محنت کشوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ہر سطح پر کوشش کی جائے گی :انیسہ زیب طاہر خیلی

محنت کشوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ہر سطح پر کوشش کی جائے گی :انیسہ زیب طاہر ...

پشاور( پاکستان نیوز)خیبر پختونخوا کی وزیر محنت اور معدنی ترقی انیسہ زیب طاہر خیلی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (ESSI) کے ہسپتالوں اورڈسپنسریز میں کارخانوں کی پرچی پر مزدوروں کودوائیاں فراہم کرنے اور چیک اپ کا طریقہ کار ختم کیاجائے اور اس سلسلے میں صرف محنت کشوں کا رجسٹرڈلیبرکارڈقابل عمل قرار دیاجائے تاکہ حکومت کی جانب سے محنت کشوں کوفراہم کی جانے والی طبی سہولیات سے حقدار کو صحیح طریقے سے فوائد حاصل ہو سکیں۔محنت کشوں کی جہیز اورڈیتھ گرانٹ کی فراہمی اور ان کے بچوں کے وظائف کے مسائل کو حل کیا جا رہا ہے اور بلا تعطل ان سہولیات کو آگے بڑھایا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار بدھ کے روز انہوں نے پشاور میں صوبہ بھر کی لیبر یونینز کے ایک مشترکہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈسلیم خان،ڈائریکٹرلیبرعرفان اللہ اور ڈی جی ای ایس ایس آئی انور خان کے علاوہ لیبر یونینز کے عہدیداروں میرازم خان،اسلم عادل،حبیب الرحمان،طلاء محمد ودیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں محنت کشوں کی نمائندہ تنظیموں کے عہدیداروں نے صوبائی وزیر کو مختلف صنعتی بستیوں اور حکومتی اداروں میں محنت کشوں کودرپیش مسائل سے تفصیلی طور پر آگاہ کرتے ہوئے ان سے اس ضمن میں تعاون مانگا ۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ صوبہ بھر میں حکومتی سہولیات سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے صنعتوں میں کام کرنے والے غیر رجسٹرڈ لیبر کارکنوں کو متعلقہ محکمے کے ساتھ اپنی رجسٹریشن کرانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ محنت کشوں کو رہائش کے مالکانہ حقوق دینے کی غرض سے ایک نئی سکیم متعارف کرانے کے سلسلے میں وفاقی حکومت کے متعلقہ ادارے ورکرز ویلفیئر فنڈ سے بات چیت کی جائے گی اوراس سلسلے میں صنعتی مالکان،ورکرز اور حکومت تینوں کی مشاورت شامل کی جائے گی جبکہ اس بارے میں متعلقہ حکام سے دیگر صوبوں کی مساویانہ رپورٹس فراہم کرنے کی ہدایت کی۔صوبائی وزیر نے یقین دلایا کہ محنت کش طبقے کے بچوں کے لئے یونیفارم کی مد میں فراہم کی جانے والی مالی معاونت میں شفافیت لانے اور حقدارکو انکا صحیح حق پہنچانے کے لئے اب ان رقوم کوچیک کی صورت میں دیا جائے گا جبکہ ان بچوں کوکتب فراہمی کا مسئلہ بھی حل کیا جائے گااور وظائف فراہمی میں بھی شفافیت لاکر حقدار کوصحیح معنوں میں اس کا حق پہنچانا چاہتے ہیں جبکہ پہلے اس سہولت کو غلط استعمال کرکے حقدار کی جگہ دیگر لوگوں نے فوائد حاصل کئے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ورکنگ فوکس گرائمر سکولوں کا معیار پہلے زیادہ بہترتھاتاہم کئی وجوہات کی بناء پر یہ معیار نیچے آیا اور اب انکی اولین کوشش اورخواہش ہے کہ ان تعلیمی اداروں کو واپس اسی مقام اور معیار پر پہنچایاجائے۔انہوں نے کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کوضروری طبی سہولیات کی بروقت فراہمی کے لئے طریقہ کار وضع کرنے کے لئے جلد از جلد کول مائن اونرز،مائنرورکرز،محکمہ معدنیات اورای ایس ایس آئی کی ایک مشترکہ میٹنگ طلب کرنے کی ہدایت کی جبکہ متعلقہ محکمے کو صوبے میں محکمہ محنت کے زیر انتظام چلنے والے دستکاری سنٹرزکے بارے میں تفصیلات پر مبنی رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ نظام ٹھیک کرنااکیلے حکومت کا کام نہیں اس میں عوام کا بھی کلیدی کردار کار فرما ہے اسلئے محکمہ محنت کو صحیح سمت میں آگے لانے کے لئے انکے ساتھ محنت کشوں کا تعاون نہایت ضروری ہے۔انہوں

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر