10ماہ میں فعال کرنے کی تیاریاں‘ خانیوال لودھراں روڈ تعمیر کی شفافیت مشکوک

10ماہ میں فعال کرنے کی تیاریاں‘ خانیوال لودھراں روڈ تعمیر کی شفافیت مشکوک

  

ملتان(نمائندہ خصوصی)میٹروبس پروجیکٹ ملتان کیطرح خانیوال لودھراں روڈ کی تعمیر کیلئے بھی شفافیت کا نعرہ لگادیا گیا ہے۔اس پروجیکٹ کو کرپشن فری بنانے کیلئے سب سے پہلے رائیٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے قانون کو دفن کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تاکہ ٹیکس دہندگان کی جانب سے معلومات تک رسائی کے حوالے سے دی جانی والی درخواستوں کو ناقابل عمل قرار دیا جاسکے۔ایم ڈی اے نے بھی ملتان میٹروبس پروجیکٹ کیلئے اسی منصوبہ بندی پر عمل کیا تھا اوراب تک اپنے اس اقدام پرقائم ہے۔جس(بقیہ نمبر38صفحہ12پر )

کیوجہ سے ایم دی اے کو رائیٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت موصول ہونے والی درخواستیں ردی کی ٹوکری نظر ہوچکیں ہیں۔خانیوال،لودھراں دو رویہ روڈ کی تعمیر کیلئے ملتان میں بااعتماد آفیسر کو کمشنر ملتان ڈویژن تعینات کیا گیا۔جو اس پروجیکٹ کو لیکر آگے چلیں گے۔ظاہری طور پر اس منصوبے کی بھاگ دوڑ محکمہ شاہرات سرکل ملتان کے پاس نظر آرہی ہے لیکن جنوبی پنجاب کے دوسرے میگا پروجیکٹ کا اصل روح رواں بھی کمشنر ملتان ڈویژں ہی ہے، 22ارب کے اس پروجیکٹ کے ٹینڈر وصول کرنے کی تاریخ21سے24اپریل ہے۔ کمپنیوں کی پری کوالیفکیشن کے بعد اہل کنسٹریکشن کمپنیوں سے فنانشل بڈ وصول کی جائے گی۔اس پروجیکٹ پر کام کرنے والی ٹیم کارکردگی دکھانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر تو قام کررہی ہے لیکن رولز کونظر انداز کی جارہا ہے ،لینڈ ایکوزیشن کا سلسلہ تو شروع کردیا گیا۔اس مقصد کیلئے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ1894ء کے قوانین کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے۔خانیوال،لودھراں اور وہاڑی کے ڈسٹرکٹ کلیکٹرز مارکیٹ ریٹس کو نظر انداز کرکے اراضی کی اوسطاً قیمت کا تخمینہ تیار کروا رہے ہیں۔سب اس جلدی میں ہیں کہ کسی طرح اس پروجیکٹ پر کام شروع کیا جاسکے اور دس ماہ کی قلیل مد ت میں یہ پروجیکٹ کو فعال ہوسکے اس سب کے باوجود اس پروجیکٹ میں شفافیت کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔اس مقصد کے حصول کیلئے آفیسران کو معلومات تک رسائی روکنے کی ہدایات جاری کیں گئیں۔محکمہ شاہرات ملتان سرکل آفس کا کوئی آفیسر اس پروجیکٹ کے حوالے سے معلومات فراہم کرنا تو دور بات کرنے سے بھی کترا رہا ہے۔پی سی ون جو اس پروجیکٹ کا حقیقت ہے۔اس کو بھی خفیہ رکھا جارہا ہے۔پی سی ون کی مصدقہ نقول کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کیں جارہی ہیں۔معلوم ہوا ہے اس پروجیکٹ کیلئے ہائی وے ڈیپارٹمنٹ میں بااعتماد ترین آفیسران کا تقرر کیا گیا ہے۔ایس ای محسن کا تقرر بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔کمشنر ملتان ڈویژن کیطرف سے تاحال اس پروجیکٹ کا فوکل پرسن تعینات نہیں کیا گیا۔22ارب روپے مالیت کے پروجیکٹ پر کام کرنے والی اس ٹیم کی کوشش ہے کہ خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس دہندگان کو معلومات سے دور رکھا جائے اس حوالے سے جب ایس ای صوبائی ہائی وے سرکل ملتان محسن سے موقف کیلئے رابطہ کیا گیا تو رات گئے تک انہوں نے کال ریسیو نہ کی جس پر ان کے نمبر پر ٹیکسٹ بھیجا گیا لیکن انہوں نے اعلیٰ حکام کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے موقف فراہم نہ کیا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -