مزدوروں کو صحت کی بہتر سہولیات فراہمی کامنصوبہ پانچ سال بعد بھی نامکمل

مزدوروں کو صحت کی بہتر سہولیات فراہمی کامنصوبہ پانچ سال بعد بھی نامکمل

  

لاہور(جنرل رپورٹر ) محکمہ سوشل سیکورٹی کے زیر انتظام مزدوروں کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لئے کروڑوں کا منصوبہ پانچ سال بعد بھی نامکمل، بیوروکریسی نے اپنی غلطی چھپانے کے لئے ذمہ داری ڈاکٹروں پر ڈال دی۔محکمہ سوشل سیکیورٹی کے زیر انتظام لاہور سمیت صوبے بھر کے مزدوروں کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے 2011 میں ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔ جس کے لئے10 کروڑ سے زائد کی لاگت سے کمپیوٹرز، ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر سمیت دیگر سامان منگوایا گیا تھا۔منصوبے کے مطابق سوشل سیکیورٹی کے رجسٹرڈ مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کا تمام ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیا جانا تھا، جبکہ ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور ادویات کی تمام تفصیلات کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا جانا تھا۔ تاہم پانچ سال گزرنے کے بعد بھی منگوایا گیا بیشتر سامان ڈبوں میں بند پڑا ہے۔کچھ عرصہ قبل صوبائی وزیر محنت راجا اشفاق سرور نے اس معاملے پر افسران کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ڈیٹا سنٹر فوری شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔تاہم ذرائع کے مطابق ڈیٹا سنٹر کے لئے بھی کمپیوٹر آپریٹرز اورٹیکنیکل سٹاف فراہم نہیں کیا گیا بلکہ سینئر ڈاکٹروں کو ڈیٹا سنٹر چلانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے جس پر ڈاکٹروں اور سوشل سیکیورٹی افسران کے مابین اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ روزانہ سینکڑوں مریضوں کا علاج کرنا اور پھر ڈیٹا انٹری بھی کرنا ان کی ذمہ داری میں شامل نہیں مگر افسران نے اپنی غلطی چھپانے کے لئے سارا ملبہ ان پر ڈال دیا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -