سعودی عرب میں خواتین بھی ’بلیک‘ میں ’فروخت‘ ہونے لگیں، یہ کون ہیں؟ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

سعودی عرب میں خواتین بھی ’بلیک‘ میں ’فروخت‘ ہونے لگیں، یہ کون ہیں؟ جان کر ...
سعودی عرب میں خواتین بھی ’بلیک‘ میں ’فروخت‘ ہونے لگیں، یہ کون ہیں؟ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) رمضان المبارک کی آمد قریب آتے ہی سعودی عرب میں گھریلو ملازماﺅں کی بلیک مارکیٹ میں تجارت کا بازار گرم ہو گیا ہے، اور اس مارکیٹ میں کام کرنے والے ایجنٹوں نے بھی ڈھیروں ریال کمانے شروع کردئیے ہیں۔

سعودی گزٹ کے مطابق جون کے آغاز میں رمضان المبارک شروع ہونے کے پیش نظر گھریلو ملازماﺅں کی ضرورت بہت بڑھ گئی ہے اور مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ایک انڈونیشیائی گھریلو ملازمہ کے انتقال اقامہ کا خرچہ 35000 ریال جبکہ فلپائنی گھریلو ملازمہ کے لئے یہی خرچہ 15000 ریال تک پہنچ گیا ہے۔

غصے سے بھری سعودی خاتون ٹی وی اینکر نے شوکے دوران ایسی ’خطرناک‘ بات کہہ دی کہ پوری عرب دنیا میں ہنگامہ برپاہوگیا

قانون دان سعد المالکی نے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اضافی منافع کے لئے گھریلو ملازماﺅں کی تجارت انسانی حقوق کی خلاف ورزی، ہیومن ٹریفکنگ اور واضح قانون شکنی کے زمرے میں آتی ہے، جس کی سخت سزا دی جانی چاہیے۔

رمضان المبارک میں گھریلو کاموں میں اضافے اور مہمانوں کی آمدورفت و سماجی تقریبات کی وجہ سے ملازماﺅں کی ضرورت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے گھریلو ملازماﺅں کی بلیک مارکیٹ حرکت میں آجاتی ہے۔ سعودی گھرانوں میںا نڈونیشیائی ملازماﺅں کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے کیونکہ وہ ناصرف سعودی تہذیب اور روایات سے آگاہی رکھتی ہیں بلکہ انہیں کھانے پکانے کی ماہر بھی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بعد ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والی گھریلو ملازماﺅں کو ترجیح دی جاتی ہے۔

اگرچہ اکثر سعودی خاندان مستقل طور پر ملازمائیں رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں مگر رمضان المبارک کے مہینے میں عارضی طور پر بھی ملازمائیں رکھی جاتی ہیں۔ عارضی ملازمت کے لئے عموماً کفیلوں سے فرار اختیار کرنے والی ملازمائیں بھرتی کی جاتی ہیں۔

مزید :

عرب دنیا -