داعش کیخلاف کارروائی، افغانستان میں امریکہ کا نان نیو کلیئر حملہ، 21ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرادیا، دیگر واقعات میں 80ہلاک

داعش کیخلاف کارروائی، افغانستان میں امریکہ کا نان نیو کلیئر حملہ، 21ہزار ...

  

کابل ( مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن) مریکہ نے پہلی مرتبہ افغانستان میں نان نیوکلئیر بم گرا دیا ہے جس سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ے۔ دیگر وقعات میں 80 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔افغانستان میں 16 سالہ جنگ کے دوران پہلی مرتبہ نان نیوکلئیر بم کا استعمال کیا گیاہے۔پینٹاگون کے ترجمان ایڈم اسٹمپ کے مطابق امریکی فوج نے پہلی مرتبہ افغانستان میں نان نیوکلئیر بم داعش کے ٹھکانے کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا۔ ترجمان کے مطابق افغانستان کے صوبہ ننگرہار کی پہاڑیوں پر 11 ٹن بارودی مواد سے لیس جی بی یو 43 نامی بم سے داعش کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا۔پینٹاگون کے مطابق نان نیوکلئیر بم کا مختصر نام ’’مدر آف آل بمز‘‘ ہے جب کہ فضائیہ میں اسے میسو اآرڈیننس ایئر بلاسٹ بم کہا جاتا ہے۔ یہ بم 21 ہزار پاؤنڈ وزنی ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کے مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے امریکی فوج کی جانب سے دنیا کا سب سے خطرناک بم صوبہ ننگر ہار کے ضلع آسن میں چلایا گیا۔ یہ بم ایٹم بم کے بعد نیا کا سب سے خطرناک ترین بم سمجھا جاتا ہے جس کا وزن 21 ہزار پاؤنڈ ہے۔ امریکی فوج نے صوبہ ننگر ہار میں ایم سی 130 ایئر کرافٹ کے ذریعے جی بی یو 43 یا ’’ مدر آف آل بمز‘‘ نامی یہ بم داعش کے ٹھکانے پر چلایا ہے۔ یہ بم 2003 میں عراق جنگ کے دوران تیار کیا گیا تھا لیکن آج سے پ پہلے کبھی آزمایا نہیں گیا تھا۔ پینٹاگون نے افغانستان میں اس بم حملے کی تصدیق کردی ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ہونے والے جانی نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاؤس سین سپائسر نے بھی اس حملے کی تصدیق کردی ہے اور معمول کی پریس بریفنگ میں بتایا ہے کہ جی بی یو 43 بم ننگر ہار میں داعش کے زیر استعمال سرنگوں پر چلایا گیا ہے۔ ان سرنگوں کے ذریعے داعش کے جنگجو آزادانہ نقل و حرکت کرتے اور انہیں محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔فغان میڈیا کے مطابق امریکی جی بی یو43 نان نیو کلیئر بم کے حملے میں داعش کے جنگجوہوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکت کا بھی خدشہ ہے،

مزید :

ملتان صفحہ اول -