شمالی کشمیر کے کپواڑہ ،ہندواڑہ اضلاع کے علاوہ سری نگر میں کرفیو نافذ ، ریاست بھر میں ہڑتال

شمالی کشمیر کے کپواڑہ ،ہندواڑہ اضلاع کے علاوہ سری نگر میں کرفیو نافذ ، ریاست ...

  

سری نگر(کے پی آئی) شمالی کشمیر کے کپواڑہ ،ہندواڑہ اضلاع کے علاوہ سری نگر میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ شمالی کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں خاتون کی آبروریزی کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والوں کی تعداد تین ہو گئی ہے 23سالہ اقبال احمد پرے ،61 سالہ راجہ بیگم اور نعیم قدیر کو بدھ کے روز سپرد خاک کر دیا گیا۔ادھر اس واقعہ کے خلاف بدھ کے روز مقبوضہ کشمیر بھر میں احتجاج ہڑتال سے کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا۔حکام نے کپواڑہ ،ہندواڑہ اور سری نگر میں کرفیو نافذ کر دیا ہے تاہم مشتعل شہریوں نے کرفیو کی پابندیاں توڑتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کیے بھارتی فورسز سے جھڑپوں میں 30 سے زائد مظاہرین زخمی ہو گئے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔اس دوران حریت قیادت سید علی گیلانی،میر واعظ عمرفاروق،ظفر اکبر بٹ،نظربند جبکہ یاسین ملک ،شبیر شاہ سمیت بڑی تعداد میں حریت رہنماؤں کو کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ہڑتال کی اپیل سید علی گیلانی،میر واعظ عمرفاروق اور یاسین ملک نے دی تھی ۔یاد رہے منگل کے روز 12جماعت کی طالبہ کے ساتھ کے ساتھ ایک فوجی کی زیادتی پر سینکڑوں نوجوان سڑکوں پر آگئے اور ہندوارہ چوک میں قائم فوجی بنکر کی طرف مارچ کرنے لگے۔ فوج نے مشتعل نوجوانوں پر فائرنگ کی جس سے سات نوجوان زخمی ہوگئے۔زخمیوں کو ہندوارہ کے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹر رف کے مطابق دو نوجوانوں محمد نعیم، اقبال اور 61 سالہ راجہ بیگم کی موت ہوگئی۔

دیگر نوجوانوں کی حالت تشویش ناک ہے۔اس واقعے کے بعد فوج بنکر چھوڑ کر چلی گئی اور مشتعل نوجوانوں نے بنکر پر سے انڈین پرچم اتار کر اور انڈیا مخالف نعرے بازی کی۔قصبے میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور پولیس و نیم فوجی اہلکاروں کی بھاری تعداد کو صورت حال پر قابو پانے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ دوپہر کے وقت مین چوک ہندوارہ میں قائم فوج کے ایک بڑے بینکر میں تعینات ایک فوجی ا ہلکار نے اس وقت ایک نو عمر کشمیری طالبہ کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی ناکام کوشش کی جب مذکورہ طالبہ نزدیک ہی قائم ایک بیت الخلاء میں رفع حاجت کے لئے چلی گئی ۔ مقامی لوگوں کے مطابق فوجی اہلکار نے بیت الخلاء کے اندر جاکر طالبہ کے ساتھ زور زبردستی اور دست درازی شروع کی اور طالبہ نے جب شور مچایا تو لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے اس معصوم طالبہ کو فوجی اہلکار کے چنگل سے بچانے کے بعد اس واقعہ کیخلاف زور دار احتجاج کیا۔ اس موقعہ پر صورتحال اس وقت کنٹرول سے باہر چلی گئی جب احتجاجی مظاہرین میں شامل کچھ مشتعل نوجوانوں نے اس فوجی بینکر پر شدید سنگباری شروع کی ، جہاں مذکورہ فوجی اہلکار تعینات تھا ۔ اس موقعہ پر مشتعل ہجوم کی سنگباری کے جواب میں فوجی بینکر میں تعینات فوجی اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جبکہ اس دوران ٹیر گیس شلنگ بھی کی گئی ۔ لوگوں کے مطابق ہندوارہ قصبہ میں افراتفری کی صورتحال پیدا ہونے کے بیچ فوجی اہلکاروں کی فائرنگ کی زد میں آکر نصف درجن سے زیادہ مظاہرین زخمی ہوگئے ، جن کو فوری طور ضلع اسپتال ہندوارہ پہنچایا گیا، جہاں 2نوجوان محمد اقبال ساکنہ بمہامہ کپوارہ اور نعیم قادر بٹ ساکنہ ہندوارہ کو مردہ قرار دیا گیا۔ اچانک صورتحال بے قابو ہوجانے کے نتیجے میں درجنوں افراد دکانات اور مختلف شاپنگ کمپلیکسوں میں قائم نجی دفاتر میں محصور ہو کر رہ گئے اور اس دوران سنگباری کے جواب میں ٹیر گیس شلنگ اور فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا شہر سرینگر کے چھ پولیس اسٹیشنوں، نوہٹہ ، خانیار، رعناواری ، صفا کدل ، مہاراج گنج ، مائسمہ اور کرالہ کھڈ پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت پابندیاں عائد ۔

مزید :

عالمی منظر -