چوری حرام ڈاکا حلال

چوری حرام ڈاکا حلال
چوری حرام ڈاکا حلال

  



آپ ڈاکٹر عاصم کی مثال ہی لے لیجئے۔27اگست 2015کو رینجرز نے ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کیا۔ انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت نے 90روز کا ریمانڈ دیدیااور پھر کرپشن ،دہشت گردی ،اختیارات کے ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ کیسز کا تابوت کھل گیا۔ڈاکٹر عاصم پر مشتبہ دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کو نارتھ ناظم آباد اور کلفٹن کے ضیا الدین ہسپتال میں علاج کی سہولیات فراہم کرنے کا الزام تھا۔اس کے علاوہ مئی 2016میں نیب نے ڈاکٹر عاصم پر کرپشن کے الزامات کے حوالے سے4کھرب اور62ارب روپے کا کرپشن ریفرنس عدالت میں جمع کرو ا دیا۔وہ ضیا الدین ہسپتال کی زمین کے حصول کیلئے اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال ،سوئی گیس کنکشن میں کمیشن حاصل کرنے اور اس کمیشن کو غیر قانونی طریقے سے ملک سے باہر بھجوانے میں بھی ملوث پائے گئے ۔ڈاکٹر عاصم پرپی ایس او اور ایس ایس جی سی میں 250لوگوں کی غیر قانونی بھرتیوں کا الزام تھا۔ڈاکٹر صاحب نے پی ایم ڈی سی میں قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑادیں۔انھوں نے غیر قانونی طریقے سے میڈیکل کالجز کی رجسٹریشن کی اور ان سے بھاری بھرکم کمیشن بھی وصول کرتے رہے ۔آپ اس بات کی حقیقت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ڈاکٹر عاصم سے پہلے ملک میں گورنمنٹ اور پرائیویٹ سیکٹر میں صرف 28میڈیکل کالجز تھے اور ڈاکٹر عاصم کے دور میں صرف پانچ سال میں ان کی تعداد بڑھ کر 127ہو گئی۔ ڈاکٹر صاحب نے ناظم آباد میں پلاٹ نمبر E-40/1چیریٹی کا کام کرنے کیلئے حاصل کیالیکن کاغذات میں ردوبدل کرکے ا س زمین کو نرسنگ سکول کی شکل میں کمرشل مقاصد کیلئے استعمال کرتے رہے۔ اس کے علاوہ کلفٹن میں 2.8ایکڑ پلاٹ ST-4اور sq ft ST-8/B/1-908فلاحی کاموں کیلئے حاصل کیا اور بعد ازاں کاغذات میں ہیر پھیر کرکے انہیں کمرشل کاموں کیلئے استعمال کرتے رہے اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ایس ایس پی ساؤتھ ،سی ٹی ڈی ،رینجرز انٹیلی جنس،ایم آئی اور یہاں تک کہ آئی ایس آئی نے بھی ڈاکٹر عاصم کومتفقہ رائے سے بلیک کیٹیگری کرمینل قرار دیدیا تھا۔ان الزمات کے بعد ڈاکٹر عاصم کا رہا ہونا بظاہر ناممکن نظر آ رہا تھا۔ 

عوام کا خیال تھا ڈاکٹر عاصم کو ان کے گناہوں کی سزا ضرور ملے گی ۔وہ سوچ رہے تھے ڈاکٹر عاصم کو عبرت کا نشان ضرور بنایا جائے گا اور یہ کیس ملک کی تقدیر بدل کر رکھ دے گا اور یہاں سے کرپشن کا راستہ رک جائے گا۔ لیکن تمام امیدیں دھری کی دھری رہ گئیں اور پھر وہ ہو گیا جو 69 سالوں سے پاکستان میں ہوتا آ رہا ہے۔ ملک پاکستان کے سرکاری ہسپتال کے سب سے بڑے ڈاکٹر نے رپورٹ تیا ر کی کہ ڈاکٹر عاصم کے بنائے گئے ایک سو میڈیکل اور ڈینٹل ہسپتالوں سمیت پاکستان کے کسی بھی ہسپتال میں ڈا کٹر صا حب کے دل کا علاج ممکن نہیں۔رہی سہی کسر نو رکنی ڈاکٹرز کی ٹیم نے پوری کر دی۔ بورڈ نے رپورٹ دی کہ ڈاکٹر عاصم کی ڈسک ری پلیسمنٹ پاکستان میں ممکن نہیں اور اگر ان کی ڈسک فوری ریپلیس نہ کی گئی تو یہ معذور ہو جائینگے ۔رپورٹ عدالت کے سامنے پیش ہوئی اور 462ارب روپے کی کرپشن میں ملوث ڈاکٹر عاصم ہمارے انصاف کے نظام کو آنکھیں دکھاتے اور منہ چڑاتے ہوئے رہا ہو گئے اور پوری دنیا کو یقین دلا گئے کہ کرپشن کرنے کیلئے پاکستان دنیا کا سب سے محفوظ ترین ملک ہے۔آپ کسی دن فر صت کے لمحات میں ان حقائق کو سامنے رکھیں اور سو چیں کہ کیوں ڈاکٹر عاصم پاکستان کی سب سے بڑی کرپشن کے مرتکب ہوئے؟ کس طرح شرجیل میمن اربوں روپے گھر میں چھپا کر بیٹھے رہے؟ کس طرح ایان علی کرپشن کی دولت ملک سے باہر لے جاتی رہی ۔؟کس طرح نواز شریف نے اربوں روپے کے لندن فلیٹس خرید لیے ؟ نواز حکومت کی کس طرح جرأ ت ہو گئی کہ وہ اپنی شوگر ملیں غیر قانونی طور پر جنوبی پنجاب میں منتقل کرسکیں؟ کس طرح خواجہ آصف نے اسمبلی کے فلور پر کھڑا ہو کر کہہ دیا کہ وزیر اعظم صاحب آپ گھبرائیں نہیں عوام کا حافظہ کمزور ہے وہ جلدی پاناما کو بھول جائیں گے ؟ نندی پور پاور پراجیکٹ کا ریکارڈاور الیکشن سے چند دن پہلے میٹرو بس کا سارا ریکارڈ کیسے جل گیا ؟مجھے یقین ہے کہ آپ کے پاس شیشے میں اپنا چہرہ دیکھنے اور خود کو مورد الزام ٹھہرانے کے علاوہ کوئی اور جواب نہیں ہو گااور آپ اس بات پر مجھ سے اتفاق کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے کہ ہمارے حکمرانوں کی یہ ہمت صرف اس وجہ سے بنتی ہے کیونکہ ہماری عوام گونگی ،اندھی اور بہری ہو گئی ہے۔ ہم نے ہمارے حق پر ڈاکامارنے وا لوں کے خلاف اپنی آنکھیں بند کرلی ہیں۔ ہم نے اس ملک کے لٹیروں کے خلاف بولنے والی اپنی زبانیں کاٹ ڈالیں ہیں اور ہم نے اپنے ساتھ ہونیوالی ناانصافیوں کی داستان کو سننا حرام سمجھ لیا ہے اور ہمارے اسی رویے کی بدولت ایک طرف ملک پاکستان میں پانچ ہزار کی چوری کے ملزم کوپانچ پانچ سال قید کی سزا سنا دی جاتی ہے، جوتی چور کو سرعام عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے ، ماں کیلئے دوائی چرانے والے پر دہشت گردی کا مقدمہ بنا دیا جاتا ہے ، دو سال کے بچے پر چوری اور دہشت گردی کا پرچہ دے دیا جاتا ہے اوردوسری طرف دن دیہاڑے پاکستانی عوام کے خون پسینے کی کمائی پر ڈاکہ ڈالنے والوں،،یتیموں کے سر سے چھت چھیننے والوں اور مسکینوں کا حق کھانے والوں کوباعزت بری کر دیا جاتا ہے۔

بالاحقا ئق کے پیش نظر اگر آج ہم نے اپنی زمہ داری کا احساس نہ کیا اور کرپشن کے خلاف آواز نہ اٹھائی تو وہ وقت دور نہیں جب میگا کرپشن کرنا ہر پاکستانی کی پہلی اور آخری خواہش بن جائے گا اور ہماری نوجوان نسل کو اس بات کا یقین ہو جائے گا کہ اس ملک میں سیاست سے بہتر کوئی کاروبارنہیں اور میگا کرپشن سے بہتر کوئی نوکری نہیں اور ہماری آنے والی نسلیں بھی یہ کہہ کر رخصت ہو جائیں گی کہ اس ملک کا کچھ نہیں ہوسکتا کیونکہ آج بھی یہاں چوری حرام اور ڈاکا حلال ہے ۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ