ضلع چکوال کے سیاسی منظر نامے میں توازن کی فضا برقرار

ضلع چکوال کے سیاسی منظر نامے میں توازن کی فضا برقرار

  

چکوال(ڈسٹرکٹ رپورٹر)ضلع چکوال کے سیاسی منظر نامے میں توازن کی فضا برقرار ہے یہ الگ بات ہے کہ مئی 2013کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے سو فیصد بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی اور بعد ازاں خواتین کی مخصوص نشستوں پر مہوش سلطانہ ایم پی اے، بیگم عفت لیاقت ایم این اے اور جنرل عبدالقیوم سینٹ کے رکن منتخب ہوئے اور پھر سدابہار ملک سلیم اقبال کو معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب بھی مقرر کر دیا گیا اور اس طرح ضلع چکوال کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی میں بھرپور نمائندگی کا اعزازحاصل ہوا۔ اس حوالے سے ضلع چکوال کے 15لاکھ عوام کو اپنے منتخب عوامی نمائندوں کو بڑی توقعات وابستہ تھیں مگر اب تین سال گزر چکے ہیں موجودہ عوامی نمائندے کوئی قابل ذکر کارکردگی سامنے نہیں لا سکے جس پر 31اکتوبر 2015کی رات کو ضلع چکوال کی عوام نے بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ ن کے نامزد امیدواروں کو تقریباً مسترد کر دیا اور ضلع چکوال کی68یونین کونسلوں میں سے چالیس پر مسلم لیگ ن مخالف امیدوار کامیاب ہوئے، سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ یہ نتائج منتخب عوامی نمائندوں کے باہمی اختلافات کی وجہ سے سامنے آئے ہیں اور تحصیل تلہ گنگ اور لاوہ میں بلدیاتی انتخابات مسلم لیگ ن بمقابلہ مسلم لیگ ن لڑے گئے ہیں ، میونسپل کمیٹی چوآسیدنشاہ میں بھی کسی امیدوار کا انتخابی نشان شیر نہیں تھا ، یونین کونسل بوچھال خورد ، یونین کونسل ڈنڈوت، یونین کونسل چک نورنگ میں بھی کسی امیدوار کا نشان شیر نہیں تھا۔ بہرحال پی ٹی آئی بھی خلاف توقع کوئی کارکردگی نہ دکھا سکی اور صرف پانچ چیئرمین بھی بمشکل منتخب کر اسکی۔ مسلم لیگ ق نے بھی پانچ چیئرمین منتخب کرائے مگر ساتھ ہی میونسپل کمیٹی تلہ گنگ اور میونسپل کمیٹی لاوہ میں بھی اکثریت حاصل کر لی۔ میونسپل کمیٹی بھون میں پی ٹی آئی اور سردار عباس کا اتحاد سر چڑھ کر بولا اور بھون جسے مسلم لیگی قلعہ کہا جاتا تھا زمین بوس ہوگیا، میونسپل کمیٹی کلر کہار میں بھی مسلم لیگ ن بری طرح سے پٹی سردار عباس اور پی ٹی آئی کی ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ تمام پانچ نشستیں جیت لیں۔ اب پھر پاناما لیکس کے بعد سیاسی ہلچل شروع ہونے والی ہے مگر پی ٹی آئی کے پاس اتنا بھرپور سٹریٹ پاور ضلع چکوال میں دکھائی نہیں دیتا۔ سردار عباس ضلع چکوال کی بڑی سیاسی قوت ہیں مگر ابھی تک کسی بڑی سیاسی جماعت کی آشیر باد سے محروم ہیں۔ پیپلز پارٹی میں بالکل دم خم نہیں جماعت اسلامی کا اپنا وجود اور ہلکی پھلکی سٹریٹ پاور موجود ہے پاکستان عوامی تحریک کے جیالے اور پرجوش کارکن زیر زمین ہیں، اگر اپوزیشن قوتیں متحد ہوکر میدان میں نکلیں تو آنے والے عرصے میں ضلع چکوال میں مسلم لیگ ن کے قلعے کو مسمار کر سکتی ہیں اور مسلم لیگی قلعہ میں دراڑیں واضح طو رپر دیکھی جا سکتی ہیں، بہرحال صورتحال بڑی دلچسپ ہے اور ایک بات یقینی ہے کہ ضلع چکوال کا سیاسی منظر نامہ یکسر تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -