سپریم کورٹ سے بینک آف پنجاب کے ملزم حارث افضل کی درخواست ضمانت خارج

سپریم کورٹ سے بینک آف پنجاب کے ملزم حارث افضل کی درخواست ضمانت خارج

  

اسلام آباد (آ ن لائن ) سپریم کورٹ نے بینک آف پنجاب کے ملزم حارث افضل کی درخواست ضمانت خارج کرتے ہوئے نیب کو ان کیخلاف دو ہفتو ں میں ریفرنس فائل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ، جبکہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ ریفرنس ایک قسم کی ایف آئی آر ہو گی ،اس سے بہت سی چیزیں کلیئر ہونگی بہت سے معاملات ہیں جن کو ابھی دیکھنا ہے ، ریفرنس کے بعد ہی درخواست ضمانت پر سماعت ہو سکتی ہے ، ریفرنس کے بعد اگر فریقین متعلقہ فورم پر معاملے کو لے جانا چاہیں تو عدالت کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا ۔ بدھ کے روز مقدمے کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ، ملزم حارث کی جانب سے انکی وکیل عاصمہ جہانگیر پیش ہوئی اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حارث افضل کیخلاف تاحال ریفرنس فائل نہیں ہو سکا ، محض الزمات کی بنیاد پر بار بار گرفتار کیا جار ہا ہے ، نیب سے ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں ، تمام جائیداد پہلے ہی نیب کے حوالے کر چکے ہیں اس پرنیب کے وکیل آفتاب احمد نے کہا کہ ملزم حارث افضل نے متعلقہ اتھارٹی اور عدالت کو بھی دھوکہ دیا ہے ،ہربارتعاون کا یقین دلایا جاتا ہے لیکن وعدہ خلافی کی جاتی ہے ملزم کی جانب سے کمیٹی کے ہیڈ جسٹس جمشید علی اور اراکین کو ہراساں کیا گیا جس پر چیف جسٹس انوار ظہیر جمالی نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ ابھی تک ریفرنس کیوں دائر نہیں کیا گیا آپ ملزم کو حراست میں رکھ کر بیٹھ گئے ہی، آپ کو ریفرنس فائل کرنا چاہیے تھا ، مزید کتنا عرصہ لگے گا ریفرنس فائل کرنے کے لیے ،جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی قابلیت میں میں کمی ہے یا کوئی اورمسئلہ ہے اس پر نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ تین ہفتوں میں ریفرنس فائل کر دیا جائے گا ،جس پر عدالت نے نیب کو دو ہفتوں میں ریفرنس جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی ہے ۔

مزید :

علاقائی -