سعودی عر ب کا مذہبی پولیس کے اختیارات میں کمی کا فیصلہ، مشتبہ افراد کا پیچھا کرنے کا اختیار ختم

سعودی عر ب کا مذہبی پولیس کے اختیارات میں کمی کا فیصلہ، مشتبہ افراد کا پیچھا ...
سعودی عر ب کا مذہبی پولیس کے اختیارات میں کمی کا فیصلہ، مشتبہ افراد کا پیچھا کرنے کا اختیار ختم

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی حکام نے ملک کی سب سے طاقتور سمجھی جانیوالی مذہبی پولیس” مطوع “کے اختیارات میں کمی لانے کا فیصلہ کر لیا جس کی کابینہ نے منظوری بھی دیدی۔ نئے قوانین کے  تحت مشتبہ افراد کا پیچھا کرکے حراست میں لینے کا اختیار  ختم کرکے پابندیوں کا اطلاق نرم اور ہمدردانہ طریقے سے کرنے کا پابندبنایاگیا۔ 

نئے قوانین کے تحت مذہبی پولیس مرد اور عورتوں کو گھلنے ملنے سے روکے گی اور الکوحل پر پابندی کو نافذ کرے گی جبکہ خواتین پر ڈرائیونگ کرنے کی پابندی اور دیگر سماجی پابندیاں نافذ کرتی رہے گی تاہم نئے قوانین میں کہا گیا ہے ۔نئے قوانین میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ واضح طور پر اپنی شناخت کروائیں گے جس میں ان کا نام، عہدہ، وغیرہ شامل ہو گا۔اختیارات میں کمی کے بعد ’ادارہ برائے امر بالمعروف و النہی عن المنکر‘کے اہلکاروں کو کسی بھی مشتبہ شخص کا تعاقبءحراست میں لینے یا اس کی شناخت معلوم کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ مذہبی پولیس کے اہلکار صرف مشتبہ فرد کی معلومات سکیورٹی فورسز کو دیں گے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

یاد رہے کہ مذہبی پولیس اہلکار سعودی عرب میں سڑکوں پر گشت کرتے ہیں اور سماجی رویوں پر نظر رکھتے ہیں۔ تاہم ان پر اکثر الزامات لگائے جاتے ہیں کہ وہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہیں۔رواں سال فروری میں مذہبی پولیس کے کئی اہلکار اس وقت گرفتار کیے گئے تھے جب انھوں نے ریاض میں ایک شاپنگ سینٹر کے باہر ایک نوجوان عورت کو زدوکوب کیا اور اس کی ویڈیو لیک ہو گئی تھی۔

موسیک فونسیکا لاٗفرم کے دفتر پر چھاپے کی خبر جاننے کیلئے اس لنک پر کلک کریں 

اس کے علاوہ 2013 میں چار پولیس اہلکاروں پر الزام لگایا گیا کہ وہ دو بھائیوں کا گاڑی میں تعاقب کر رہے تھے کہ اس دوران ایک خوفناک ٹریفک حادثہ ہو گیا جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔ واقعے کے بعد پولیس حکام نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ گاڑی کا تعاقب اس لیے کر رہے تھے کہ ملزمان کو گاڑی میں ریڈیو کی آواز کم کرنے کا حکم دیا تھا جو انہوں نے نہیں کیا اور گاڑی بھگا دی۔ پولیس کے اس موقف کے بعد عدالت نے ان اہلکاروں کو بری کر دیا تھا۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں۔

بی بی سی کے مطابق سرکاری سعودی پریس ایجنسی پر اس کی تفصیل شائع نہیں ہوئی۔

مزید :

عرب دنیا -