تھائی لینڈ، شرابی ڈرائیور کو مردہ خانے میں کام کرنے کی سزا دینے کا فیصلہ

تھائی لینڈ، شرابی ڈرائیور کو مردہ خانے میں کام کرنے کی سزا دینے کا فیصلہ

  

بنکاک(آن لائن)تھائی لینڈ کی حکومت نے ڈرائیونگ کے دوران شراب نوشی کرتے ہوئے پکڑے جانے والے افراد کو کچھ وقت کے لیے مردہ خانے اور پوسٹ مارٹم روم میں کام کی سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح وہ لوگوں میں ڈرائیونگ کے دوران شراب_نوشی اور دیگر منشیات کے استعمال سے گریز کا شعور پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق بنکاک حکومت نے حال ہی میں ایک نیا فرمان جاری کیا ہے جس کے تحت ڈرائیونگ کے دوران شراب نوشی کرتے ہوئے یا نشے کی حالت میں گاڑی چلاتے پکڑے جانے والے افراد کو بہ طور سزا کچھ وقت کے کیے مردوں کے پوسٹم مارٹم والے مقامات پر کام کرنے پر مجبور کیا جائے گا تاکہ انہیں اندازہ ہوکہ ٹریفک حادثات کے نتیجے میں کس قدر خوف ناک اموات ہوتی ہیں۔ ممکن ہے اس اقدام سے ملک میں ہونے والے ٹریفک حادثات اور ڈرائیونگ کے دوران شراب نوشی کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔بنکاک پولیس کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کس قدر خوفناک ہوسکتی ہے۔ تھائی لینڈ میں یہ نیا قانون ایک ایسے وقت میں لاگو کیا جا رہا ہیجب ملک میں نئی سال کا آغاز ہو رہا ہے۔

نئے سال کے موقع پر منچلے نوجوان شراب نوشی کی حالت میں گاڑیاں چلاتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق تھائی لینڈ میں ٹریفک حادثات میں زیادہ تراموات کا ایک سبب ڈرائیونگ کی دوران منشیات کا استعمال ہے۔ پچھلے سال تھائی لینڈ میں 24 ہزار افراد ٹریفک حادثات میں لقمہ اجل بن گئے تھے۔

مزید :

عالمی منظر -