سرمایہ کاری کے فروغ اور طریقہ کار کو سہل بنانے کیلئے توانائی پالیسی میں ترامیم لانے کا فیصلہ

سرمایہ کاری کے فروغ اور طریقہ کار کو سہل بنانے کیلئے توانائی پالیسی میں ...

  

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخواحکومت نے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اورسرمایہ کاروں کے لئے طریقہ کارکو مزیدآسان بنانے کے لئے خیبرپختونخواتوانائی پالیسی میں ترامیم لانے کی منظوری دے دی ہے جس میں سرمایہ کاروں کے لئے پرکشش مراعات رکھنے کے ساتھ ساتھ توانائی پالیسی کوسرمایہ کاردوست بنانے اورصوبے میں سرمایہ کاروں کے لئے بہترین فضاء مہیاکی جائے گی۔ توانائی کے شعبے میں کام کرنے والے عرصہ دراز سے ترقی سے محروم متعدد افسران کواگلے گریڈز میں ترقی دینے کی منظوری بھی دے دی گئی ۔محکمہ پیڈوکومضبوط اور مزیدفعال بنانے کے لئے ادارے میں ری سٹرکچرنگ لانے کی منظوری دی گئی ۔آئندہ تین ماہ کے دوران 57میگاواٹ کے 3پن بجلی کے منصوبے مکمل کرلئے جائیں گے جس سے سستی بجلی پیداکرکے صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے استعمال میں لائی جائے گی۔ان امورکی منظوری محکمہ توانائی کے ذیلی ادارے پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن ( پیڈو) کے منعقدہ بورڈآف ڈائریکٹرزکے17ویں اجلاس میں دی گئی جوزیرصدارت چیئرمین پیڈوبورڈ صاحبزادہ سعید احمد منعقدہوا۔پیڈوبورڈ کے اجلاس میں سیکرٹری توانائی انجینئرنعیم خان،سیکرٹری خزانہ علی رضابھٹہ،ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ شاہد اللہ خان،سنیٹرنعمان وزیر،پیسکوچیف انجینئرشبیر احمد،سرحد چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حاجی افضل،انجینئرلطیف خان،عبداللہ شاہ،روحیل اکرم،فوادالحق اورچیف ایگزیکٹوپیڈواکبرایوب خان نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایاگیا کہ موجودہ توانائی پالیسی کے گائیڈلائنز میں سرمایہ کاروں کے لئے طریقہ کارکو آسان بنانے اورانکے لئے مزید مراعات رکھنے کے لئے ضروری ترامیم لانے کی تجویزدی گئی تاکہ صوبے میں سرمایہ کاری کو مزید فروغ دیا جائے۔پیڈو میں کام کرنے والے عرصہ دراز سے ترقی سے محروم گریڈ18،17اور16کے متعددافسران کواگلے گریڈزمیں ترقی دینے کی بھی منظوری دی گئی،محکمہ پیڈوکو مزید فعال اور مضبوط بنانے کے لئے ری سٹرکچرنگ کی منظوری بھی دی گئی۔اجلاس میں توانائی کے جاری منصوبوں پر کام کی رفتارکا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ57میگاواٹ کے تین منصوبوں مچئی ہائیڈروپاورپراجیکٹ،رانولیاہائیڈروپاورپراجیکٹ اور درال خوڑ ہائیڈروپاورپراجیکٹ پر کام آخری مراحل میں داخل ہوچکاہے جوجون تک مکمل کرلیا جائے گا۔ان منصوبوں سے حاصل ہونے والی بجلی صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے استعمال میں لائی جائیگی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 300میگاواٹ کے بالاکوٹ ہائیڈروپاورپراجیکٹ پر بھی کام کا آغازکیاجارہاہے اسکے علاوہ بجلی کی نعمت سے محروم علاقوں میں پن بجلی کی پیداوارکے356چھوٹے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے جن میں سے 168بجلی گھر مکمل کرلئے گئے ہیں اور باقی رواں سال کے آخرتک مکمل کرلئے جائیں گے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 69میگاواٹ لاوی ہائیڈل پراجیکٹ،84میگاواٹ گورکین مٹلتان ہائیڈل پراجیکٹ ،41میگاواٹ کوٹوہائیڈل پراجیکٹ اوردیگر منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور مستقبل میں مزید منصوبے شروع کرنے کے لئے منصوبہ بندی کرلی گئی ہے جن کی تکمیل سے نہ صرف لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات ملے گی بلکہ ان منصوبوں کی تکمیل سے صوبائی خزانے کو اربوں روپے کی سالانہ آمدن ہوگی جس سے یہاں ترقی کے نئے دورکا آغازہوگا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -