نشتر سمیت ضلع ملتان کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں بستروں کی شدید کمی

نشتر سمیت ضلع ملتان کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں بستروں کی شدید کمی

  

ملتان(وقائع نگار)حکومتی عدم توجہی کے باعث ملتان کے نشتر سمیت ضلع بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں تاحال مریضوں کو بستروں کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔جبکہ ہسپتالوں کی انتظامیہ صرف لوٹ مار میں مصروف نظر آرہی ہے۔مریض دھکے کھانے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ایک ایک بستر پر دو یا تین مریض داخل کرنا ہسپتالوں کی انتظامیہ نے معمول بنالیا ہے۔جبکہ کئی بار بچارے مریض وارڈز کے برآمدے کے فرش پر ہی لیٹ جاتے ہیں،کیونکہ انکو بستر فراہم کمی کی وجہ سے نہیں کیا جاتا ہے۔نشتر ہسپتال میں (بقیہ نمبر42صفحہ12پر )

کچھ سالوں سے1700بستروں کی منظوری بھی ہوچکی ہے مگر اب تک1200مریضوں کے بستروں کے حوالے سے فنڈز جاری کیا جارہا ہے۔اسی طرح چلڈرن کمپلیکس میں150بستروں کی منظوری ہے وہاں پر بھی تین یا چار بچے ایک ہی بستر پر داخل ہوتے ہیں۔کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ کا ایمرجنسی وارڈ میں72کے قریب بستروں کی منظوری ہے۔یہاں پر بھی مریضوں کو بروقت بستر کی فراہمی ممکن نہیں ہوتی۔جس کی وجہ سے بیشتر مریض بغیر داخل ہوئے واپس اپنے گھروں کی جانب چلے جاتے ہیں۔مریضوں اور ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ان سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ کے بیشتر افراد صرف سرکاری فنڈز کو حاصل کرنے کیلئے جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔وہ مریضوں کی فلاح و بہبود کیلئے کچھ خاص نہیں کررہے ہیں۔بستروں کی عدم دستیابی کے باعث روزانہ سینکڑوں مریض واپس اپنے گھروں کی جانب لوٹ جاتے ہیں۔دور دراز کے علاقوں سے آئے ہوئے مریضوں کو بار بار چکر لگانے اور طویل سفر کا کرایہ بھر بھر کے تنگ آچکے ہیں۔انہوں نے حکومت سے ان سرکاری ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

کمی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -