جنرل راحیل شریف: یادگار کارنامے!

جنرل راحیل شریف: یادگار کارنامے!
جنرل راحیل شریف: یادگار کارنامے!

  

جنرل راحیل شریف، پاکستان آرمی کے ایسے چیف ہیں جن کے جانے کے بعد ان کے کئی ایسے کارنامے یادگار بن جائیں گے جو پاکستان کی گزشتہ (اور غالباً آئندہ) سیاسی اور عسکری تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔ قدرت نے ان کو ایک ایسے وقت میں پاکستان آرمی کی کمانڈ عطا کی جو انتہائی نازک اور مشکل تھا۔ تین سال کا عرصہ کیا ہوتا ہے؟ ۔۔۔لیکن بعض ایسی شخصیات بھی فطرت پیدا کر دیتی ہے جن کا کردار تعمیرِ ملک و قوم کے لئے یادگار بن جاتا ہے۔ کسی فارسی شاعر کا شعر ہے کہ اگر انسان کی آخری منزل موت ہے تو پھر زندگی خواہ چار دن کی ہو یا چار گھڑی کی، گنبدِافلاک میں زلزلے ڈال دینے چاہئیں:

عاقبت منزلِ ما وادیء خاموشان است

حالیہ غلغلہ در گنبدِ افلاک انداز

سماجی اور سیاسی زلزلوں کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی زلزلہ نما اور زلزلہ انگیز اقدامات ہی کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ قوم دہشت گردی اور خودکش حملوں سے عاجز آ چکی تھی، ملک کا شمال مغربی حصہ اور واحد بندرگاہ جو پاکستان کی تجارتی شاہرگ بھی تھی اپنوں کی غداریوں اور بیگانوں کی ریشہ دوانیوں کی سبب بظاہر ایک ناقابلِ تسخیر چیلنج بن چکے تھے۔ ایسے میں ضرب عضب لانچ کرنا کسی باہمت آرمی چیف کا کام ہی ہو سکتا تھا۔ مجھے معلوم ہے کہ فاٹا کے ایسے بہت سے علاقے تھے جو خود آرمی کے اربابِ اختیار نے بھی کبھی نہیں دیکھے تھے۔ ان کے قرب و جوار میں کوئی چھاؤنی نہیں تھی، کوئی عسکری تنظیم صف بند نہیں تھی، کوئی ہوائی اڈہ یا ائرسٹرپ (Air Strip) موجود نہ تھا اور ایسے لاجسٹک مسائل تھے جن کے ہوتے ہوئے کوئی بڑا کلیئرنس آپریشن ممکن نہ تھا۔اس لئے ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جب یہ آپریشن (ضربِ عضب) لانچ کیا گیا تو اس میں پاک آرمی کا کتنا جانی نقصان ہوا۔ بعض عاقبت نا اندیش یہ سوچتے ہیں کہ فوج ہوتی ہی اس کام کے لئے ہے کہ ملک کی بقاء کی خاطر جانوں کی قربانیاں دیتی رہے۔ یہ بات کہنا جتنا آسان ہے، کرنا اتنا ہی مشکل ہے اور پھر یہ چیلنج خارجی نہیں، داخلی تھا۔ اس گھر کو گھر ہی کے چراغ نے آگ لگا دی تھی، اس لئے اس کو بجھانا بیرونی دشمن سے نبردآزما ہونے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل تھا اور جرات آزمائی مانگتا تھا۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیا ضربِ عضب کی سوفیصد تکمیل ہو چکی ہے تو اس کا جواب ہنوز نفی میں ہوگا۔ اب بھی وادی ء شوال کے بعض علاقے جو اگرچہ رقبے کے لحاظ سے زیادہ بڑے اور وسیع و عریض نہیں لیکن دہشت گردوں سے ان کی کلیئرنس اب بھی جان کے نذرانے مانگتی ہے اور پاک فوج کے آفیسر اور جوان یہ نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ جو علاقے تخریب کاروں اور دہشت گردوں سے صاف ہو چکے ہیں ان میں مواصلاتی انفراسٹرکچر کھڑا کرنا اور ان کو مستقبل میں کسی ضربِ عضب دوم کی ضرورت سے بے نیاز کرنا، ایک اور بڑا چیلنج ہے۔ سویلین حکومت بھی ان منصوبوں کی تکمیل میں شریک کار ہے لیکن یہ کام ایسا ہے کہ اس میں فوج کی ضرورت، ترجیحات میں شامل ہے۔

پاکستان کے شمالی اور شمال مغربی حصوں میں دہشت گردی کا چیلنج اتنا خوفناک اور اتنا بڑا تھا کہ اس کا تانا بانا پاکستان کے دوسرے پُرامن (Settled) علاقوں تک بھی پھیل گیا تھا۔ دہشت گردوں نے جو اودھم فاٹا میں مچایا ہوا تھا، وہی ان پُرامن علاقوں میں بھی مچانے کا پروگرام بنایا گیا۔ جنوبی پنجاب اور کراچی ان میں پیش پیش تھے۔ کراچی کا حال احوال سب کو معلوم ہے لیکن سندھ کے اندرونی علاقے اور جنوبی پنجاب کے وہ دور افتادہ مقامات جہاں آبادیاں کم تھیں، ریگستان تھے یا دریا کے کچے کے علاقے کہلاتے تھے، وہ یکایک جاگ اٹھے۔ دتہ خیل اور شوال کی جگہ اب راجن پور اور کچے کے علاقوں وغیرہ نے لے لی۔ چنانچہ وہاں بھی اب ایک منی ضربِ عضب لانچ کیا جا رہا ہے۔۔۔ اس آپریشن کا کوڈ نام ’’ضربِ آہن‘‘ رکھا گیا ہے۔ آرمی کے مشورے پر اس آپریشن میں فضائی حملوں کی شراکت بھی مانگ لی گئی ہے۔ یہاں پولیس اور رینجرز مل کر آپریشن کر رہے ہیں۔ راجن پور میں 10کلومیٹر لمبا ایک ایسا زمینی ٹکڑا بھی ہے جو چاروں طرف سے پانی سے گھرا ہوا ہے۔ گویا یہ ایک جزیرہ ہے جس میں ڈاکو اور رہزن ’’آباد‘‘ ہیں۔ ان کے اہلِ خاندان نے بھی یہاں بستیاں بسا رکھی ہیں۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس علاقے کو کلیئر کرنے کے لئے یہاں کی اس آبادی کو جس میں خواتین اور نابالغ بچے شامل ہیں، نوٹس دیا جائے کہ وہ 48گھنٹوں کے اندر اندر یہاں سے نکل جائیں۔ پولیس نے فوج سے دو ہیلی کاپٹر بھی مانگ لئے ہیں تاکہ ذخیروں میں چھپے دہشت گردوں پر فضائی حملے کئے جا سکیں۔ جب یہ اہداف فضائی کارروائی کے نتیجے میں نرم ہو جائیں گے تو سیکیورٹی فورسز کو آپریشن کرنے میں آسانی ہوگی اور ان کے جانی اتلافات کم ہو سکیں گے۔ راجن پور کے علاوہ سندھ کے کچے کے علاقوں اور پنجاب کے کئی دوسرے علاقوں میں بھی اس آپریشنل کارروائی کی تقلید کی جائے گی اور اس طرح سیاسی اور عسکری قیادت کا یہ عزم، پایہ ء تکمیل کو پہنچایا جائے گا کہ دہشت گرد جہاں بھی ہوں گے ان کو ڈھونڈ نکالا جائے گا اور ختم کر دیا جائے گا۔

جنرل راحیل شریف کا دوسرا کارنامہ جس کے اثرات پاکستان کی آئندہ نسلوں تک محسوس کئے جائیں گے، وہ سی پیک (CPEC) کی تعمیر و تشکیل اور سیکیورٹی میں ان کی ذاتی دلچسپی ہے۔ کل (12اپریل) گوادر پورٹ میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جنرل صاحب نے کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی۔ انہوں نے کھل کر کہا کہ پاکستان میں جو دشمن انٹیلی جنس ایجنسیاں ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے میں پیش پیش ہیں، ان میں بھارت کی ’’را‘‘ کا کردار سب سے زیادہ گھناؤنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کو دنیا کی سبھی بڑی بڑی اقوام نے ایک ایسا پراجیکٹ تسلیم کیا ہے جو نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ دنیا بھر کے کمرشل کینوس کو وسیع کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔ لیکن ساتھ ہی جنرل صاحب نے خبردار کیا کہ خطے کے بعض ممالک سی پیک کا خوش آئند مستقبل دیکھ کر چیں بہ جبیں ہو رہے ہیں اور ان میں بھارت نے تو تمام بین الاقوامی مصلحتیں بالائے طاق رکھ کر اعلان کر دیا ہے کہ وہ اس پراجیکٹ کو سبوتاژ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گا۔ لیکن آرمی چیف نے انتباہ کیا کہ سی پیک ہی نہیں، پاکستان کے کسی بھی حصے کو عدم استحکام کا شکار کرنے والی ہر کوشش ناکام بنا دی جائے گی۔۔۔ اسی روا روی میں انہوں نے اس فقرے کا اضافہ بھی کیا: ’’ہر کسی کو محاذ آرائی کا راستہ چھوڑ کر باہمی تعاون کی راہ اپنانا ہوگی!‘‘۔۔۔ اسی سیمینار میں انہوں نے یہ پیشگوئی بھی کی کہ اقتصادی راہداری کے اس پراجیکٹ سے نہ صرف بلوچستان بلکہ بحرہند کے ساحلوں پر واقع تمام ممالک اس سے استفادہ کر سکیں گے۔علاوہ ازیں سی پیک کی تعمیر و سیکیورٹی میں آرمی انجینئرز کی شراکت اور دو انفنٹری ڈویژنوں مائی نس (۔) کی تشکیل، جنرل راحیل شریف کی ذاتی دلچسپی کے کھلے ثبوت ہیں۔

ان کا تیسرا مثبت اور یادگار کارنامہ فوج کو سیاست میں ملوث نہ کرنے کے عزمِ صمیم کا نام ہے۔ کون نہیں جانتا کہ گزشتہ دو اڑھائی برس میں یکے بعد دیگرے کئی مواقع ایسے آئے جب کئی لوگوں نے امپائر کی انگلی اٹھنے کا اشارہ دیا، کئی بار ملک کی آبادی کی اکثریت سیاستدانوں سے بد دل ہوئی، ان کے خلاف سکینڈل پہ سکینڈل سامنے آئے (اور آ رہے ہیں) لیکن پاک آرمی یہ سارے تماشے دیکھ کر بھی وہ کچھ نہیں کر رہی جس کی توقع بعض لوگ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے (اور ہیں)؟۔۔۔ ماضی میں اگر تاریخ کی کیسٹ کو ریورس کرکے دیکھیں اور سنیں تو جاری حالات میں فوج کا دخل درمعقولات نہ دینے کا فیصلہ بڑا عجیب و غریب سا لگتا ہے۔ بعض ناسمجھ طرح طرح کی باتیں بھی کر رہے ہیں۔کوئی یہاں تک کہہ رہا ہے کہ فوجی اور سویلین قیادت اندر سے ایک ہے۔ سب اندر سے ملے ہوئے ہیں۔ وگرنہ ابھی تک کوئی نہ کوئی ’’فیصلہ‘‘ ہو گیا ہوتا۔۔۔ کوئی یہ دلیل لاتا ہے کہ مارشل لاء لگنے کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔ یہ میڈیائی دور ہے۔ اس میں مارشل لاء جیسی ’’فضولیات‘‘ کا کوئی چانس نہیں۔ ان کو معلوم نہیں کہ میڈیا کے ایک ڈیڑھ عشرہ کے مختصر سے دور کو قبل از مشرف دور میں لے جانا، فوج کے لئے کوئی مشکل نہیں۔ لیکن پاک فوج اس قسم کی مہم جوئی کا فاضل اور فضول بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں۔ پبلک کو یہ اندازہ نہیں کہ فوج کی جواں سال آفیسرز کلاس کے صبر کا پیمانہ بعض اوقات اتنا لبالب ہو جاتا ہے کہ چھلکنے کے لئے ذرا سی جنبش درکار ہوتی ہے۔ لیکن عین وقت پر ساقی اپنی صراحی مضبوطی سے زمین پر ٹکا دیتا ہے، مے خانہ بڑھا دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ سارے جام و سبو زمین پر انڈیل دیئے جائیں!

پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی آرمی چیف نے ایک سال قبل ہی یہ اعلان نہیں کیا تھا کہ وہ اپنی مدتِ ملازمت میں کسی توسیع کا طالب نہیں اور تین سال پورے ہونے کے بعد ’’حسبِ قاعدہ‘‘ (Accordingly) ریٹائر ہو جائے گا۔ انہوں نے اپنے دور میں جو جو معیارِ صداقت و دیانت و امانت قائم کئے ہیں، آنے والا جانشین ان کی لازماً پیروی پر مجبور ہو گا۔ وہ اگر نہ بھی چاہے گا تو نہ صرف پاکستانی عوام اور میڈیا بلکہ فوج کے چھوٹے بڑے قیادتی طبقات بھی اسے ٹریک سے ہٹنے نہیں دیں گے۔ میرے نزدیک جنرل راحیل شریف کا یہ کارنامہ ایک ایسا یادگار کارنامہ ہے جو کبھی بھلایا نہ جا سکے گا۔۔۔ جنرل راحیل کے پیشرو ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا صرف نعرہ لگاتے رہے۔ ان کے دورِ قیادت کا موازنہ اگر موجودہ آرمی چیف کے دور سے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘کا نعرہ لگانا سب سے زیادہ آسان تھا اور اس پر عمل کرنا سب سے زیادہ مشکل تھا اور مشکل ہے! عسکری قیادت کی دیکھا دیکھی اگر سویلین قیادت بھی جنرل راحیل کی راہوں پر گامزن ہو جائے تو کیا عجب پاکستان کی تقدیر بدل جائے اور ہمیں کچھ زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے!!

مزید :

کالم -