”صرف بابر اعظم ہی کافی نہیں بلکہ عبدالرزاق۔۔۔“ شاہد آفریدی نے نئے روپ میں سامنے آنے کی تیاری شروع کر دی

”صرف بابر اعظم ہی کافی نہیں بلکہ عبدالرزاق۔۔۔“ شاہد آفریدی نے نئے روپ میں ...
”صرف بابر اعظم ہی کافی نہیں بلکہ عبدالرزاق۔۔۔“ شاہد آفریدی نے نئے روپ میں سامنے آنے کی تیاری شروع کر دی

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سٹار آل راﺅنڈر بوم بوم آفریدی نے انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہہ دینے کے بعد اب ایک نئے روپ میں سامنے آنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ انہوں نے جلد ہی ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی ٹیم میں صرف بابر اعظم ہی کافی نہیں ہیں بلکہ عبدالرزاق کی طرح کھیل کا پانسہ پلٹ دینے کی صلاحیت رکھنے والوں کی بھی ضرورت ہے۔

ٹروکالر کی نئی ایپلیکیشن متعارف، گوگل ڈو کیساتھ انضمام کا بھی اعلان

تفصیلات کے مطابق شاہد آفریدی نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملکی کرکٹ میں جارحانہ انداز سے کھیلنے والے بیٹسمینوں کی کمی پوری کرنے کا بیڑا اٹھانے کا اعلان کیا اور کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو جدید دور کی کرکٹ اپنانے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ایک ایسا آل راو¿نڈر بھی ہو جو لوئر مڈل آرڈر میں عبدالرزاق کی طرح کھیل کا پانسہ پلٹ دینے کی صلاحیت رکھتا ہو اور اننگز کے اختتامی اوورز میں بڑے شاٹس بھی کھیل سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ٹیم میں ایسے کھلاڑیوں کی بہت زیادہ کمی محسوس ہو رہی ہے جو مشکل وقت میں بڑے شاٹس کھیل کر ٹیم کو میچ جتوانے میں کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر قومی ٹیم عالمی کرکٹ کے بڑے حریفوں کیخلاف جیت کو یقینی بنانا چاہتی ہے تو پھر کھلاڑیوں کو جدید دور کی کرکٹ کھیلنا ہو گی۔

بوم بوم آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو اچھے بیٹسمینوں کی بھی ضرورت ہے کیونکہ صرف بابر اعظم کا ہونا ہی کافی نہیں لہٰذا وہ بھی جلد کراچی میں ایک ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کا آغاز کریں گے جس میں اولین کوشش پاور ہٹرز کو سامنے لانے سے متعلق ہوگی، جو بڑے سٹروکس کھیلنے اور کسی بھی وقت لمبے چھکے بھی لگا سکیں۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ پی سی بی کو انڈر 19اور اے ٹیم کے زیادہ سے زیادہ دورے کرانے کا مشورہ دیں گے، بالخصوص پاکستان کے نوجوان کرکٹرز کو آسٹریلی ااور جنوبی افریقہ کی کنڈیشنز میں زیادہ سے زیادہ کھیلنے کا موقع دینے کا کہیں گے تا کہ وہ پاکستانی ٹیم کیلئے مشکل صورتحال میں کھیلنے کا پہلے سے تجربہ حاصل کر سکیں۔

مزید :

کھیل -