پاناما لیکس پر بھارت کی طرز کا جوڈیشل کمیشن بننا چاہیے ،وزیر اعظم کے مستعفی ہونے تک رائیونڈ کا دھرنا ختم نہیں کرینگے :عمران خان

پاناما لیکس پر بھارت کی طرز کا جوڈیشل کمیشن بننا چاہیے ،وزیر اعظم کے مستعفی ...

  

لاہور(نمائندہ خصوصی، این این آئی )پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پانامہ لیکس کے معاملے پر پاکستان میں بھی بھارت کی طرز پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں تو رائیونڈ جا کر وزیر اعظم سے ان کی کرپشن بارے پوچھوں گا جبکہ (ن) لیگ والے بنی گالہ آ کر کیا ڈیمانڈ کریں گے ؟لندن میں وائٹ کالر کرائم کی چھان بین کرنے والی دو کمپنیوں سے بات کروں گا ،چوبیس اپریل کو اسلام آباد میں پارٹی کا یوم تاسیس منانے کے بعد تیاری کیساتھ رائیونڈ جائیں گے اور اس بار دھرنا وزیراعظم کے استعفیٰ کے بغیر ختم نہیں ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیئرمین سیکرٹریٹ میں پارٹی رہنماؤں کے اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا اور کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر میاں محمو دالرشید ، چوہدری محمد سروری ،اعجاز چوہدری ، میاں اسلم اقبال ، شعیب صدیقی ، جمشید اقبال چیمہ ، ڈاکٹر مراد راس سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔اجلاس میں یوم تاسیس کی تیاریوں اور اس کے بعد رائے ونڈ کے باہر احتجاج کے حوالے سے تیاریوں بارے تبادلہ خیال کیا گیا ۔ عمران خان نے کہا کہ چوہدری نثار علی خان کی پریس کانفرنس سے انتہائی مایوسی ہوئی ہے ۔ کیا حکومت شوکت خانم ہسپتال کو جگہ عطیہ کرنے کی فائلیں دکھا دکھا کر بلیک میل کرتی رہے گی تاکہ ان کے لیڈروں کی کرپشن کے بارے میں بات نہ کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ وسائل ہونے کے باوجود پاکستان آج تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے ۔ موجودہ حکومت نے تین سالوں میں پانچ ہزارب ارب روپے قرض لیا ہے اور موجودہ حکومت روزانہ چھ ارب روپے قرض لے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار کا یہ کہنا مضحکہ خیز ہے کہ ہمارے پاس اپوزیشن کی فائلیں ہیں لیکن ہم ماحول خراب نہیں کرنا چاہتے ۔ انہوں نے کہا کہ اب ایسے بات نہیں بنے گی ، بھارت میں جوڈیشل کمیشن بن بھی گیا ہے اور اس نے پچیس اپریل کو اپنی رپورٹ پیش کر نی جبکہ یہاں ابھی تک سوچا جارہا ہے ۔ پاکستان میں بھارت کی طرز پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے جس میں چیف جسٹس کے نیچے وائٹ کالر کرائم کی چھان کے ایکسپرٹ شامل ہوں ۔ لندن جار ہا ہوں وہاں اس طرح کے کرائم کا کھوج لگانے کی ماہر دو کمپنیوں سے بات کروں گا ۔ عمران خان نے کہا کہ یہ کہا رہا ہے کہ میرے دائیں اور بائیں کرپٹ لوگ ہیں او رمیں پوچھتا ہوں اس کا فیصلہ کون کرے گا؟۔ آپ حکومت میں ہیں کیوں کرپٹ لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈالتے ۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی آمدنی پچاس مسلمان ممالک کے برابر ہے لیکن وہاں کے وزیر اعظم پر الزامات لگے ہیں ہے کہ اس نے چالیس لاکھ روپے پر پورا ٹیکس کیوں ادا نہیں کیا ۔ پاکستان کے وزیر اعظم کے بچوں کا ذریعہ معاش کوئی نہیں تھا لیکن وہ باہر کاروبار کر رہے ہیں ،آج وہ آف شور کمپنیز کے مالک ہیں ۔ میاں صاحب نے اس معاملے میں ملک کے چار قوانین توڑے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن الزامات لگاتی ہے لیکن پکڑتی نہیں۔ حکومت کا کام بلیک میل کرنا نہیں ہوتا بلکہ حکومت پکڑتی ہے ۔ عوام کے ٹیکسوں کے پیسے کے غلط استعمال کی نشاندہی کرنا میرا حق ہے ۔ برطانوی وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں اپنی صفائی دی وہ ملک سے باہر نہیں گیا اور اس نے اپنے درباریوں کو آگے نہیں کر دیا ۔ میاں صاحب خود بیٹھے ہیں اور انکے دربار ی وضاحتیں دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ (ن) لیگ والے جمائما کے گھر کے باہر احتجاج کرنے جارہے ہیں،میں ان بیوقوفوں سے پوچھتاہوں کہ اسکے گھر کے سامنے جا کر کیاڈیمانڈ کروں گا کیا مانگو گے، میں تو رائیونڈ جاؤں گا میں تو میاں صاحب سے کہوں گا کہ آپ کے بچوں کا پانامہ لیکس میں نام آیا ہے بلکہ آپ کا اپنا نام بھی آ گیا ہے لیکن (ن) لیگ کے درباری اس بیچاری سے کیا مانگیں گے ۔ (ن) لیگ والون کو بالکل عقل نہیں ہے ۔ جمائما نے کوئی قانون نہیں توڑا ۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ والے کہتے ہیں ہم بنی گالہ آئیں گے تو سو بسم اللہ آ جائیں لیکن وہاں مجھ سے ڈیمانڈ کیا کریں گے کیا میرا پانامہ لیکس میں نام آیا ہے لیکن جب میں رائیونڈ جاؤں گا تو وہاں ڈیمانڈ کروں گا ۔ میری (ن) لیگ کے کارکنوں سے بھی درخواست ہے کہ قیادت کی کرپشن کے دفاع کے لئے خود کو ذلیل نہ کرو ۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک بسنے والے پاکستانی دن رات محنت کر کے پاکستان رقم بھجواتے ہیں اور حکمران یہاں سے منی لانڈرنگ کر کے باہر بھجوا دیتے ہیں ۔ یہ صرف عمران خان کی ذمہ دار ی نہیں پوری قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ آواز اٹھائیں کیونکہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ حکمران کیا کر رہے ہیں لیکن پاکستانیوں کو ضرور فرق پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چوبیس اپریل کو پارٹی کا یوم تاسیس منانے اسلام آباد جمع ہوں گے اس کے بعد تیاری کریں گے اور سارے پاکستانیوں سے کہتا ہوں کہ ہم رائے ونڈ جائیں گے اور اپنے مطالبات پورے کرائیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -