پانی سے مراد محض پانی نہیں ہوتا۔ پینے کا پانی لازمی طور پر حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق اور صاف ستھرا ہونا چاہئے، آلودہ نہیں ہونا چاہئے۔ ایسا بیکٹیریا نہیں ہونا چاہئے، آدمی پیئے اور اسے صحت کے مسائل پیدا ہو جائیں۔ خود راقم الحروف کا تجربہ ہے، جب کبھی تواتر کے ساتھ بوائل پانی کی بجائے، پانی پیا، شدید نوع کے صحت کے مسائل پیدا ہو گئے۔ اب وہ پرانا زمانہ نہیں ہے، جب پینے والا پانی زیادہ تر اچھا ہی ہوتا تھا یا آلودگی کے عناصر کم ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ پانی کیا پوری فضا آلودہ ہوتی چلی جا رہی ہے، شہروں میں سانس لینا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔

2003ء میں عالمی ادارہ صحت کی پاکستان اور سب سے زیادہ پنجاب کے پانیوں کی جانکاری۔۔۔ ادارے نے رپورٹ دی تو علم ہوا پنجاب خصوصاً لاہور، قصور، ملتان اور مظفر گڑھ کے عوام پانی نہیں، دراصل زہر پی رہے ہیں (اور گزشتہ کئی برسوں سے پی رہے ہیں) ویسے سب ہی اضلاع متاثر ہوئے، مگر ان اضلاع میں سنکھیا (Arsenic) کی ملاوٹ خوفناک حدود سے بھی تجاوز کر رہی تھی۔ سنکھیا کیا ہے، ایک زہر ہے، جہاں جہاں جس جس پانی میں مقدار زیادہ ہو گی، گویا شخص یا قوم موت کے مُنہ میں جا رہی ہو گی۔ ایسا پانی جس میں سنکھیا کی مقدار بڑھ گئی ہو، پینے والے اشخاص بتدریج کینسر، شوگر، ہیپاٹائٹس، گردوں اور مثانے کی خرابی کے شکار ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ دُنیا سے رخصتی کا بگل بج جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پنجاب میں عموماً پانیوں میں سنکھیا جس قدر موجود ہے اور چار اضلاع جن کا ذکر کیا گیا ہے، مقدار حد سے تجاوز کر چکی ہے۔

لاہور،قصور، مظفر گڑھ اور ملتان کے بعد گوجرانوالہ، فیصل آباد، بہاولپور، سیالکوٹ اور ڈیرہ غازی خان کا نمبر آتا ہے۔ لاہور میں سنکھیا کی مقدار تقریباً سو فیصد، اور ملتان میں94فیصد رہی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ لاہور کے اکثر ہسپتالوں میں جو مریض لائے جاتے ہیں، بیشتر بلڈ پریشر، گردوں، جگر، کینسر اور اسی نوع کے خطرناک امراض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان مریضوں پر جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا جو پانی پیا گیا، سنکھیا کی مقدار بہت زیادہ تھی۔بہرکیف پنجاب کے بہادر عوام، سادہ دِل بھی ہیں، پانی ایسی چیز میں سنکھیا کی اتنی زیادہ مقدار شامل ہونے کے باوصف وہ حکمران جو شاہراہیں بنانے میں تو بے حد دلچسپی رکھتے ہیں، مگر ان شاہراہوں پر جو لوگ رواں دواں ہوں گے، یہ نہیں دیکھتے کہ کس قدر برق رفتاری سے موت کے مُنہ میں جا رہے ہیں۔

میڈیا کے بارے میں کیا کہا جائے۔وہ حکمرانوں سے بڑھ کر سوئے ہوتے ہیں۔ لاہور بہت بڑا مرکز ہے، قومی اخبارات اور مختلف ٹیلی ویژن چینلوں کا، مگر انہیں خبر ہی نہیں، عوام جو پانی پی رہے ہیں، وہ کس طرح کا پانی ہے، دُعا ہی کی جا سکتی ہے کہ آج جبکہ چھوٹی چھوٹی خبریں اور واقعات’’بریکنگ نیوز‘‘ بن رہے ہیں۔ لاہور، قصور، مظفر گڑھ اور ملتان وغیرہ کی تہہ میں رواں دواں پانیوں پر بھی کچھ نظر کی جائے۔ کیا لاہور میں سو فیصد سنکھیا کی مقدار کا پانی ایک اہم خبر، یا ایک ٹی وی پروگرام کا حق بھی نہیں رکھتا! اللہ تعالیٰ رحم کرے،ان علاقوں کے عوام پر! دُعا کہ کوئی بندہ خدا تو اُٹھے اس خوفناک صورت حال پر کوئی تو اُٹھے!

مزید : کالم