لاہور ہائیکورٹ، اورنج ٹرین منصوبے کی نظر ثانی شدہ رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ، اورنج ٹرین منصوبے کی نظر ثانی شدہ رپورٹ عدالت میں پیش کرنے ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے اورنج ٹرین منصوبے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ بادی النظر میں منصوبہ شروع کرنے سے قبل ماحولیاتی اور تاریخی عمارتوں کے تحفظ کو مد نظر نہیں رکھا گیا،فاضل جج نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اورنج ٹرین منصوبے کی نظر ثانی شدہ رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں قائم دو رکنی ڈویژن بنچ نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزاروں کے وکیل اظہر صدیق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اورنج ٹرین منصوبے کے راستے میں آنے والے معذوروں کے سکولوں کو گرا دیا گیا،منصوبہ شروع کرنے سے پہلے محکمہ تحفظ ماحولیات اور آثار قدیمہ سے این او سی حاصل نہیں کئے گئے جو کہ سپریم کورٹ کے احکامات اور قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے،انہوں نے بتایا کہ ماہرین نے تین گھنٹوں میں اورنج لائن ٹرین سمیت چار میگا منصوبوں کی منظوری دی جبکہ عوامی سماعت میں بھی قوانین کو نظر انداز کیا گیا.انہوں نے کہا کہ میگا منصوبہ شروع کرنے سے قبل عالمی سطح پر ٹینڈر بھی نہیں مانگے گئے جبکہ 142 ارب کے منصوبے کی منظوری حاصل کر کے اس کی لاگت 162 ارب تک پہنچا دی،منصوبے کے لئے چینی ایگزیم بینک سے قرضہ حاصل کر کے پنجاب کے شہریوں کو قرضوں کے بوجھ کے نیچے دبا دیا گیاجس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں دکھائی دے رہا ہے کہ منصوبہ شروع کرنے سے قبل ماحولیاتی اور تاریخی عمارتوں کے تحفظ کو مد نظر نہیں رکھا گیا،عدالت نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اورنج ٹرین منصوبے کی نظر ثانی شدہ رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 18اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے مزید دلائل طلب کر لئے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر