اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر کے سرکل افسران کی کھلی چھوٹ، کرپشن میں ملوث سرکاری افسران دوبارہ عہدوں پر براجمان

اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر کے سرکل افسران کی کھلی چھوٹ، کرپشن میں ملوث سرکاری ...

  

لاہور(ارشد محمود گھمن/سپیشل رپورٹر)اینٹی کرپشن اسٹیبلیشمنٹ ہیڈکوارٹر کے سرکل افسران نے صوبائی دارالحکومت سمیت صوبہ بھر کے اضلاع میں تمام صوبائی اداروں کو کرپشن کی کھلی چھوٹ دے دی ہے ، کرپشن کے درجنوں درج مقدمات میں ملوث سرکاری افسران اپنے محکموں میں عہدوں پر براجمان ہیں۔ ڈ پٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر فرحان زاہد 7کلب روڈ وزیر اعلیٰ آفس ، ڈپٹی ڈائریکٹر میاں نعیم الرحمن کئی بار کرپشن کے الزام میں معطل ہو کر اورسابق ڈائر یکٹر ٹیکنیکل آ فتاب غنی کرپشن ثابت ہو نے پر بھی اپنی من پسند جگہوں پر دوبارہ پو سٹنگ کروانے میں کامیاب ہو گئے جبکہ درخواست گزار وں نے در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد مجبورہو کر درخواستوں کی پیر وی ہی چھوڑدی ہے ۔باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اینٹی کرپشن ہیڈکوارٹر کے ماتحت پنجاب بھر کے اضلاع میں تعینات سرکل افسران اور اسسٹنٹ و ڈپٹی ڈائریکٹرز نے محکمہ پولیس ،ریونیواور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور کرپٹ افسران کے ساتھ مک مکا کے دھندے کو عام کر رکھاہے۔ بعض اوقات محکمہ اینٹی کرپشن ان محکموں کے ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے نوٹس تو جاری کر دیتاہے لیکن متعلقہ محکموں میں مورد الزام ٹھہرائے جانے والے افسران ایسے نوٹسوں کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیتے ہیں اور درخواست گزار اینٹی کرپشن آفس کے چکر لگا لگا کرمجبوراً پیروی سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق سا بق ڈ پٹی ڈائر یکٹر فر حان زاہد کو کرپشن کے الزام میں محکمہ سے بھجوا دیا گیا اور اس کے خلاف چلنے والی انکوائر یوں کے باوجود اس کو 7کلب روڈ وزیر اعلی آفس میں لگا دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ڈپٹی ڈائریکٹر میاں نعیم الرحمان سینکڑوں لوگوں سے کروڑوں روپے کی کرپشن کر چکا ہے۔کئی دفعہ ڈی جی اینٹی کرپشن نے اس کی کرپشن یکھ کر اور متعلقہ لوگوں کی شکایات پر اسے معطل کیا مگر یہ پھر بحالی کے بعد اپنی من پسند جگہ پر تعیناتی کا لوہا منوا لیتا ہے جس کی وجہ سے کرپشن کا بول بالا ہے۔ جب موقف دریافت کرنے کیلئے میاں نعیم الرحمان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ گوجرانوالہ اور ہیڈ کوارٹر میں میرے خلاف دی جانے والی درخواستوں کے باعث مجھے معطل کیا گیا۔بعد ازاں درخواستیں جھوٹی ثابت ہونے پر بحال کر کے قصور تعینات کیا گیاجس کے بعد وہ آجکل ہیڈ کوارٹرتعینات ہیں۔ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹی گیشن آفتاب تارڑ کا کہنا ہے کہ سابق ڈائریکٹر ٹیکنیکل آفتاب غنی کو انکوائری کے لئے دو بار نوٹس جاری کئے گئے مگر وہ پیش نہیں ہورہے جس کی وجہ سے انکوائری التواء کا شکار ہے ۔

مزید :

صفحہ آخر -