’امریکہ مجھ پر ڈرون حملہ کرکے مارنا چاہتا ہے کیونکہ۔۔۔‘ وزیرستان کے شہری نے ایسی بات کہہ دی کہ پوری دنیا دیکھتی رہ گئی

’امریکہ مجھ پر ڈرون حملہ کرکے مارنا چاہتا ہے کیونکہ۔۔۔‘ وزیرستان کے شہری نے ...
’امریکہ مجھ پر ڈرون حملہ کرکے مارنا چاہتا ہے کیونکہ۔۔۔‘ وزیرستان کے شہری نے ایسی بات کہہ دی کہ پوری دنیا دیکھتی رہ گئی

  

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والے ہر شخص کو دہشت گرد قرار دیتا ہے اور یوں کئی بے گناہوں کی ہلاکت کے اصل حقائق کبھی سامنے نہیں آتے۔ ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی اس فہرست کا حصہ بننے سے بچنے کے لئے وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی سردار نے برطانیہ جا کر شور مچا دیا ہے کہ امریکا انہیں ڈرون حملے میں مارنے کی کوشش کررہا ہے، جس کے بعد برطانوی اور امریکی حکام کو سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کیا جائے اور کیا کہا جائے۔

ملک جلال نامی اس شخص نے بی بی سی ریڈیو کو دئیے گئے انٹرویو کو بتایا کہ امریکا نے ان کا نام ان لوگوں کی فہرست میں لکھ رکھا ہے کہ جنہیں ڈرون حملے کے زریعے ختم کرنا ضروری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں یہ بات اس وجہ سے معلوم ہے کہ وہ چار مرتبہ ڈرون حملے میں مرتے مرتے بچے ہیں، جبکہ انہیں کچھ سکیورٹی ذرائع سے بھی خبر ملی ہے کہ وہ امریکی ڈرون کے نشانے پر ہیں۔

برسلز ائرپورٹ: 2 نوجوان مشکوک گاڑی چھوڑ کر فرار، پولیس، بم سکواڈ طلب، کلیئر قرار

ملک جلال نے امریکا کی بجائے برطانیہ جانے کے بارے میں کہا، ”میں برطانیہ کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکا ہماری بات نہیں سن رہا، لہٰذا آپ اسے بتائیں کہ وہ وزیرستان والوں کو ہلاک نہ کرے۔“ ان کی طرف سے برطانوی سیکرٹری داخلہ تھریسا مے اور سیکرٹری خارجہ فلپ ہیمنڈ کو بھی خط تحریر کیا گیا ہے، جس کی نقل امریکی سفیر کو بھی بھیجی گئی ہے ۔

ملک جلال کا کہنا ہے کہ امریکا نے انہیں دہشت گرد قرار دے رکھا ہے جبکہ وہ نارتھ وزیرستان پیس کمیٹی کے لئے کام کرتے ہیں، جو کہ طالبان کو امن کی طرف لانے کے لئے کوشاں ہے۔ ان کے دھماکے دار انکشافات پر برطانوی اور امریکی سکیورٹی حکام نے چپ سادھ لی ہے۔

واضح رہے کہ ملک جلال کے برطانیہ پہنچنے سے محض ایک دن قبل انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ریپریو کی طرف سے 50 صفحات پر مبنی ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برطانوی سکیورٹی اداروں کی مدد سے ایک فہرست تیار کی گی ہے جس میں ماورائے قانون قتل کے نشانے پر موجود افراد کے نام شامل ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -