امریکہ کی پہلی مسلم خاتون جج شیلا کی پراسرار موت

امریکہ کی پہلی مسلم خاتون جج شیلا کی پراسرار موت

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) امریکہ کی پہلی مسلمان خاتون جج شیلا عبدالسلام کی پراسرار حالات میں موت واقع ہوئی ہے۔ ایک روز قبل اس کے گم ہونے کی اطلاع کے بعد اس کی لاش نیو یارک کے دریائے ہڈسن کے کنارے سے مل گئی۔ امریکی محکمہ انصاف نے مقامی پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بظاہر قتل کئے جانے کے آثار نہیں ملے اور زیادہ امکان یہ ہے کہ اس نے خودکشی کی ہے، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے اور مزید تفتیش کے بعد اصل حقائق معلوم ہوسکیں گے۔ 65 سالہ جج جو اس وقت نیو یارک کورٹ آف اپیلز میں متعین تھی۔ نیویارک میں ہرلم کے علاقے سے منگل کولاپتہ ہوگئی تھیں۔ جس کے ایک روز بعد ہڈسن پارک وے کے قریب دریائے ہڈسن میں اس کی پورے کپڑوں میں ملبوس لاش تیرتی ہوئی دیکھی گئی جسے پولیس نے باہر نکال لیا۔ اس کے خاوند نے لاش کی شناخت کرلی۔ اس کے ذاتی حالات کی کوئی ایسی تفصیل نہیں ملی جس سے پتہ چل سکے کہ اگر اس نے خودکشی کی ہے تو اسے اصل میں کیا پریشانی تھی۔ اس دوران ایک ٹی وی چینل پر نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو کا بیان نشر ہوا ہے جس میں انہوں نے مرحومہ کی موت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے بہت افسوس ناک ہے اور ان کے لئے یہ فخر کا باعث تھا کہ انہوں نے اپنی قابل اور اعلیٰ اخلاق کی حامل خاتون کو متعین کیا تھا۔ شیلا نے کولمبیا لاء سکول سے لاء کی ڈگری حاصل کی اور نیو یارک میں وکالت شروع کی جہاں بعد میں اس نے 14 سال تک ریاست کی سپریم کورٹ میں جج کی حیثیت سے کام کیا۔ اس کا تعلق واشنگٹن کے ایک غریب گھرانے سے تھا۔

مزید :

صفحہ آخر -