خان صاحب کی خدمت میں کچھ تازہ خبریں

خان صاحب کی خدمت میں کچھ تازہ خبریں
خان صاحب کی خدمت میں کچھ تازہ خبریں

  


اپنے خان صاحب لاہور میں ہیں اور بہت مصروف ہیں، مصروف ہونا بنتا ہے بھی ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر ہیں اور وزیراعظم کے خلاف ایک سکینڈل ان کے پاس موجود ہے، وہ اعلان بھی کر چکے کہ رائے ونڈ میں وزیراعظم نواز شریف کی نجی رہا ئش گاہ کے باہردھرنا دیں گے، انہی کے موڈ میں بات کرنے والے مسلم لیگ نون کے رہنما اور صوبائی وزیر قانون رانا نثاء اللہ خان نے جوابی چیلنج دیا ہے کہ وہ ضرور رائے ونڈ جائیں، انہوں نے تو غل غپاڑے کا لفظ استعمال کیا ہے مگر جانے دیں، ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد پنجاب کے عوام ان کے ساتھ وہ سلوک کریں گے کہ وہ یاد رکھیں گے کہ پنجاب کے عوام کی کچھ اپنی روایات ہیں جن میں مخالفوں کے گھر تک پہنچنا انتہائی معیوب عمل سمجھا جاتا ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ وہ الزامات کی تحقیق اور تنازعات کے حل کے لئے پارلیمنٹ کا رخ نہیں کریں گے جیسا انہیں مشورہ دیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان جو کہ بوجوہ حکومتی حلقو ں میں تحریک انصاف کی پسندیدہ ترین شخصیت سمجھے جاتے ہیں، انہوں نے ضرور پارلیمنٹ کی ایک اخلاقی کمیٹی بنانے کی بات کی ہے مگر دوسری طرف بات آہستہ آہستہ اخلاقیات سے باہر نکلتی چلی جار ہی ہے۔ رائے ونڈ کے دھرنے کی دھمکی کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم کے بچوں کی بات ہو گی تو پھر عمران خان کے بھی دو نہیں تین بچوں کی بات ہو گی،میں نے ایک مسلم لیگی سے اس پر احتجاج کیا تو اس نے جواب دیا تو اس نے مجھ سے سوال کیا، کیا بیرون ملک صرف ناجائز کاروبار پر بات ہونی چاہئے؟

سیاست کے بہتے پانی کو آپ جتنا مرضی گندا کر لیں، سب نے رہنا تو اسی پانی کے اندر ہے، اسی میں سانس لینی اور اسی میں بچے دینے ہیں،مجھے یہاں خان صاحب کی خدمت میں بی بی سی کی ایک خبر پیش کرنی ہے۔ جیسا میں نے پہلے کہا کہ وہ بہت مصروف ہیں اور عین ممکن ہے کہ ان کے پاس پانامہ لیکس کے علاوہ دوسری غیر اہم خبریں پڑھنے کے لئے وقت ہی نہ ہو۔میںیہ خبر کسی ملکی خبررساں ادارے کی بجائے غیر ملکی ادارے کی ویب سائیٹ سے نقل کر رہا ہوں تاکہ غیر جانبداری کا تاثر قائم رہے۔ خبر بتاتی ہے ، ’’پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں حالیہ ہونے والی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 96 افراد ہلاک اور 69 شدید زخمی ہو گئے ہیں۔خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے اب تک 38 مرد، 18 خواتین اور 40 بچوں سمیت 96 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔پی ڈی ایم اے کے مطابق 30 مرد، 20 خواتین اور 19 بچوں سمیت اب تک 69 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے مطابق خیبر پختونخوا میں مجموعی طور ہر 949 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ 236 مکانات مکمل جبکہ 713 مکانات جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔پی ڈی ایم اے کی جانب سے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو تین، تین لاکھ روپے اور زخمی افراد کو ایک، ایک لاکھ روپے دیے جا رہے ہیں۔پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق مکمل تباہ شدہ مکانات کے مالکان کو ایک لاکھ اور جزوی طور پر متاثر ہونے والے مکان مالکان کو 50 ہزار روپے دیے جائیں گے‘‘۔ اب سوال یہ ہے کہ جہاں کے لوگوں نے خان صاحب کو اکثریتی ووٹوں سے نوازا ، ان کی حکومت قائم کی، کیا انہیں امید رکھنی چاہئے کہ ان کے محبوب رہنما ان کے لئے مشکل اور دکھ کی گھڑی میں ان کی غم گساری کریں گے۔ میں مانتا ہوں کہ یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے مگر دوسری طرف یہ امر بھی حقیقت ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے عمران خان کے نعروں، وعدوں اور دعووں پر ووٹ دئیے ہیں، وہ خان صاحب سے محبت کرتے ہیں اور انہیں بھی جواب میں ان سے محبت کرنی چاہئے۔ سیاسی ضروریات تو ایک طرف رہیں معاشرتی اور اخلاقی روایات کابھی تقاضا ہے کہ دکھ اور افسوس کی گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ رہا جاتا ہے۔میں ابھی کوئی سیاسی پیشین گوئی نہیں کرنا چاہتا مگر خیبرپختونخواہ کے عوام کے سیاسی روئیے کو ضرور یاد کرنا چاہتا ہوں، گذشتہ پندرہ ، بیس برسوں میں انہوں نے شائد ہی کسی کو اپنے ساتھ بے وفائی کرنے پر دوسرا موقع دیا ہو، چاہے وہ کسی نظرئیے اور کسی دعوے کے ساتھ ایوان وزیراعلیٰ میں گھسے ہوں۔

کچھ اور خبریں بھی اہم ہیں، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے منگل کو گوادر میں پرامن اور خوشحال بلوچستان اور پاک چائینہ اقتصادی راہ داری کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جہاں بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی کو ’سی پیک ‘کے خلاف سازشیں کرنے پر بے نقاب کیا تو وہاں یہ بھی کہا کہ وہ کسی کو بھی پاکستان کی ترقی میں رکاوٹیں نہیں ڈالنے دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ مکمل کیا جائے گا جس سے خطے میں ترقی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہو گا۔ یہ خبر بہت سادہ ہے اورا تنا ہی سادہ پیغام بھی دے رہی ہے۔آپ چاہے تو اس کی کوئی تکنیکی بنیادوں پر مختلف تشریح کر سکتے ہیں مگرآرمی چیف نے ایک مرتبہ پھر بہت کچھ واضح کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک کے کسی بھی حصے میں انتشار پھیلانے نہیں دیں گے اور دوسرے یہ کہ محاذ آرائی ختم کر کے تعاون پر توجہ دی جائے۔ مجھے ایک کارکن صحافی کے طورپر پچھلے بیس سے تیس سال کی سیاست کا حوالہ دینے دیں، یہاں سیاسی عدم انتشار اسی وقت پھیلا جب اسٹیبلشمنٹ نے اس کی سرپرستی کی۔ کبھی نواز شریف اور کبھی بے نظیر اسٹیشبلشمنٹ کے آلہ کار بنتے رہے ،ہاں، مشرف دور میں نئے چہرے متعارف کروائے گئے۔ اگر آپ کو بیس اور تیس سال کی منفی سیاست کی دلیل ہضم نہ ہو تو آپ ایک مرتبہ پھردھرنوں کی سیاست کے ڈراپ سین کو سامنے رکھ سکتے ہیں۔ بلوچستان میں سابق آمر پرویز مشرف نے اکبر بگتی کو قتل کرکے جو آگ لگائی تھی اب اس آگ کو بجھایا جا رہا ہے۔ جمہوری اور سیاسی عمل نے بلوچستان سمیت ہر جگہ مثبت اثرات مرتب کئے ہیں۔ میں پھر کہوں گا کہ تنازعات کے حل کا بہترین پلیٹ فارم پارلیمنٹ ہی ہے۔

ہمارے کچھ دوست ابھی تک ہمارے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے دور سے باہر نہیں نکل رہے۔ یہ عدلیہ کے ادارے کی خوش قسمتی تھی اورپرویز مشرف کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت کی بد قسمتی تھی کہ انہیں افتخار محمد چودھری بطور چیف جسٹس ملے۔ انہوں نے جہاں عدلیہ کے ادارے کو عوام کی امیدوں کا مرکز بنایا وہاں پہلے پرویز مشرف اور پرویز الٰہی اور اس کے بعد آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی حکومت کو چلنا بھی قریباً ناممکن بنا دیا۔ عدلیہ کی طرف سے لئے گئے سو وموٹو ایکشن انتظامیہ کو متحرک اور جواب دہ رکھتے تھے مگر بہت سارے حلقوں کے لئے یہ طرز عمل قابل قبول نہیں تھا۔اس میں ہمارے وہ ادارے بھی شامل تھے جو ہمیشہ سے مقدس رہے ہیں اور وہ وکلاء بھی تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ عدلیہ کو انتظامیہ کی ذمہ داریاں نہیں سنبھالنی چاہئیں۔ پانامہ لیکس کے بعد بہت ساروں کا خیال تھا کہ ہماری عدلیہ افتخار چودھری دور کی روایات کی اتباع کرتے ہوئے اس کا لازمی طور پر سوو موٹو نوٹس لے گی ۔ عدالت عظمی نے سندھ میں مئیر، ڈپٹی مئیر اوریونین کونسلوں کے چیئرمینوں کے انتخابات شو آف ہینڈ سے کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ جو بھی لولا لنگڑا نظام ہے، اسے چلنا چاہئے۔ بعض حالات میں عدلیہ کو بھی مصلحت سے کام لینا پڑتا ہے،د وسیاسی جماعتیں لگاتار حکومتیں بناتی رہی ہیں اور دونوں سے ہی غلطیاں ہوئیں۔ انہوں نے مزید کہا، کہنے کو بہت کچھ ہے مگر مناسب ہے کہ کم ہی لب کشائی کریں، عدلیہ پر تنقیدبھی کی جاتی ہے، ہم سے کہتے ہیں کہ پانامہ لیکس پر از خود نوٹس لیں یاسپریم کورٹ کمیشن کیوں نہیں بناتی، یہ بتائیں کہ کمیشن بنانا یا تفتیش کرنا عدلیہ کا کام ہے یا عدلیہ کا؟ چیف جسٹس نے بجاطور پر نشاندہی کی کہ ملک کا جمہوری نظام لولا لنگڑا ہے اور لولے لنگڑے نظام کو بیساکھی کے ساتھ چلانا پڑتا ہے، ہمیں اسی نظام کو چلانا ہے، اس میں کسی ایک شخص یا ادارے کا قصور نہیں، میں پورے نظام کو ہی مورد الزام ٹھہراتا ہوں، پورے ملک کو ریفارمز کی ضرورت ہے۔

خان صاحب سے درخواست ہے کہ وہ ان تینوں بڑی اور اہم خبروں کو پڑھیں،یہ اتنی واضح خبریں ہیں جنہیں سمجھنے اور جن سے اشارے لینے کے لئے غیر معمولی آئی کیو کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

مزید : کالم