زرداری بھی عمران کے نقشِ قدم پر؟

زرداری بھی عمران کے نقشِ قدم پر؟
 زرداری بھی عمران کے نقشِ قدم پر؟

  



قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ 2014ء میں وزیر اعظم نواز شریف دھرنے والوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے تھے، انہیں استعفیٰ دینے سے ہم نے روکا۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم جمہوریت کا تسلسل چاہتے تھے، پیپلز پارٹی نے وزیر اعظم نواز شریف کو نہیں، پارلیمنٹ کو بچایا ویسے بھی یہ ہماری روایت ہے کہ جمہوریت کے لئے ہر موقع پر قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں۔ حالات کے پیشِ نظر آصف علی زرداری جب رائے ونڈ گئے تھے تو یہ بتانا مقصود تھا کہ ہم نواز شریف کو وزیر اعظم مانتے ہیں۔ جہاں تک کراچی میں امن قائم کرنے کی بات ہے تو اس میں وزیر اعظم نواز شریف کا کوئی کردار نہیں، اصل کردار تو راحیل شریف اور سندھ حکومت کا ہے۔ خورشید شاہ نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی نے میاں نواز شریف سے ہر ممکن طریقے سے مفاہمتی پالیسی اختیار کی، اگر مردم شماری اور صوبوں کے حقوق کے معاملے میں انصاف سے کام نہ لیاگیا تو پھر ہم پارلیمنٹ کے اندر اور باہر وفاقی حکومت سے لڑائی کریں گے۔ ایسی ہی باتیں خورشید شاہ کے علاوہ آصف علی زرداری بھی کر چکے ہیں۔ ان کا مقصد وزیراعظم نواز شریف پر سیاسی دباؤ بڑھانے کے سوا کچھ نہیں تھا۔

سید خورشید شاہ کے ان ارشاداتِ عالیہ کے جواب میں وزیر ریلوے اور وزیر اعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ 2014ء میں صرف پیپلز پارٹی نے نہیں، دیگر جماعتوں نے بھی وزیر اعظم نواز شریف کا ساتھ دیا تھا، خورشید شاہ صاحب احسان جتانے کی کوشش نہ کریں۔ نواز شریف نے استعفیٰ دینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں صورت حال کے مطابق فیصلے ہوا کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دوست احسان جتا کر کہتے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت گرانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ہم مسلم لیگی بھی ان کے طرزِ حکومت سے تنگ تھے ، لیکن ہم نے جمہوریت کے تسلسل کے لئے حکومت گرانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ ہم نے بھی جمہوریت کی خاطر سب کچھ برداشت کیا تھا۔

دیکھا جائے تو خواجہ سعد رفیق نے سید خورشید شاہ کو ’’ٹھیک ٹھاک‘‘ جواب دیا ہے اور بہت سے لوگوں نے اسے پسند بھی کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کو احسان جتانے کی ضرورت نہیں، جموریت کے تسلسل کی خاطر صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں، دیگر جماعتوں نے بھی وزیر اعظم نواز شریف کا ساتھ دیا تھا۔ ہم اپنے تجزیے اور معلومات کی بنیاد پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جمہوریت کے تسلسل کے نام پر پیپلز پارٹی کی طرف سے وزیر اعظم نواز شریف کا ساتھ دینے کا دعویٰ درست نہیں

۔ اصل وجہ جمہوریت بچانا نہیں تھی، بلکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا راستہ روکنا تھا۔ اگر اس وقت نواز شریف کا ساتھ نہ دیا جاتا تو سیاسی دباؤ بڑھ جاتا اور اگر نواز شریف ہتھیار ڈال دیتے تو عمران خان متبادل سیاسی قوت کے طور پر سامنے آ جاتے اور آصف علی زرداری کی پوزیشن خودبخود کمزور ہو جاتی۔ اس سے بچنے کے لئے پیپلزپارٹی کی طرف سے نوازشریف کا ساتھ دیا گیا۔ حیرت ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت اس ٹھوس حقیقت کا اعتراف کیوں نہیں کرتی۔ آج بھی حالت یہ ہے کہ جہاں بھی آصف زرداری کو یہ امکان دکھائی دیتا ہے کہ نوازشریف پر دباؤ ڈال کر عمران خان اپنا سیاسی قد بڑھانے میں کامیاب ہوجائیں گے تو تمام تر سخت بیانات اور بھرپور مخالفت کے باوجود پیپلزپارٹی کی حکمت عملی تبدیل ہو جاتی ہے آصف زرداری نے اپنے قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم اور ماڈل ایان کی ضمانت پر رہائی کے لئے تمام تر تشویش کے باوجود طویل انتظار کیا کیونکہ عمران خان کے دباؤ میں زرداری صاحب اپنا دباؤ ڈال کر یہ تاثر نہیں دینا چاہتے تھے کہ زیادہ دباؤ تو عمران خان کا تھا۔ عمران خان کا پلڑا بھاری ہو جائے، وہ یہ کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے۔ آصف علی زرداری نے خدا جانے کس ’’کیفیت‘‘میں کہا ہے کہ عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کو اکثریت ملے یا نہ ملے آئندہ وزیر اعظم وہ پیپلزپارٹی کا بنا کر دکھائیں گے۔ کچھ عرصے سے آصف علی زرداری خاصے محترک ہیں اور بڑھک بازی کے ذریعے اپنی جارحانہ پالیسی کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ ہم نے اپنے پچھلے کالم میں زرداری صاحب کی بڑھکوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کی بڑھک بازی ابھی تک کوئی رنگ نہیں لائی ان کی بڑھکوں میں یہ بڑھک بھی شامل تھی کہ جب وہ بلاول کے ساتھ لاہور میں آئیں گے تو سارا شہر بند ہو جایا کرے گا ہم عام انتخابات میں حصہ لیں گے تو ’’ان‘‘ کو پتہ لگ جائے گا کہ الیکشن کیسے لڑا جاتا ہے انہوں نے اب ایک اور بڑھک لگائی ہے۔ اس بڑھک کو سن کر بے ساختہ کہنا پڑا کہ بڑھکوں سے آگے جہاں اور بھی ہیں! بڑھک یہ لگائی گئی ہے آئندہ وزیر اعظم پیپلز پارٹی کا ہوگا۔ ان کی اس بڑھک سے ایسے لگتا ہے کہ زرداری صاحب سیاستدان نہیں، کوئی جادوگر ہیں کیونکہ پارلیمینٹ میں اکثریت نہ ہوگی، تو آئندہ وزیر اعظم پیپلزپارٹی کا کیسے بنایا جائیگا؟

جمہوریت میں اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی ہی کوئی پوزیشن حاصل کیا کرتی ہے۔ چاہے ایک ووٹ کی کمی ہو، اپنا وزیر اعظم یا اپنی حکومت بنانے کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔ اس مقصد میں کامیابی کے لئے دوسری پارٹیوں کا تعاون حاصل کرنا پڑتا ہے یعنی مخلوط حکومت بنانا پڑتی ہے۔ زرداری صاحب کو عمومی طور پر سیاسی حلقے سمجھدار اور زیرک سیاستدان قرار دیتے ہیں لیکن وہ لاکھ زیرک بہت تیز اور گہری سیاسی گیم کھیلنے والے ہوں، ان کے بارے میں یہ بات ماننے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ وہ قومی اسمبلی میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم بنوا کر دکھا سکتے ہیں کیونکہ یہ کمال تو سابق وزیر اعلیٰ پنجاب منظور احمد وٹو نے دکھایا تھا کہ ان کے پاس اٹھارہ ایم پی اے تھے مگر انہوں نے بی بی بینظیر بھٹو کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ انہیں (وٹو صاحب کو) پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنائیں وٹو صاحب ایسی مثال چھوڑ گئے ابھی تک ان کا ریکارڈ کوئی نہیں توڑ سکا۔ آصف علی زرداری بڑھکیں تو لگا سکتے ہیں مگر ان بڑھکوں کو عملی شکل دینے کی صلاحیت ان میں نہیں۔ آئندہ الیکشن میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم بنانے کا وعدہ پورا کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔

یار لوگ کہتے ہیں کہ اگر زرداری صاحب نے کوئی جادو وغیرہ سیکھ لیا ہو تو شاید وہ آئندہ وزیراعظم پیپلزپارٹی کا بنانے کا کارنامہ انجام دے سکیں لیکن زرداری صاحب کے ’’جادو گر‘‘ بننے کے بھی کوئی آثار نہیں۔ جادو گر کے ذکر سے ہمیں سپریم کورٹ کے ریمارکس یاد آ گئے فاضل جج صاحب نے کہا کہ ہر مسئلے میں ہم کسی جادوگر کا انتظار کیوں کرتے ہیں۔؟ سیاست میں ’’جادوگر‘‘ کا کام تو مارشل لاء دور میں دکھائی دیا کرتا ہے۔ ممکن ہے آصف علی زرداری نے مارشل لاء نافذ ہونے کا خواب دیکھا ہو کہ مارشل لاء لگا کر جب عبوری حکومت بنائی جائے گی تو وزیر اعظم پیپلزپارٹی کا بنایا جاسکے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا زرداری صاحب بھی عمران خان کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں؟ ازراہ مذاق یہ کہا جاتاہے کہ عمران خان سادہ لوح ہیں وہ کسی کے جھانسے میں آ گئے تھے۔انگلی کھڑی ہونے کا انتظار کرتے رہ گئے آصف زرداری اتنے بھی سادہ نہیں، اگر کسی نے ان سے کوئی بات کی ہے تو پھر یقین دہانی بھی ’’ٹھیک ٹھاک‘‘ کرائی گئی ہوگی۔ گارنٹی کے بغیر وہ اتنا بڑا ’’وعدہ‘‘ کرنے کا رسک نہیں لے سکتے۔ زرداری صاحب نے جو بات کی ہے، وہ ’’بڑھک‘‘ سے بھی آگے کی بات ہے۔ یہی کہا جا سکتا ہے کہ آصف زرداری بھی عمران خان کی طرح بڑھک بازی سے کام چلا رہے ہیں ۔جی ہاں، یار لوگ سچ ہی کہتے ہیں کہ زرداری صاحب آجکل عمران خان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بڑھک بازی سے زرداری صاحب اور عمران خان میں سے کون زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے۔

مزید : کالم