مالی سال 2016-17ء کا بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کیا جائیگا

مالی سال 2016-17ء کا بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کیا جائیگا

  

لاہور( اسد اقبال)مالی سال 2016-17ء کا بجٹ جون کے پہلے ہفتے کے دوران وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار قومی اسمبلی میں پیش کریں گے جس کا حجم 5ہزار ارب روپے کے قریب ہوگا ۔ بزنس کمیونٹی اور اقتصادی مشاورتی کونسل کے جی ایس ٹی پر کٹوتی کے مشورے کو نظر انداز کرتے ہوئے سیلز ٹیکس کی 17 فیصد شرح برقرار رکھی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں گریڈ ایک تا پندرہ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد جبکہ اوپر والوں کیلئے 6 فیصد اضافے کا اعلان کریں گے جبکہ پنشنوں میں بھی 10 فیصد اضافے کا اعلان ہوگا ۔اس کے علاوہ مزدور کی کم از کم تنخواہ15 ہزار روپے ماہوار کی جائے گی ۔ البتہ مالی سال 2016-17 کے بجٹ میں صنعتکاروں کو ریلیف دینے کے لیے سو ارب سے زائد کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کیلئے وزارت خزانہ نے تیاری مکمل کرلی ہے جس کیلئے رعائتی ایس آر اوز کا خاتمہ متوقع ہے ۔بتایا گیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں گریڈ 21 ، 22 کے افسران کو موٹو ٹائزیشن پالیسی کے تحت پٹرول کی مد میں ادا کی جانیوالی رقم پر انکم ٹیکس کی چھوٹ ختم کردی جائے گی جبکہ ایف بی آرکے مطالبے پر رفاہی اداروں ، این جی اوز ، آئی این جی اوز اور ٹرسٹ کی آمدنی کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا تاہم ٹیکس کریڈٹ کی سہولت برقرار رہے گی یعنی این جی اوز ، آئی این جی اوز ، ٹرسٹ و فلاحی اداروں کو سالانہ گوشوارے میں آمدنی و اخراجات کی مکمل تفصیلات جمع کرانا ہوں گی جس پر ٹیکس کی کاٹی گئی سو فیصد رقم ریفنڈ کی جائے گی ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سگریٹ پر 2روپے فی فلٹر کے حساب سے جبکہ الیکٹرانکس مصنوعات ٹی وی ، ریفریجریٹر ، ایل سی ڈی ، ایل ای ڈی ، کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ ، ڈیپ فریزر ، ایئرکنڈیشنرز ، غیر ملکی بیوٹی سوپ ، شیمپو ، کریم ، پرفیوم ، شیونگ کریم ، بلیڈ ، آفٹر شیونگ لوشن وغیرہ ٹیٹرا پیک دودھ ، ڈبوں میں بند خوراک ، پٹرول ڈیزل ، تیل مٹی اور ہائی اوکٹین پر 2 فیصد سے 3 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائدکیے جانے کا امکان ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -