پنجاب کی جیلوں میں مچھر اور مکھیوں کی بھرمار، قیدی امراض میں مبتلا ہونے لگے

پنجاب کی جیلوں میں مچھر اور مکھیوں کی بھرمار، قیدی امراض میں مبتلا ہونے لگے

  

لاہور(رپورٹ: محمد یو نس با ٹھ)گر می کا آغاز ہو تے ہی مچھر اور مکھیو ں کے با عث پنجاب کی بیشتر جیلوں میں سینکڑوں قیدی اور حوالاتی وبائی اور متعدی امراض میں مبتلا ہو نا شروع ہو گئے ہیں اور مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ جیل ذرائع کے مطابق 25 فیصد سے زائد قیدی اور حوالاتی ملیر یابخار کھانسی ،نزلہ اور دیگر موذی امراض میں مبتلا ہیں ۔ویسے تو جیل میں پانی کے صاف نہ ہونے کی وجہ سے سینکڑوں قیدی و حوالاتی ہیپا ٹائٹس جیسے خطرناک مرض میں مبتلا ہیں جبکہ سینٹرل جیل کوٹ لکھپت میں 8مریض ایسے بھی بیان کیے گئے ہیں جو کہ ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں تاہم جیلوں میں علاج معالجہ کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔با خبرذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پنجاب کی 37جیلوں میں قیدیوں اور حوالاتیوں کے بیمار ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔جیل ذرائع کے مطابق یہ بیماریاں گر می کی شدت کے باعث بڑھ رہی ہیں ۔جیلوں میں گر می سے بچا ؤکے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے گئے جیلوں میں لگائے جانے والے آہنی جنگلے گر م ہوا کے باعث قیدیوں اورحوالاتیوں کی بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں جیل انتظامیہ پر یہ لازم ہے کہ آہنی جنگلوں میں دھا گے کی بوریا ں لٹکا ئی جائیں مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ جو شاپر لگائے گئے تھے وہ تمام کے تمام پھٹ چکے ہیں قیدیوں اور حوالاتیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ان جنگلوں پر شاپر لگانے کی کوشش کی ہے جو کہ مکمل طور پر ان جنگلوں کو ڈھانپ نہیں سکے ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ قیدی دیگر جیلوں سے بھی یہاں لائے گئے ہیں کیونکہ ایڈز کے علاج معالجہ کے لیے سینٹرل جیل کوٹ لکھپت ہی کو یہ سہولت حاصل ہے کہ ان کا یہاں علاج کیا جاتاہے ۔علاوہ ازیں دیگر جیلوں سے ہیپا ٹائٹس کے مریض بھی سینٹرل جیل کوٹ لکھپت بھجوا دیے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کی بیشتر جیلوں میں اڑھائی ہزار سے زائد قیدی ہیپا ٹائٹس کے مرض میں مبتلا بیان کیے گئے ہیں اور ان کے علاج کے لیے جیل انتظامیہ کے پاس مناسب انتظامات نہیں ہیں قیدیوں اور حوالاتیوں کے مطابق جیل میں فراہم کی جانے والی ادویات ناکافی ہیں تمام امراض کے حامل مریضوں کو ایک ہی قسم کی ادویات دی جاتی ہیں ۔بخار ،زکام ،سردرد ،ملیریا ،کالی کھانسی ،یرقان اور دیگر موذی بیماریوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے اور یہ بیماریاں انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی سے بڑھ رہی ہیں ۔جیل انتظامیہ نے اس بارے میں چپ سادھ رکھی ہے اور وہ علاج معالجہ کے لیے سرگرم دکھائی نہیں دیتے ۔جیل ذرائع کے مطابق 25 فیصد سے زائد قیدی اور حوالاتی بخار کھانسی ،نزلہ اور دیگر موذی امراض میں مبتلا ہیں ۔ویسے تو جیل میں پانی کے صاف نہ ہونے کی وجہ سے سینکڑوں قیدی و حوالاتی ہیپا ٹائٹس جیسے خطرناک مرض میں مبتلا ہیں جبکہ سینٹرل جیل کوٹ لکھپت میں 8مریض ایسے بھی بیان کیے گئے ہیں جو کہ ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں ان بیماریوں کے بارے میں جیل انتظامیہ کا موقف ہے کہ قیدیوں اور حوالاتیوں کے جیلوں میں باقاعدگی سے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں اور ان کے علاج معالجہ پر بھی پوری توجہ دی جاتی ہے ۔

مزید :

صفحہ آخر -