امریکہ نے افغانستان میں داعش کے ٹھکانے تباہ کرنے کیلئے سب سے بڑا نان نیو کلیئر بم گرادیا: پینٹاگون کی تصدیق

امریکہ نے افغانستان میں داعش کے ٹھکانے تباہ کرنے کیلئے سب سے بڑا نان نیو ...
امریکہ نے افغانستان میں داعش کے ٹھکانے تباہ کرنے کیلئے سب سے بڑا نان نیو کلیئر بم گرادیا: پینٹاگون کی تصدیق

  

واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن ) امریکہ نے ایٹم بم کے بعد دنیا کا سب سے خطرناک ترین سمجھا جانے والا نان نیوکلیئر بم افغانستان میں چلا دیا۔ یہ بم 21 ہزار پاﺅنڈ وزنی ہے جس کا نام ”سب بموں کی ماں“ ہے۔حملے کے نتیجے میں 36شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعا ت ہیں۔امریکا نےحملے کی تصدیق کر تے ہوئے کہا ہے کہ اس نے پاکستانی سرحد کے قریب افغان صوبے بنگر ہار میں سب سے بڑا نان نیوکلیئر بم گرایا ہے جو پہلی مرتبہ استعمال کیا گیا ہے ۔امریکی صدر نے کامیاب بم حملے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کمانڈر کو داعش پر حملوں کا مکمل اختیار دیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکا کا ایم سی ون تھرٹی طیارہ یہ بم لے کر روانہ ہوا اور افغانستان کے مقامی وقت کے مطابق شام 7بج کر 32منٹ پر یہ بم ننگرہار کے علاقے آچین میں گرا دیا جہاں امریکا کے مطابق داعش خراسان کے زیر زمین ٹھکانے موجود ہیں۔امریکا نے اس مقصد کے لیے ایک جی بی یو43بم استعمال کیا۔

افغانستان میں امریکی فورسز کے کمانڈر جنرل جون نکلسن نے کہا کہ داعش خراسان نے علاقے کی صفائی میں جو مشکلات کھڑی کر رکھی تھیں انہیں دور کرنے کے لیے ایسا حملہ مناسب تھا۔بم گرانے کے لیے ایک کارگو طیارے کو استعمال کیا گیا، یہ بم عراق جنگ سے پہلے تیار کیا گیا تھا اور اس کا تجربہ 2003ءمیں کیا گیا تھا۔

جی بی یو 43 نامی یہ بم 21ہزار 6سو پاوﺅنڈ وزنی ہوتا ہے،امریکا نے پہلی مرتبہ کسی لڑائی میں یہ بم استعمال کیا ہے، یہ بم عراق جنگ کے دوران تیار تھا مگر اسے استعمال نہیں کیا گیا تھا، اس کے فوری بعد روس نے بھی ایسا ہی ایک بم تیار کیا جسے تمام بموں کا باپ قرار دیا گیا اور بتایا جاتا ہے کہ روسی بم امریکی بم سے 4گنا زیادہ طاقت ور ہے۔امریکا کے جی بی یو 43بم کو امریکا کی ایئرفورس ریسرچ لیبارٹری نے تیار کیا، اس بم کا پہلا تجربہ 11مارچ 2003ءکو امریکی ریاست فلوریڈا میں کیا گیا۔

پینٹاگون کے مطابق اس مشن کی تیاری کئی ماہ سے جاری تھی، ننگرہار میں جو بم گرایا گیا ہے اس میں ٹی این ٹی کی مقدار 11کلو ٹن تھی، امریکا نے ہیروشیما پر لٹل بوائے نامی جو بم گرایا تھا اس میں ٹی این ٹی کی مقدار 15کلو ٹن تھی۔

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل رک فرینکونا نے سی این این کو بتایا کہ جس علاقے میں یہ بم گرایا جائے وہاں لگتا یہی ہے کہ کوئی ایٹم بم گرایا گیا ہے۔اس بم کا مرکزی خیال بی ایل یو 82بم سے ملتا جلتا ہے جو ڈیزی کٹر کے نام سے جانا جاتا ہے، امریکا نے ڈیزی کٹر بم ویت نام اور عراق میں استعمال کیا تھا۔

جی بی یو 43بم بھی عراق جنگ ہی کے دنوں میں تیار کیا گیا تھا، امریکا اپنے دشمنوں کے خلاف بی 52، بی ٹو اور بی ون بم بھی استعمال کرتا رہا ہے جن کا وزن 5سو پاوﺅنڈ سے 2ہزار پاوﺅنڈ تک ہوتا تھا، یہ بم بھی بہت خطرناک ثابت ہوئے مگر اب ننگرہار میں جو بم استعمال کیا گیا ہے اس کا وزن 26ہزار 6سو پاﺅنڈ ہے۔دنیا میں سب سے پہلے ایٹم بم استعمال کرنے والے ملک امریکا نے دنیا کا سب سے بڑا نان نیوکلیئر ببھی سب سے پہلے استعمال کر لیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ہونے والے جانی نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ جی بی یو 43 بم ننگر ہار میں داعش کے زیر استعمال سرنگوں پر چلایا گیا ہے۔ ان سرنگوں کے ذریعے داعش کے جنگجو آزادانہ نقل و حرکت کرتے اور انہیں محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔

مزید :

بین الاقوامی -