’پہلے میں ڈھیروں روپے کماتا تھا لیکن جب سے یہ چیز ملک میں آئی ہے دو وقت کی روٹی کمانا بھی ناممکن ہوگیا ہے‘ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی نے انتہائی دردناک بات کہہ دی، اپنی پریشانی کی ایسی وجہ بتادی کہ جان کر آپ کو بھی بے حد افسوس ہوگا

’پہلے میں ڈھیروں روپے کماتا تھا لیکن جب سے یہ چیز ملک میں آئی ہے دو وقت کی ...

  

جدہ (مانیٹرنگ ڈیسک) عرب ممالک کا رخ کرنے والے پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد ٹیکسی چلا کر اپنی روزی کماتی تھی لیکن موبائل ایپ ٹیکسی سروس کی آمد نے ان محنت کشوں کی روزی پر ایسی لات ماری ہے کہ بیچاروں کے لئے دو وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

سعودی گزٹ کی ایک رپورٹ میں پاکستانی ڈرائیور غلام محی الدین کی حالت زار بیان کی گئی ہے جو ایک سال قبل تک صبح کے 10 بجنے سے پہلے ہی 170 ریال کمالیا کرتے تھے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اب صورتحال یہ ہے کہ شام ڈھلنے پر بھی ان کے پاس بمشکل 100 ریال جمع ہو پاتے ہیں۔ غلام محی الدین نے بتایا کہ انہیں اپنی کمپنی کو روزانہ 170 ریال ادا کرنا ہوتے ہیں لیکن صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ وہ صبح چھ بجے کام کے لئے نکلتے ہیں اور رات کے 12 بجے تک 170 ریال بھی کمانہیں پاتے۔ ان کا کہنا ہے کہ موبائل ایپ ٹیکسی سروس کی آمد کے بعد ان کا روزگار ختم ہوکررہ گیا ہے۔

’اگر مہندی لگاتے وقت اس میں یہ چیز نظر آئے تو ہرگز ہرگز استعمال نہ کریں کیونکہ۔۔۔‘ حکومت نے انتہائی سخت وارننگ جاری کردی، بڑے نقصان سے بچنے کیلئے ضرور عمل کریں

غلام محی الدین نے اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ”مجھے روزانہ اپنی کمپنی کو 170 ریال ادا کرنا ہوتے ہیں جبکہ Uber یا Creem کے لئے ڈرائیونگ کرنے والے کو یہ رقم ادا نہیں کرنا پڑتی۔ میں ان کے ساتھ مقابلہ کیسے کرسکتا ہوں؟“ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں لیموزین کا اب کوئی مستقبل نہیں رہا اور اب وہ اپنی ملازمت تبدیل کرنے پر غور کررہے ہیں۔ ان جیسے دیگر ہزاروں غیر ملکی بھی ٹیکسی ڈرائیونگ کو چھوڑ کر کوئی اور روزگار تلاش کرنے کی فکر میں ہیں، جبکہ کچھ تو ہمیشہ کے لئے اپنے وطن لوٹ جانے کی تیاری کررہے ہیں۔

لیموزین کمپنیوں کو بھی موبائل ایپ ٹیکسی سروس کی آمد کے بعد مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک کمپنی کے سربراہ نے بتایا کہ ”نئی سروس کی آمد کے بعد سعودی عرب میں سفر کا انداز بالکل بدلتا جارہا ہے۔ لوگوں نے بڑے پیمانے پر نئی ٹیکسی سروس کو قبول کیا ہے کیونکہ س میں وقت کی بچت ہے اور یہ سستی بھی پڑتی ہے۔ خصوصاً نوجوان نسل روایتی لیموزین سروس کی بجائے نئی موبائل ایپ ٹیکسی سروس کی جانب زیادہ مائل ہے۔“

پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں سے کس ملک کے شہریوں کو عرب ممالک میں ملازمت حاصل کرنے کیلئے سب سے زیادہ پیسے دینے پڑتے ہیں؟ ایسی حقیقت منظر عام پر آگئی کہ جان کر عرب شہری بھی دنگ رہ گئے

دوسری جانب سعودی حکومت کی بھی کوشش ہے کہ Uber اور Creem جیسی ٹیکسی سروسز کو پوری طرح قومیا لیا جائے۔ حکام پرعزم ہیں کہ اس شعبے میں تمام تر روزگار سعودی شہریوں کو ہی میسر ہو۔ اس وقت بھی 70 فیصد سے زائد ڈرائیور سعودی شہری ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ اگلے تین سال کے دوران نئی ٹیکسی سروس 100 فیصد سعودی شہریوں کے پاس ہوگی۔

مزید :

عرب دنیا -