سیاست اور جمہوریت

سیاست اور جمہوریت
سیاست اور جمہوریت

  


سیاست میں کس طرح کے لوگوں کو آنا چاہیے؟ سیاست دان سارے گندے نہیں ہوتے ہوں گے، ان میں سے کچھ لوگ گندے ہوتے ہوں گے باقی اچھے ہوتے ہوں گےاور شاید کچھ نہ تو اچھے اور نہ ہی بر ے ہوتے ہیں۔ اب گندے لوگوں کو اچھے لوگوں سے الگ کیسے کیا جاے؟ اگر گندے لوگ خود چیخنا  شروع کردیں کہ گندے لوگوں کو ووٹ نہ دو تو پھر کیا کریں؟ ان کی بات سن کر عام لوگ یہی نتیجہ اخذ کر لیتے ہوں گے کہ کم از کم یہ شخص جو یہ بات خود کہہ رہا ہے خود تو فئیر ہوگا ،لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مذکورہ شخص خود کو اسی لیے سیاستدان کہلواتا ہے کہ وہ یہ داو پیچ جانتا

ہے ۔

لوگ سیاست میں کیوں آتے ہیں؟ کیا آپ کے ابو سیاست میں تھے اور آپ بھی سیاست میں آگیے؟ کیا آپ ملک اور حکومت کے سیاسی ڈھانچے کو سمجھتے ہیں اور آپ نے محسوس کیا ہے کہ نظام میں فلاں فلاں جگہ خرابی ہے اور اسے ٹھیک کرنا ہوگا اس لیے آپ سیاست میں آگیے؟ کیا آپ حادثاتی طور پر سیاست میں تو نہیں آگیے؟ یعنی دوستوں کی حوصلہ افزائی اور اکسانے پر ،  اگر ایسا ہے تو یقیناًآپکے دوست سیاست دان ہیں آپ نہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ مکمل طور پر مختلف نظریہ رکھتے ہوں اور آپکے نظریے کا جنون آپکو سیاست میں لے آیا ہو  تو آپ سیاست میں کیوں آے؟ کیا پتہ آپ فارغ البال ہوں اور آپ نے سیاست کو مشغلہ بنا لیا ہو۔ یا واقعی آپ کے دل میں عوام کا درد موجود تھا اور آپ نے سیاست کے خاردار راستے کو چنا ہے،  لوگ سیاست اور سیاست دانوں پر شک و شبہ کیوں کرتے ہیں؟

اخبارات ذرائع ابلاغ کے ذریعے ایک لفظ بہت سنا گیا ہے اور وہ ہے جمہوریت۔ قید وبند کی مصیبتیں جھیلتے ہوئے  سیاسی اکابرین سے پوچھا گیا کہ آپ جیلوں میں کیوں پڑے ہوے ہیں؟ بولے جمہوریت کے لیے قربانیا ں دے رہے ہیں۔ جلا وطن سیاسی اکابرین بھی یہی کہتے ہیں کہ انہوں نے جمہوریت کے لیے قربانی دی ہے۔ الیکشن ہارنے پر اپوزیشن واویلا کرتی ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے، جمہوریت کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔ دوبارہ الیکشن کروائے جائیں تاکہ ملک میں جمہوریت کا بول بالا ہو۔ الیکشن جیتنے والی پارٹی اکثر شکایت کرتی رہتی ہے کہ جمہوریت کو چلنے نہیں دیا جارہا ، جمہوری نظام کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع دیا جاے۔ سیاسی جماعتوں کے جلسے جلوسوں میں جیالے کارکن جمہوریت کے نعرے لگاتے ہیں،  سیاسی اکابرین اپنی تقاریر کا آغاز اور اختتام لفظ جمہوریت پر کرتے ہیں۔کیا عوام نے نہیں دیکھا کہ بیشتر سیاسی پارٹیوں کی قیادت باپ پھر بیٹے پھر پوتے اور یقیناً پڑپوتے تک جاتی دکھائی دے رہی ہے؟  وہ پڑ پوتا جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوا وہ آپکی ایک بڑی سیاسی جماعت کی بھاگ ڈور سبنھالے گا ،  سارے کہ سارے جیالے کارکنوں کے بیٹے اور پوتے پڑپوتے اسے سلامی دیں گے ۔ اس کے لیے نعرے لگائیں گے اور ایک دوسرے کے گریباں چاک کریں گے۔یہ سیاسی جماعتیں پارٹی کے اندر الیکشن کیوں نہیں کرواتی؟ نہیں تو  کئی ایک نے الیکشن کروائے ہیں پھر کیا ہوا؟ وہی پرانے والے لیڈر موصوف پھر سے منتخب ہوگئے،  بلا مقابلہ منتخب ہوئے  ،  یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اتنی بڑی سیاسی جماعت میں کوئی بھی شخص نہیں تھا جو موجودہ قیادت کو چیلنج کرتا ؟ اس پارٹی کی سیاسی قیادت کیا باقی سارے کہ سارے سیاستدانوں اور کارکنوں سے زیادہ با صلاحیت، پڑھی لکھی اور اہل ہے؟ یا کسی کی جرات ہی نہیں کہ پارٹی قیادت کو پارٹی کے اندرونی الیکشن میں چیلنج کرسکے؟ کرکے تو دیکھے،  وہ سیاسی پارٹی کے لیڈر موصوف کی نہ صڑف  حمایت بلکہ اپنے حلقے سے  ٹکٹ کا حق بھی کھودے گا  اور پھر پارٹی سے دھتکار کے نکال دیا جائے  گا ،  تو گویا سیاسی پارٹیوں کے اندر ونی الیکشن ہوتے ہی نہیں ، یا اگر ہوتے ہیں تو محض کاغذی کاروائی کی حد تک ہوتے ہیں اور کسی کی اتنی جرات نہیں ہوتی کہ پارٹی کے ہیڈ کے خلاف الیکشن لڑے۔کس قدر غیر جمہوری ہے یہ سیاسی پارٹیوں کا اپنا اندرونی نظا م؟ پارٹی کے ہیڈ موصوف کیا ان لوگوں کی ایک ٹیم ترتیب نہیں دیتے جو ذاتی حیثیت میں ان کے بہت قریب ہوتے ہیں؟  یہ پارٹی کے مرکزی عہدے دار کون لوگ ہیں؟ یہ کتنے عشروں سے بدل بدل کر عوام پر مسلط ہوتے ہیں؟ آپ کے حلقے میں تین یا چار افراد نے بدل بدل کر حلقے کی نمائندگی کرنی ہے ایساکیوں ہے؟  سیاست اور قانون سازی کی اہلیت حلقے میں صرف تین یا چار افراد کے پاس ہی کیوں ہے؟ مزدور کے بچے نے ہمیشہ مزدور کیوں رہنا ہے؟ تو کیا  سیاسی پارٹیوں اور انکے لیڈروں کا جمہوریت کا نعرہ کھوکھلا ہے ؟ سب فراڈ ہے کیا؟اگرچہ فوج سرحدوں کی محافظ  اور ساری ناگہانی آفات پر بھی فوج کو ہی پکارا جاتا ہےاور اقتدار اور سیاست کی بھاگ ڈور سنبھالنا بھی ایک اضافی اور بھاری بوجھ فوج پر پڑتا رہا ہے۔ سب کو معلوم ہے فوج کے کام کرنے کا طریقہ مختلف  اور منفرد ہے لیکن یہ سیاسی پارٹیاں ، انکے عسکری ونگز ، انکی ڈکٹیٹر مائنڈ لیڈر شپ جمہوریت تو نہ ہوئی۔  ان سیاسی پارٹیوں کے اکابرین کو دیکھیں تو ذرا،  امرا ، جاگیردار ، وڈیرے اور جو نئی انقلابی پارٹی بنے اس میں بھی روٹھے ہوے لوٹے امرا ، لوٹے جاگیردار اور لوٹے وڈیرے ملیں گے ٹکٹ انہی کو ملیں گے کیوں کہ یہ منتخب ہوسکتے ہیں۔ ترقی پذیر معاشرے میں ایشیوز پر سیاست نہیں ہوتی جیالے کارکن ایک دوسرے کا گلہ چاک کرتے ہیں، ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اتاردیتے ہیں۔کیا جیالوں کو اس قدر یقین کامل ہوتا ہے کہ آپکی سیاسی پارٹی کا رہنماجو بظاہر آپکی مخالف سیاسی پارٹی کے رہنما کوچیر پھاڑنے کے لیے بے تاب نظر آتا ہےنہ جانے کب سرے عام اسے گلے لگا لے؟ ا س سے اتحاد کرلے؟  جیالوں کو معلوم تو ہے کہ حلقے میں دو یا تین آدمی بدل بدل کر منتخب ہوتے ہیں انکے بعد انکے بیٹے منتخب ہوا کریں گےپھر پوتے اور پڑپوتے منتخب ہوں گے ۔

اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔

سردار پرویز محمود ناروے میں رہائش پذیرکشمیر  یورپین الائنز کے صدرہیں۔

مزید : بلاگ