حبیب ظاہر کی گمشدگی،غیر ملکی ایجنسیوں کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ،دفتر خارجہ

حبیب ظاہر کی گمشدگی،غیر ملکی ایجنسیوں کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ...

  

اسلام آباد(این این آئی) ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہاہے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھارتی مداخلت کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں اور کلبھوشن یادو اس کا واضح ثبوت ہے ٗبھارتی وزرا کے حالیہ بیانات بوکھلاہٹ میں دیئے گئے یہ کلبھوشن کو انجام تک پہنچانے کا رد عمل ہے ٗبھارت کی جانب سے کلبھوشن کے معاملے کو حبیب ظاہر کے ساتھ جوڑنا بلاجواز ہے ٗمعاملے میں غیر ملکی ایجنسیوں کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ٗ بھارت کے انسانیت سوز جرائم کو عالمی فورمز پر اٹھاتے رہیں گے۔ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ بھارت نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھا رہا ہے بلکہ پاکستان میں بھی بھارتی مداخلت کے واضح اور ناقابل تردید شواہد موجود ہیں ،بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر را کا کارندہ کلبھوشن یادو ہمارے مؤقف کا منہ بولتا ثبوت ہے ٗکلبھوشن پاکستان میں تخریب کاری کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور اسے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا جبکہ اس نے خود بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کا اعتراف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت ماضی میں بھی پاکستان میں مداخلت میں ملوث رہا ہے اور مودی نے 1971 میں مشرقی پاکستان کو توڑنے اور مداخلت کا خود اعتراف کیا ہے۔ پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھارتی مداخلت سے عالمی برادری کو آگاہ کیا جاچکا ہے جبکہ اس معاملے کو دوست ممالک سمیت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سامنے بھی اٹھایا گیا۔ بھارتی رد عمل پر وزیردفاع خواجہ آصف کا بھی بیان آچکا ہے ان کے پارلیمنٹ کا بیان بھارت پر پاکستانی مؤقف واضح ہوا ہے۔ خدشہ ہے کہ حبیب ظاہر کی گمشدگی میں دشمن ایجنسی ملوث ہے ٗہم نیپالی حکومت کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں اور نیپالی حکومت بھی بھرپور تعاون کررہی ہے۔ بھارتی قابض فوج نے کشمیر کی وادی کو بھی خون سے نہلا دیا ہے گزشتہ ایک ہفتے میں 14 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کردیا گیا ٗ 200 سے زائد نہتے کشمیری بھارتی مظالم میں زخمی ہوئے اور یہ سلسلہ مزید بڑھتا جارہا ہے۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے بھی بھارتی مظالم پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور ہم نے بھی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ آئندہ بھی بھارت کے انسانیت سوز جرائم کو عالمی فورمز پر اٹھاتے رہیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -