پشتون صوفیائے کرام

پشتون صوفیائے کرام
پشتون صوفیائے کرام

  

تصوف کوئی مخصوص مسلک یا کوئی مذہبی فریضہ نہیں، بلکہ یہ ایک عالمگیر دعوتِ اْنس ہے، جس کا مقصد انسانیت کے درمیان باہم نظریاتی نزع کا سدِ باب ہے۔ انسان جب سے شعور کا حامل ہوا، تب سے مختلف الجہات نظریاتی، اقتصادی اور تہذیبی جدل رونما ہوتی رہی ہے، جس کی روک تھام کے لئے انسان نے متنوع سماجی منشور وضع کئے ،لیکن نتیجہ صفر رہا اور آج تک انسانیت باہم برسرِ پیکار ہے، البتہ انسانی معاشروں میں کچھ لوگ ایسے بھی یکے بعد دیگرے پیدا ہوتے رہے ہیں جنہوں نے انسانیت کے درمیان پائی جانے والی نظریاتی چپقلش کا قلع قمع کیا ایسے عظیم المرتبت لوگ دنیا کی ہر تہذیب اور سماج میں موجود رہے ہیں اور دنیا ان ارفع لوگوں کو صوفیائے کرام کے نام سے جانتی ہے ان لوگوں نے انسانیت میں مذہبی تفریق کا علی الاعلان بائیکاٹ کرکے دینِ محبت کا پرچار کیا دینِ محبت سے مراد وہ آفاقی دین ہے جس میں کسی بھی انسان سے نظریاتی نفرت یا نسلی امتیاز نہیں برتا جا سکتا گویا اس سیارہِ زمین پر رہنے والے تمام انسان فطرتاً برابر ہیں اور اسی مساوات کا ادراک دراصل تصوف ہے خطہِ اباسین کے صوفیائے کرام جنہوں نے ہند کی تہذیب میں پیار و محبت کا درس دیا ان میں پشتون تمدن کے صوفیائے کرام پشتون خطے میں نظریاتی تشدد کا سدباب اور اخوت و امن کا پیکر بن کر اْبھرے۔

ہم اگر پشتو تمدن کی بات کریں تو پشتو تمدن میں عبدالرحمن بابا،عبدالحمید بابا،مرزا علی خان المعروف فقیر ایپی،سعید لالہ المعروف لیوَنے مَلا،گلستان بابا،حمزہ شنواری اور حکیم غلام سرور المعروف طاہر کلاچوی انتہائی قابلِ ذکر ہیں یوں تو ہر تمدن کے صوفی کا اپنا ایک مقام ہے، لیکن یہاں پر میں پشتون صوفیائے کرام کا ذکر کروں گا، جنہوں نے اپنی قوم اور پورے ہند میں فطرتی آزادی کا پرچار کرکے ہر دور کے استعمار کے خلاف اہلِ ہند کو فکری و عملی جدوجہد کی طرف راغب کیا۔ رحمان بابا نے جہاں اپنے فکر و فلسفہ کی بدولت پشتون قوم کو ذہنی غلامی سے آزادی اور انسان پرستی کا درس دیا تو وہاں فقیر ایپی اور سعید لالہ نے عملی جدوجہد کے ذریعے اپنی قوم کو یہ نکتہ باور کرایا کہ اپنی تہذیب و تمدن پر اپنا سب کچھ وار دینا ہی اصل مردانگی ہے اور اپنی تہذیب پر کسی غیر کا ظلم برداشت نہ کرو کہ صوفی دراصل غیرت و حمیت کا پیکر ہوتا ہے تصوف کا مطلب ظالم کے آگے سرنگوں ہونا ہرگز نہیں، بلکہ ظالم کے خلاف سینہ سپر ہو کر ظلم کا قلع قمع کرنا ہے ،کیونکہ درویش اور صوفی محبت کا پرچارک ہوتا ہے اس لئے وہ ظلم و بربریت کے خلاف جدوجہد کو حمیتِ ارفع سمجھتا ہے جیسا کہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال فرماتے ہیں :

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں

پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا

تصوف دراصل ہر قسم کی تہذیبی غلامی کی نفی کرتا ہے۔ چاہے وہ تہذیب تقدیس کے اعلی ترین مقام پر کیوں نہ ہو، کیونکہ غلامی ہمیشہ غلامی ہی ہوتی ہے چاہے، وہ فکری یا تہذیبی غلامی ہو غلامی ایک طوق ہے اور اس میں انسان کی تمام تر صلاحیتیں ناکارہ ہو جاتی ہیں غلامی کی بدترین شکل فکری و تہذیبی غلامی ہے اقبال فرماتے ہیں :

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں

جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

پس تصوف ذوقِ یقین ہی کا دوسرا نام ہے اور پشتون صوفیائے کرام کے ہاں دو ہی فلسفے پائے جاتے ہیں ایک ذوقِ یقین اور دوسرا حمیت یعنی اپنے تمدن پر فخر کرنا اپنے تمدن کا دم بھرنا، پشتون تمدن میں روحانی اقدار یعنی غیرت، حیاء اور وفا پر جان نچھاور کرنا ہی اصل سمجھا جاتا ہے پشتو تمدن میں پیسہ اور جاہ و حشم کی کوئی وقعت نہیں انسانیت سے محبت اور انسانیت پر مر مٹ جانا ہی پشتو تمدن کا امتیازی وصف ہے رحمان بابا فرماتے ہیں :

انسانیت خو پہ دولت نہ دے رحمانہ

بت کہ سرو زرو نہ جوڑ کہ انسان نہ دے

جس طرح انسانیت پر مر مٹنا پشتون صوفیائے کرام کا درسِ اولیں تھا بعینہ انسانیت آزاری سے ممانعت بھی انہی صوفیاء کا اوڑھنا بچھونا رہا ہے ،کیونکہ صوفیاء کے نزدیک تمام انسان برابر ہیں اور ان میں کوئی بھی فطرتی امتیاز نہیں پایا جاتا چنانچہ رحمان بابا فرماتے ہیں :

آدم زاد پہ معنا واڑہ یو صورت دی

ھر چی بل آزار وی ھغہ آزار شی

پشتو تمدن میں وفاداری اصل الاصول ہے چاہے وہ عقائد سے ہو یا جملہ موجودات سے، یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں پشتون قوم کو زیادہ شدت پسند کہا جاتا ہے، جبکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اخلاص اْس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک کہ آپ ہر آلائش سے خود کو پاک کرکے ایک طرف کھڑے نہیں ہو جاتے یہی وجہ ہے کہ پشتون قوم کی دوستی اور محبت خالص ہوتی ہے اور یہی بنیادی سبب عموماً انتہا پسندانہ معلوم ہوتا ہے اور درحقیقت یہی ہمارے مذہب کی بھی تاکید ہے کہ اپنے اندر اخلاص پیدا کرو تقوی پیدا کرو، تاکہ تم فلاح کو پہنچ سکو رحمان بابا فرماتے ہیں :

چہ تقوی او دیانت نہ لری رحمانہ

دا دے ھسے ہم نشینوں نشیں مہ شہ

تصوف سالک کو جہاں انسان پرستی اور سراپا عشق و محبت سکھاتا ہے وہاں اْس پر عقل و دانش کی گرہیں بھی کھولتا ہے۔ کشف و وجدان بھی مرحمت کرتا ہے، کیونکہ تصوف باطن کی صفائی کا نام ہے۔ یہ بیک وقت انسان کو تمام تر اخلاقی آلائشوں سے منزہ کرکے حمیت، سراپا محبت، انسانی ہمدردی اور خود یابی سے بہرہ مند کرتا ہے طاہر کلاچوی فرماتے ہیں :

چی دا عقل او ادراک پہ دائرے کہ راتلے نہ شی

ما تہ داسے نظر راکہ ماتہ داسے چشمان راکہ

تصوف چونکہ ایک روشن رستہ ہے اس لئے یہ انسان کو اِس قدر منور کر دیتا ہے کہ پھر دنیا کی چکا چوند انسان کی نظر کو خیرہ نہیں کر سکتی، حتیٰ کہ انسان سائبانِ ذات میں سرمست ہو کر دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور یہ بے نیازی بالآخر تجزیہِ ذات سے ماوراء ہو کر بے خبری پر تمام ہوتی ہے رحمان بابا فرماتے ہیں :

رحمانہ ھیچ لہ خپلہ زان نہ خبر نہ یم

چے دا ھسے رنگ زبوں او مخزون چا کڑم

پشتو زبان چونکہ فارسی الاصل ہے اس لئے ادبی پشتو میں زیادہ تر تراکیب فارسی سے در آئی ہیں، اگر ہم پشتو زبان کا بتدریج لسانیاتی تعاقب کریں تو یہ زبان سیدی جلال الدین رومی، عمر خیام، فردوسی، سعدی شیرازی اور عبدالرحمن جامی تک پہنچ جاتی ہے حمزہ بابا پشتو زبان پر لچر اعتراضات کا منطقی جواب کچھ یوں دیتے ہیں:

وائی اغیار چی دا دوزخ ڑبہ دہ

زبہ جنت تہ دا پشتو سرہ ضم

تصوف چونکہ عشق کی اول و آخر ہے۔ اس لئے تصوف میں سالک کا مطمح محبت و عشق ہی ہوتا ہے، چنانچہ ایک پشتو غزل میں محبت و عشق کو گلستان بابا بہت خوبصورت پیرائے میں بیان فرماتے ہیں۔ یہ غزل ذاتی طور مجھے بہت پسند ہے :

چا چی سکلیّ پہ اخلاص وی جام دا عشق

قرنیگی پہ ہر دام پہ نام دا عشق

طعامنّاں دا دنیا ورتہ بس وی

چا چی اْخڑّو یو زل طعام دا عشق

راتہ اخکاری عاشقی لویہ رتبہ دہ

شو محمود غوندے باچا غلام دا عشق

نصیحت پہ عاشقانوں اثر نہ کَہ

راتہ وایہ اے مْلّا کلام دا عشق

بل تعلیم تہ حاجت نشتہ گلستانا

چرتہ گورا زہ ورزہ امام دا عشق

مزید :

کالم -