مارکیٹ میں نرخ کم کیوں نہیں ہوئے؟

مارکیٹ میں نرخ کم کیوں نہیں ہوئے؟

  

حکومت نے عالمی سطح پر تیل کی کم ہوتی قیمتوں کا فائدہ تو عوام کو منتقل کر دیا ہے، لیکن ملک کے ٹرانسپورٹروں اور تاجروں نے اس میں ڈنڈی مارنا شروع کر دی ہے، انٹرسٹی ٹرانسپورٹ والوں نے کرائے کم کرنے کا اعلان کیا، لیکن چور راستوں سے اب بھی زیادہ کرائے وصول کر رہے ہیں۔ لوکل ٹرانسپورٹ والوں نے سٹاپ ٹو سٹاپ صرف ایک روپیہ کمی کی جو دس روپے سے نو روپے ہے، روپے کی جو اہمیت ہے اس کی وجہ سے یہ روپیہ مسافر کو واپس نہیں کیا جاتا۔ پٹرول کی قیمت میں کمی کے حساب سے کرایہ اور بھی کم ہونا چاہئے۔ اسی طرح مارکیٹ میں اشیاء ضرورت اور خوردنی پر کوئی اثر نہیں ہوا، حتیٰ کہ برانڈ اشیاء بھی پہلی قیمت پر اور بعض صورتوں میں اس سے زیادہ پر ہی فروخت ہو رہی ہیں، صرف یہ کیا گیا کہ ڈی سی اوز نے اپنے نرخنامے دئیے، ان کے مطابق کوئی شے نہیں بک رہی۔اصولی طور پر مارکیٹ اکانومی کی رو سے تو ٹرانسپورٹ کے کرائے میں کمی اور بجلی کے نرخ کم ہونے سے برانڈ اشیاء کے نرخ فوری طور پر کم ہو جانا چاہئیں، صنعتی یونٹوں کو تو بجلی میں بھی تین روپے فی یونٹ رعایت دی گئی ہے، جبکہ آئل کے نرخ کم ہونے سے بھی ان کے اخراجات کم ہوئے ہیں۔حکمران جماعت تو خود صنعتکاروں اور تاجر حضرات پر مشتمل ہے جو مارکیٹ اکانومی پر یقین رکھتے ہیں اور اس کی باریکیوں کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں، کیا ان حضرات نے عوام کو رعایت دیتے وقت یہ نہیں سوچا کہ اس کے مارکیٹ پر کیا اثرات مرتب ہونا چاہئیں۔ اس سلسلے میں مناسب اقدامات کی ضرورت تھی اور ہے کہ ٹرانسپورٹ والوں نے جو کمی کی وہ درست ہے کہ نہیں اور یہ اثرات اشیاء کے نرخوں پر ہوتے ہیں یا نہیں، ہمارے ملک کا یہی وہ طبقہ ہے جو اپنا خسارہ یوں بیان کرتا ہے کہ منافع میں کمی کو بھی خسارہ ہی قرار دیتا ہے۔ حکومت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ پٹرولیم کے نرخوں اور بجلی کی قیمت میں جو کمی ہوئی اس کے ثمرات عوام تک کیوں نہیں پہنچے اور اس کے لئے سائنسی اور تجارتی بنیادوں پر انتظام کرنا چاہئے۔

مزید :

اداریہ -