قومی اسمبلی،سائبر کرائم بل اپوزیشن کی ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا گیا

قومی اسمبلی،سائبر کرائم بل اپوزیشن کی ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا گیا

  

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی میں سائبر کرائم بل اپوزیشن کی ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا گیاہے،انٹرنیٹ کے زریعے دہشت گردی کو پھیلانے ،ان کی معاونت کرنے والے اور فرقہ واریت میں ملوث ملزمان کو سخت سزائیں دی جائیں گی،انٹرنیٹ پر فحش مواد کے زریعے لوگوں کو بدنام کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا ۔بدھ کے روز اجلاس میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انوشہ رحمن نے سائبر کرائم بل پیش کیا بل پر بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی ڈاکٹر شازیہ مری نے کہاکہ دہشت گردی اور ملک کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے سائیبر کرائمز پر سزاؤں کا نفاذ ضروری ہے تاہم عوامی رائے کے بغیر بل کو پیش کرنا درست نہیں ہے انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے حوالے سے یہ بل بہت اہم ہے مگر ہم نہیں چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا قانون بن جائے جس سے عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہوں انہوں نے کہاکہ انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والوں میں بہت کم لوگ اس کی نقصانات سے واقف ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے افراد کو سزائی دینے کی بجائے انہیں سمجھانے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ جس بل پر ہماری مشاورت ہوئی تھی اور جن نکات پر ہم نے جو اعتراضات لگائے تھے وہ شامل نہیں کئے گئے تھے رکن اسمبلی آسیہ ناصر نے کہاکہ اس بل کی آشد ضرورت ہے جب تک یہ بل منظور نہیں ہو اس وقت تک نیشنل ایکشن پلان پر مکمل طور پر عمل درآمد ممکن نہیں ہے رکن اسمبلی عمران لغاری نے کہاکہ جتنی بحث اس بل پر ہوئی ہے اتنی بحث تو 18 ویں ترمیم پر بھی نہیں ہوئی ہے سائیبر کرائم بل کی مخالفت کرنے والے نام نہاداور مغربی مفادات رکھنے والے شامل تھے اس بل پر بہت زیادہ بحث کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ سائیبر کرائم بل پر قائمہ کمیٹی میں بحث کے دوران بعض پارٹیوں کے اراکین سوئے ہوئے ہوتے ہیں سائیبر کرائم بل کے زریعے انٹرنیٹ پر عزتیں اچھالنے والوں کو قانون کے دائرے میں لانا ممکن ہوجائے گاپی ٹی آئی کے رکن ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ سائیبر کرائم بل کے تحت باہر سے آنے والی کرپشن کی فائلوں کو روکنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی ایم کیو ایم کے رکن علی رضا عابدی نے کہاکہ سائیبر کراء بل کی ملک میں اشد ضرورت ہے مگر سائیبر کرائم بل کے زریعے ہر قسم کی آن لائن مصروفیات کو روکنے کی مخالفت کی جائے گی انہوں نے کہاکہ دنیا میں بھر میں 50فیصد سے زیادہ آبادی انٹرنیٹ کا استعمال کر رہی ہے حکومت کو سائیبر کرائم بل کے حوالے سے احتیاط کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ سائیبر کرائم بل پاکستان کیلئے بہت ضروری ہے تاہم اس میں مناسب ترامیم کی جائیں پی ٹی آئی کی رکن ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہاکہ سائیبر کرائم بل پر حکومت کا موقف ایک نہیں ہے ہم نے بل پر محنت کی ہے اور حکومت کے ساتھ تعاؤن کیا ہے رکن اسمبلی ڈاکٹر عذرا فضل نے کہاکہ ہماری پارٹی نے سائیبر کرائم بل پر بہت زیادہ محنت کی ہے مگر ہمارے ممبرا ن پر الزامات عائد کرنا بہت زیادتی ہے انہوں نے کہاکہ معصوم بچوں کو سائبر کرائم بل کے زریعے سزائیں دینا زیادتی ہوگی اس بل سے انسانی حقوق اور اظہار آزادی پر قدغن عائد ہوگی سائبر کرائم بل پر بات کرتے ہوئے قائمہ کمیٹی کے چیرمین نے کیپٹن (ر) صفدر نے کہاکہ بل پر 8 اجلاس کئے گئے اور بل پر پورے ملک سے نمائندے اور علماء کو بلا کر ان سے مشاورت کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ اس بل پر سب سے زیادہ مشاورت کی گئی اور پوری دنیا کے سائبر کرائم قوانین کو نچوڑ نکالا گیا ہے انہوں نے کہاکہ بل کا مقصد بے حیائی کو رکنا ہے اس معاشرے کو ٹھیک کرنا اس پارلیمنٹ کا کام ہے یہ بل ملک کی سالمیت کے لئے بہت ضروری ہے اس موقع پر وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمن نے کہاکہ سائبر کرائم بل پر 2011سے کام ہو رہا ہے اور اس بل پر اتنی لمبی مشاؤرت کا مقصد ان تمام نقائص کو رکنا تھا کہ کسی بھی بے قصور شخص کو سزا نہ دی جا سکے انہوں نے کہاکہ ہم نے بل پر کام بہت پہلے مکمل کر لیا تھا تاہم نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ کے بعد یہ بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بھجوایا گیا تھا انہوں نے کہاکہ اس بل پر اراکین اسمبلی نے بہت زیادہ کام کیا ہے اس بل کا مقصد شخصی آزادی کا تحفظ کرنا ہے یہ بل حکومت کا بل نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے ہر ممبر کا بل ہے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بل پر بہت زیادہ کام کیا گیا ہے اپوزیشن نے اس بل پر حکومت کے ساتھ مکمل تعاؤن کیا ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اس بل سے مستقبل میں نقصانات سامنے نہ آئے جس کے بعد ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے بل کی شق وار منظوری اور اپوزیشن کی ترامیم کے ساتھ بل کو منظور کر لیا۔

مزید :

صفحہ اول -