مدارس کیخلاف طاغوتی طاقتوں اور عالم کفر کا اتحاد دبے معنی نہیں:مولانا سمیع الحق

مدارس کیخلاف طاغوتی طاقتوں اور عالم کفر کا اتحاد دبے معنی نہیں:مولانا سمیع ...

  

نوشہرہ(بیورورپورٹ) مولانا سمیع الحق نے کہا کہ مدارس کے خلاف عالم کفر کا اتحاد بے معنی نہیں وہ مسلمانوں کو ان کی اصل تعلیمات سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ اگر حکمرانوں نے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے تو خدانخواستہ یہ ملک تاشقند اور سمرقند بن جائے گایاپھر یہاں شام او رعراق کی طرح خانہ جنگی پیدا ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ مدارس اپنے طور پر تمام اصلاحات کررہے ہیں،تمام جدید تقاضوں کے مضامین ہمارے نصاب میں شامل ہیں۔ حکومت کو اس صورتحال میں زور اور جبر کی بجائے ارباب مدارس سے مذاکرات اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں تعلیم کا بھرم صرف دینی مدارس سے قائم ہے‘ حکمرانوں سے 65 سال میں اپنے تعلیمی نظام اور نصاب کی اصلاح نہ ہوسکی‘ اور اسے بالاخر اسلام دشمن بورڈوں کو ٹھیکے پر دے دیا جو ہمارے تعلیمی نظام سے اسلامی اثرات اور تعلیمات کو چن چن کر نکال رہے ہیں مگر پاکستان میں یہ کوششیں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکیں گی۔ اس تقریب میں مہتمم جامعہ حقانیہ مولانا سمیع الحق نے فارغ التحصیل ہونے والے فضلاء سے حلف اٹھوایا جس میں انہیں زندگی اسلام کی خدمت اور عالم اسلام کی سربلندی کے لئے وقف کرنے کا عہد کیا۔ مولانا سمیع الحق نے کہاکہ امریکہ افغانستان سے جاتے جاتے پاکستان کو میدان جنگ بنانا چاہتا ہے۔ اس لئے سب کو چوکنا رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ انقلاب اورتبدیلی کے نعروں میں حقیقت نہیں،انقلاب محمدی کے سوا کوئی انقلاب دیرپا اور کامیاب نہیں ہوسکتا۔ ہم نے ہمیشہ شریعت کی جنگ لڑی ہے اور شریعت کے ذریعے اس ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔مولانا سمیع الحق نے کہاکہ اس وقت سب سے اہم مسئلہ پاکستان کے اسلامی تشخص اور نظریاتی حیثیت کا تحفظ اورا س کو غیروں کے تسلط سے نکالنا ہے،لبرل اور سیکولر بنانے کی کوششوں اور سازشوں کے سامنے بند باندھنا پوری پاکستانی قوم کا فریضہ ہے۔اصل مسئلہ حکمرانوں کا رسوائے زمانہ کرپشن اور عالمی سکینڈل ہیں، بے ضرر اور بے بس علماء طلبا ائمہ مساجد پر ظلم اور بے جا قید وبند کے نتیجہ میں حکمرانوں پر پاناما لیکس جیسی آفتیں نازل ہورہی ہیں،پوری قوم کو رسوائے زمانہ کرپشن سیکنڈلوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے ۔مولانا سمیع الحق نے بخاری شریف کی آخری حدیث کی تشریح کرتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کا سارا نظم میزان اور وزن سے وابستہ کیا ہے کوئی بھی انسانی نظام مادہ پرستی ،شوشلزم ،کمیونزم ،کیپٹل ازم، لبرل ازم کے فرسودہ نظام پر پورا نہیں اترتا۔جمعیت علماء اسلام کے مرکزی نائب صدر مولانا حامد الحق حقانی نے متفقہ قرارداد کے نکات سناتے ہوئے کہاکہ (۱) ہم شام میں ہزاروں مسلمانوں کی ظالمانہ قتل عام کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ،(۲) شام میں فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا جائے اور مسئلے کا مذاکراتی حل نکالا جائے (۳) انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنے دوغلے معیار کو ترک کرکے شام، فلسطین ،کشمیر اور افغانستان برما میں معصوم مسلمان بچوں اور عورتوں کے قتل عام کو روک دیں۔ (۴) حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ افغانستان کی آزادی کے لئے پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا ہے ،افغانستان کے طالبان آزادی کی اس جدوجہد کو منزل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ پاکستان اپنی سابقہ پالیسی پر کاربند رہ کر ان کے بارہ میں بیرونی دباؤ کو نظرانداز کرتے ہوئے طالبان سے اپنے اعتماد کے رشتوں کو مجروح نہ کرے۔،(۵) یہ اجتماع پاکستان کے بارہ میں غیر اسلامی اقدامات اور بیرونی ایجنڈا پر اسے لبرل اور سیکولر جمہوریہ بنانے کے ارادوں کی شدید مذمت کرتا ہے ، اور لاکھوں کا یہ مجمع عہد کرتا ہے کہ اس ملک کے اسلامی تشخص کو ہرحال میں برقرار رکھا جائے گا۔(۶) یہ عظیم اجتماع دینی مدارس کے بارہ میں حکمرانوں کی اسلام دشمن پالیسیوں اور علماء وطلبا مدارس کے پکڑ دھکڑ کی شدید مذمت کرتا ہے ، مدارس امن و سلامتی کے گہوارے ہیں، مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔،(۸) یہ اجتماع سوشل میڈیا پرگستاخانہ مواد کی شدید مذمت کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ فوری طورپر اس کے لئے اقدامات اٹھائیں (۹)یہ اجتماع شریعت کورٹ کے چیف جسٹس کی سود کے بارے میں ریمارکس کی شدید مذمت کرتا ہے (۰۱)یہ اجتماع عہد کرتا ہے کہ دفاع حرمین شریفین کے لئے ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -