پاکستانی کھلاڑی 20ویں صدی کی کرکٹ کھیل رہے ہیں : مکی آرتھر

پاکستانی کھلاڑی 20ویں صدی کی کرکٹ کھیل رہے ہیں : مکی آرتھر
 پاکستانی کھلاڑی 20ویں صدی کی کرکٹ کھیل رہے ہیں : مکی آرتھر

  

گیانا(نیٹ نیوز)قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو شرجیل خان کی کمی محسوس ہونے لگی۔مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ شرجیل خان جیسے پاور ہٹر کو کھودینا بہت بڑا دھچکا ہے۔پاکستان میں پاور ہٹرز کی کمی ایک تلخ حقیقت ہے۔شرجیل خان کے نہ ہونے سے ٹیم کو نقصان ہوا ہے۔ موجودہ دور کی کرکٹ بدل چکی ہے۔پاکستانی کھلاڑی ابھی بھی بیسویں صدی کی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔اب پاور ہٹرز کے بغیر میچز جیتنا نا ممکن ہے۔پاکستان میں کرکٹ کا نہ ہونا اور آئی پی ایل جیسا ایکسپوژر نہ ملنا بھی ایک حقیقت ہے۔گیانا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہا ہے کہ شرجیل خان جیسے پاور ہٹر کو کھودینا بہت بڑا دھچکا ہے۔مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم میں پاور ہٹرز کی کمی ہے جس کی وجہ سے ہم آخری اوورز میں 25 سے 30 رنز پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شرجیل خان جیسے پاور ہٹر کو کھو دینا بلا شبہ ٹیم کے لئے بڑا دھچکا ہے لیکن اس کے باوجود کھلاڑیوں سے پر امید ہوں۔مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم 20 ویں صدی کی کرکٹ کھیلتی رہی ہے جب کہ پاکستان میں کرکٹ کا نہ ہونا اور آئی پی ایل جیسا ایکسپوژر نہ ملنا بھی ایک حقیقت ہے لیکن اب تمام کھلاڑیوں پر واضح کر دیا ہے کہ جدید تقاضوں کے مطابق کرکٹ کھیلنی ہو گی۔پاکستان ٹیم کے مستقبل سے پر امید ہوں اور فٹنس و ٹریننگ کو کھلاڑیوں کیلئے چیلنج بنا دیا گیا ہے۔قومی ٹیم میں جارحانہ بلے بازوں کی شدید قلت ہے،مکی آرتھر کے مطابق فکسنگ کیس میں معطل شرجیل خان کے نہ ہونے سے ٹیم کو بہت نقصان ہوا ہے،ان کی موجودگی بیٹنگ لائن کیلئے بڑا سہارا تھی،ہیڈ کوچ نے کہا کہ وہ قومی کرکٹرز کے کھیل میں بہتری کیلئے کوشش کر رہے ہیں تاہم یہ چیزیں راتوں رات ممکن نہیں۔یاد رہے کہ پاکستان ٹیم اس وقت ویسٹ انڈیز کے دورہ پر موجود ہے پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو ٹی20 او ر ون ڈے سیریز میں شکست دے رکھی ہے جبکہ ٹیسٹ سیریز ہونا ابھی باقی ہے۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -