کیسے تیر انداز ہو، سیدھا تو کرلو تیر کو

کیسے تیر انداز ہو، سیدھا تو کرلو تیر کو
 کیسے تیر انداز ہو، سیدھا تو کرلو تیر کو

  

بدبو دار لفظوں کے ایک سوداگر نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ ’’لعنت ایسے آسیب زدہ گھر پر جسے گھر والے چھوڑ جانے کی شدید خواہش میں مبتلا ہوں۔ کوئی سروے تو کرے کہ اس ملک کے کتنے فی صد(لوگ) یہاں سے ہجرت کرجانا چاہتے ہیں؟ آج امریکہ، کینیڈا یا آسٹریلیا ویزا عام کردے تو پورا ملک خالی ہو جائے‘‘۔۔۔جب میں نے پاکستان کے خلاف زہر میں بجھے ہوئے یہ الفاظ پڑھے تو میرا فوری اور فطری ردّعمل یہ تھا کہ ایسی الٹی منطق کوئی الٹی کھوپڑی والا ایسا صحافی ہی پیش کرسکتا ہے، جو کسی چمگادڑ کی طرح مسلسل الٹا لٹکے رہنے کی وجہ سے سیدھا سوچ ہی نہیں سکتا۔ ایسی مہمل، بے معنی اور بیہودہ تحریر اور اپنے ہی ملک کے خلاف۔ میں تو ایسے شخص کو صحافی ، دانشور اور کالم نگار تسلیم کرنے کے لئے ہی تیار نہیں۔ وہ شخص صحافت اور کالم نویسی کے دامن پر ایک سیاہ اور بدنما دھبے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا، جو پاکستان کی بدولت صرف اپنی ضروریات کا نہیں، بلکہ آسائشات اور عیش و عشرت کا ہر سامان اپنے پاس رکھتا ہے ، پھر بھی پاکستان کو گالی دیتے ہوئے اس کی زبان نہیں لڑکھڑاتی اور اس کا سیاہ ضمیر اس کو ملامت نہیں کرتا۔ کوئی خود کو کتنا ہی ’’ممتاز دانشور‘‘ سمجھے، کوئی خود کو کتنا ہی ’’معروف کالم نگار‘‘ بتلائے،کوئی اپنی تحریر کے جاندار ہونے پر کتنا ہی فخر کرے، کسی کو اپنی ذات کے حوالے سے بیباک اور دبنگ صحافی ہونے پر کتنا ہی گھمنڈ کیوں نہ ہو، میں تو ایسے شخص کو ایک جعلی صحافی، ایک مصنوعی دانشور اور ایک ٹکے ٹوکری کالم نگارہی سمجھوں گا جو پاکستان پر لعنت بھیجے۔۔۔آئیے ایک سروے کرکے دیکھ لیتے ہیں کہ میرے عظیم وطن کے پیارے لوگ ایسے شخص کے بارے میں کیا رائے دیتے ہیں، جو پاکستان کو ایک آسیب زدہ گھر قرار دیتا ہے، جو شخص یہ لکھتا ہے کہ اگر امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا اپنے ویزے عام کردیں تو پورا پاکستان خالی ہو جائے اور پھر جو شخص یہ کہتا ہے کہ پاکستان کی ساری قوم ہی اس ملک کو چھوڑ کر چلے جانے کی شدید خواہش رکھتی ہے۔ جب میں نے لاہور کی ایک جدید ترین اور فیسوں کے اعتبار سے سب سے مہنگی یونیورسٹی کے طالب علم کے سامنے یہ سوال رکھا اور اس کی رائے جاننے کی خواہش کی، تو اس نے حیرت اور تعجب سے میرا سوال سن کر الٹا مجھ سے پوچھ لیا کہ کیا پاکستان میں ایسے بدترین اور بدطینت لوگ بھی رہتے ہیں، جو اس درخت کی شاخیں، بلکہ جڑیں بھی کاٹ دینے کی ناپاک سوچ رکھتے ہوں، جس درخت کی چھاؤں تلے انہیں دنیا بھر کی خوشیاں میسر ہیں۔

طالب علم کہہ رہا تھا کہ میں پاکستان کی مہنگی ترین یونیورسٹی میں صرف اپنے ملک کے دیئے ہوئے وسائل کے باعث ہی حصولِ تعلیم کے قابل ہو سکا ہوں۔ اگر میں ٹاٹ والے سکول میں زمین پر بیٹھ کر بھی کہیں پڑھ رہا ہوتا تو بھی مجھے اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہوتا ،کیونکہ یہ ہمارا اپنا وطن ہے۔ طالب علم نے مجھ سے ایک سوال بھی پوچھا،جس کا جواب میرے پاس کوئی نہیں تھا۔ اس نے کہا کہ اول تو ہمارے لئے یہ بات ہی شرمناک اور ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ کوئی مردود شخص پاکستان کو گالی دے اور ہم خاموشی سے اس کو برداشت کرلیں،لیکن میرا سوال یہ ہے کہ پاکستان کو دی گئی گالی ایک کالم کے طور پر اخبارات میں بڑے نمایاں انداز میں شائع کیوں ہوجاتی ہے؟ طالب علم کا سوال ہی ایسا تھا کہ میں نے شرمندگی کے باعث چپ رہنے ہی میں اپنی عافیت سمجھی۔۔۔لاہور ہی کی ایک اور معروف یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے ایک استاد کے سامنے جب میں نے یہ سوال رکھا کہ ایک کالم نگار نے یہ لکھا ہے کہ پاکستان چھوڑ دینے کے حق میں اس کے ذہن میں 50سے زیادہ دلائل ہیں، لیکن پاکستان میں رہنے کی وہ ایک وجہ بھی بیان نہیں کرسکتا۔۔۔تو استاد محترم نے قدرے غصے سے مجھے مخاطب ہو کر کہا، آپ کو اس فضول سروے کی ضرورت کیوں پیش آگئی ہے؟ اگر کوئی شراب کے نشے میں دھت رہنے کی وجہ سے بے پرکی اڑا دیتا ہے یا اپنے منہ سے کوئی جھوٹی، بے اصل اور قابل اعتراض بات نکال دیتا ہے تو اس کو آپ نظر انداز کردیں۔ میں نے ادب سے استاد محترم کی خدمت میں عرض کیا کہ شراب یقیناًایک خباثت اور گندگی کا نام ہے، لیکن شراب پی کر مادرِ وطن کو گالی دینے کی کسی کو کیا کھلی چھٹی دی جاسکتی ہے؟ استاد محترم نے کہا کہ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں کہ شراب اگرچہ ایک لعنت ہے، لیکن ایک شرابی میں بھی اگر احساس، غیرت اور حب الوطنی کا جذبہ زندہ ہے تو اسے نشے کی ذلت میں ڈوب کر بھی اپنے وطن کے حوالے سے کوئی نازیبا کلمہ اپنے منہ سے نہیں نکالنا چاہئے۔ میں نے ایک ڈاکٹر سے پوچھا انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ہمارا ملک کرپشن کے بڑے بڑے جن بھوتوں کے عذاب کا شکار ہے۔ منیر نیازی نے بھی کہا تھا :

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

لیکن ہمیں اپنے ملک سے کرپشن کے ان بڑے بڑے جن بھوتوں کو باہر بھگادینا چاہئے یا جو لوگ ظلم اور نا انصافی کرنے میں حد سے گزر گئے ہیں، ان کو ان کے کالے کرتوتوں اور گھناؤنے جرائم کی سزا کا نظام قائم کرنا چاہئے، لیکن عوام ملک چھوڑ دیں، یعنی ہم اپنے وطن ہی سے بیزار ہوجائیں، یہ ایک مریضانہ سوچ ہے۔ ملامت اور پھٹکار کے مستحق تو وہ لوگ ہیں، جو ملک اور قوم کو لوٹ رہے ہیں۔ ایسے راہزنوں سے ہمیں مستقل طور پر نجات حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے، جو ہمارے ملک میں سماجی ناانصافیوں اور معاشی ناہمواریوں کے ذمہ دار ہیں، لیکن ملک کو برباد کرنے والے طبقے کو قابل نفرت سمجھنے کے بجائے جو شخص براہ راست پاکستان کو گالی دیتا ہے، اس کا یہ مریضانہ اور منفی رویہ قابل مذمت ہے۔ ڈاکٹر صاحب ادب کا اعلیٰ ذوق رکھتے ہیں، اسی لئے انہوں نے اپنی گفتگو سمیٹتے ہوئے مجھے پروین شاکر کا یہ شعر بھی سنایا:

تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے

ایسے سخن فروش کو مرجانا چاہئے

میں نے ایک خاتون وکیل سے پوچھا کہ کیا کچھ خامیوں، نقائص اور خرابیوں کی وجہ سے کسی لکھاری یا کالم نگار کا اپنے ہی وطن کو برابھلا کہنے کا رویہ آپ کے نزدیک درست ہے؟ ان کا جواب تھا کہ پاکستان سے اگر ساری خوشیاں اور ساری خوبیاں بھی غائب ہوجائیں، پھر بھی یہ وطن ہمیں جان سے بڑھ کر عزیز ہے۔ ہمارے وطن میں جتنی بھی خامیاں، کمزوریاں ، نقائص اور بدصورتیاں آپ کو نظر آتی ہیں، اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ ہمارے بد عنوان حکمران بھی ہماری ہی بداعمالیوں کی سزا ہیں۔ ملکی خزانہ لوٹنے والوں اور بیرون ملک اربوں اور کھربوں روپے کی جائیدادیں خریدنے والے حکمرانوں کو ہم خود ہی منتخب کرتے ہیں۔ اگر عوام بیدار ہو جائیں اور ووٹ استعمال کرتے ہوئے ہم شعور کا مظاہرہ کریں تو پاکستان کی سیاست پر مسلط جاگیر دار طبقے اور سرمایہ داروں کا یہی عوام کچومر نکال کر رکھ سکتے ہیں،اس لئے جس بھی لکھاری نے پاکستان پر لعنت بھیجی ہے، اس کو اپنے گریبان میں جھانک کر اپنی غلطیوں کو تلاش کرنا چاہئے۔ خاتون وکیل نے کہا کہ جو صحافی پاکستان کو گالی دیتا ہے، میں تو اسے قلمی دہشت گردہی کہوں گی۔جو صحافی مایوسی پھیلانے والی اپنی منفی اور شرانگیز تحریروں کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے مذموم عزائم رکھتا ہو، اس کی سزا بھی دہشت گردوں سے مختلف نہیں ہونی چاہئے۔ خاتون وکیل نے مزید کہا کہ بات کسی کالم نگار کی نہیں، ہمارا تعلق کسی بھی طبقے اور کسی بھی پیشے سے ہو،اگر ہم اپنے وطن سے محبت نہیں رکھتے۔ وہ وطن جو ہماری ماؤں، بہنوں کا مسکن اور ہماری بیٹیوں کے سروں کی چادرہے،تو پھر ہمارا اس ملک میں رہنے کا کیا جواز ہے؟۔۔۔میں نے ایک صحافی کی ایک گمراہ کن اور منفی تحریر کے حوالے سے ایک مختصر سروے رپورٹ اپنے قارئین کی نذر کردی ہے۔ مقصد کسی بھی شخص کی توہین یا تذلیل نہیں۔پاکستان سے محبت ہمارا ایک مشترکہ اثاثہ ہے۔ حب الوطنی پر کسی کی اجارہ داری نہیں اور اپنے پیارے وطن سے محبت کا اظہار کسی دوسرے پر احسان بھی نہیں۔ اس ملک میں ہزاروں خرابیاں ہوں گی۔ ہمیں ان خرابیوں کے حوالے سے دیانت داری سے اپنی رائے اور سوچ کا برملا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے،لیکن الفاظ کے غلط اور گمراہ کن استعمال کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جاسکتی۔ ہم سب وطن کی حرمت کے پاسدار ہیں۔وطن کو نقصان پہنچانے والوں اور قوم کا خون پینے والوں کے خلاف آپ اپنے شدید غم و غصے کا اظہار ضرور کریں، لیکن آپ اس حد تک گمراہ نہ ہوجائیں کہ وطن کی حرمت ہی کو اپنے کالے اقوال کے نشانے پر رکھ لیں:

کیسے تیر انداز ہو، سیدھا تو کرلو تیر کو

مزید :

کالم -