حق پرست بمقابلہ وفا پرست

حق پرست بمقابلہ وفا پرست
 حق پرست بمقابلہ وفا پرست

  

گزشتہ سال اگست کے مہینے کی بات ہے کہ 22تاریخ کو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی تقریر کی وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ ملک کے بڑے سیاسی اور صحافتی حلقے تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تھے کہ لندن اور پاکستان کے درمیاں سات سمندر کا فاصلہ ہو گیا ہے۔ حالات نے ایم کیو ایم کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ مارچ کے مہینے میں پاک سر زمین پارٹی وجود میں آئی۔ ایم کیو ایم کے کئی رہنماء اور آراکین اسمبلی الطاف حسین سے ہاتھ چھڑا کر مصطفے کمال کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال بیٹھے۔ اس تقسیم کو بھی ایک حلقہ دکھاوے کا نام دے رہا تھا لیکن مصطفے کمال اور انیس قائم خانی کے تیور اور تقاریر کو سن کر یہ یقین کرنے پر تیار ہو گئے تھے کہ پاک سر زمین پارٹی ایک علیحدہ شناخت ہے جو لندن کے اثرات سے محفوظ ہے۔ اسی سال اگست میں ایم کیو ایم پاکستان وجود میں آگئی۔ ڈاکٹر فاروق ستار جیسے وفادار نے پہل کی اور اعلان کر دیا کہ اب ان کا لندن سے تعلق ختم ہو گیا ہے۔ ایم کیو ایم کے درجنوں منتخب اراکین اسمبلی نے ان کے اعلان کی تائید کی ، کراچی اور حیدرآباد کے منتخب میئر حضرات نے بھی لندن سے ناطے توڑ لئے۔ اس کے باوجود سیاسی مبصرین لندن اور پاکستان کے درمیاں تانے بانے جوڑنے میں مصروف رہے۔

حیدرآباد میں بلدیہ کی ایک یونین کونسل کے چیئرمین فاروق قریشی کے انتقال کے بعد آج جمعرات کو اس حلقے میں ضمنی انتخاب ہو ئے ۔ انتخابی نتائج بتا رہے ہیں کہ عام لوگ کیا سوچ رکھتے ہیں اور وہ کہاں کھڑے ہیں۔ کیا وہ ایم کیو ایم پاکستان کے حامی ہیں یا ابھی تک ان کی وفاداریاں الطاف حسین یا ایم کیو ایم لندن کے ساتھ ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان نے توقیر احمد کو اپنا امیدوار نامزد کیا جن کا نشان پتنگ تھا اور انہیں حق پرست کہا گیا ۔ ان کے مدمقابل آصف بیگ ایک غیر اہم اور غیر مشہور شخص ہیں ان کا نشان کپ تھا ، ایم کیو ایم لندن نے انہیں وفا پرست قرار د ے کر ان کی حمایت کا علان کردیا۔ حالانکہ یونین کونسل کے اس حلقے میں صرف پانچ ہزار دو سو رجسٹرڈ ووٹ ہیں لیکن صرف بارہ سو سے کچھ ہی زائد ووٹ ڈالے گئے۔ لوگوں کی اکثریت بظاہر آزاد امیدوار آصف بیگ کی حامی نکلی۔ ایسا کیوں ہوا کہ حلقے کے لوگوں نے اراکین اسمبلی کو ٹکا سا جواب دے دیا۔ میئر نے انتخابی جلسہ کرنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ منتخب میئر طیب حسین کے لئے اس سے بڑی کیا ہزیمت ہو سکتی ہے کہ لوگوں نے انہیں اپنے حلقے میں کارنر میٹنگ کرنے کی اجازت بھی نہیں دی۔

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی وسیم حسین بھی اسی حلقے میں رہائش رکھتے ہیں لیکن ان کی بات بھی کوئی سننے پر تیار نہیں تھا ۔ اس طرح یہ مقابلہ حق پرست بمقابلہ وفا پرست ہو گیا ۔ خواتین بڑی تعداد وفا پرست امیدوار کی حامی نکلیں۔ منتخب حق پرست اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی بشمول صف اول کے رہنماء خالد مقبول صدیقی کونسلر کی ایک نشست پر جس طرح پنتالیس ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی میں پسینہ بہا رہے تھے وہ یہ ثابت کر گیا کہ ایم کیو ایم پاکستان کا بازی پر بہت کچھ لگا ہوا تھا۔ خفیہ رائے شماری میں یہ فیصلہ سامنے آگیا کہ حیدرآباد میں حق پرست (ایم کیو ایم پاکستان) اور وفا پرست (ایم کیو ایم لندن) کے کتنے کتنے اثرات ہیں۔ وفا پرست کو 768ووٹ ڈالے گئے اور حق پرست کو 437 ووٹ ڈالے گئے۔ کیا ہوا، اراکین اسمبلی ووٹر کو گھر سے باہر ہی نہیں لاسکے یا ووٹروں نے بوجوہ انتخا بی عمل کو اہمیت ہی نہیں دی۔ ایم کیو ایم کا شروع سے ہی یہ وصف رہا کہ وہ جسے بھی خواہ کتنا ہی غیر اہم اور غیر مشہور شخص کیوں نہ ہو، امیدوار بنا دیتی ہے وہ امید وار کا میاب ہوجایا کرتا ہے، کیا وہ صورت حال ایم کیو ایم لندن کے خلاف ہونے والے اقدامات کے باوجود برقرار ہی یا نہیں ؟ ضمنی انتخاب کے نتائج سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ عام لوگ تاحال لندن پر ہی اعتماد رکھتے ہیں۔کیا عام انتخابات میں بھی ووٹر حق پرستوں پر وفا پرستوں کو تر جیح دیں گے ؟

حیدرآباد کے شہری تو طویل عرصے سے حق پرستوں کے حامی رہے لیکن عام شہریوں کو ٹوٹی ہوئی سڑکوں، کچروں کے ڈھیر اور پینے کے لئے صاف پانی بھی نایاب ہی ملا۔ تعلیم کی سہولت تو ان سے ایسی چھین لی گئی جیسے اردو بولنے والوں کا تعلیم سے کبھی تعلق ہی نہیں رہا تھا۔ اسکول اور کالج کی سطح پر بھی تعلیم کو جس طرح غیر معیاری کیا گیا اس کی کچھ ذمہ داری حق پرستوں پر بھی جاتی ہے۔ حیدرآباد کا وہ سٹی کالج جو اپنی تعلیم اور غیر نصابی سرگرمیوں کی وجہ سے پورے پاکستان (اس وقت مشرقی پاکستان ، حال بنگلہ دیش، پاکستان کا حصہ تھا) میں مشہور تھا، ، طالب علموں سے کھچاکھچ بھرا ہوا ہوتا تھا، اب جاؤ تو بھائیں بھائیں کرتا ہے۔ حق پرستی کی سیاست کا یہ خمیازہ بھی شہریوں کو اٹھانا پڑا۔ ان حق پرستوں کے رہنماؤں کے قد تو اونچے ہوئے لیکن ان کے مکانات، جا ئیدادیں بھی اونچی ہوئیں اور ان کے اثاثہ جات میں بھی اضافہ ہی ہوا۔ پاکستانی سیاست میں ایک ایسا ر جحان فروغ پا گیا ہے کہ رہنماؤں کے اثاثوں میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے لیکن ان کی توقیر گھٹ جاتی ہے ۔ حیران کن بات ہے اکا دکا رہنماؤں کے سوا کوئی بھی مستشنا نہیں ہے۔ سیاست میں سرمایہ کاری ہی اس ملک میں سب سے بہتر منافع بخش کاروبار ٹھہرا ہے۔شاعر کا یہ تبصرہ بھی خوب ہے:

بیس کروڑ انسانو، زندگی سے بیگانو

صرف چند لوگوں نے حق تمہارا چھینا ہے

خاک ایسے جینے پر، یہ بھی کوئی جینا ہے

مزید :

کالم -